<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:18:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:18:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کے عدالتی اختیارات غیر آئینی قرار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1091172/</link>
      <description>&lt;p&gt;پشاور ہائیکورٹ نے 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کی جانب سے کسی بھی عدالتی اختیارات کے استعمال کو غیر آئینی قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اس طرح اختیارات کا استعمال عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرنے کے اصول کے خلاف ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1445246/judicial-powers-of-executive-officers-in-tribal-districts-unconstitutional-phc"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیتھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے فیصلہ دیا کہ 20 اکتوبر کو دیے گئے فیصلے کے ایک ماہ بعد قانون کے مطابق سول یا فوجداری نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ کالعدم ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079545"&gt;صدر مملکت کے دستخط سے قبائلی علاقے، خیبرپختونخوا کا حصہ بن گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 20 اکتوبر کو 2 رکنی بینچ نے فاٹا انٹرم گورننس ریگولیشن (ایف آئی جی آر) 2018 کی مختلف دفعات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ’آئینی تقاضے اور آزاد عدلیہ انتظامیہ سے علیحدہ ہے، لہٰذا کوئی بھی ایسے اختیارات کا استعمال جو عدلیہ/ججز کے دائرہ کار میں آتا ہے وہ بھی قانون کی نظر میں کالعدم ہوگا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت کے بینچ نے یہ مشاہدہ کیا کہ 25ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد حکومت نے عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کے لیے کوئی فارمولا تشکیل نہ دینے پر اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ایف آئی جی آر نافذ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’جب 25 ویں آئینی ترمیم (2018 کے ایکٹ نمبر 37) کو متعارف کرایا گیا تو بتایا گیا کہ سول اور فوجداری تنازع میں فیصلے ایک جج کی جانب سے دیے جائیں گے نہ کہ انتظامیہ کی جانب سے اور جیسا کہ نافذ شدہ قوانین 2018 میں کیا گیا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے درخواست گزار وکیل عظیم آفریدی کی درخواست پر مختصر فیصلہ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس میں درخواست گزار نے ایف آئی جی آر کو چیلینج کیا تھا اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ اسے خاص طور پر قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کی جانب سے عدالتی اختیارات کو استعمال کرنے کو غیر آئینی قرار دے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080233"&gt;قبائلی علاقوں میں تحصیل اور اضلاع متعارف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ عمل آئین کے آرٹیکل 175 کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ رواں سال مئی میں صدر مملک کی جانب سے سامراجی دور کے فرنٹئر کرائمز ریگولیشن کو منسوخ کرتے ہوئے ایف آئی جی آر کو نافذ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم عدالتی اختیارات کو انتظامی افسران جن میں سیاسی ایجنٹس (اب ڈپٹی کمشنرز) اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس (اب اسسٹنٹ کمشنر) کو تفویض کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پشاور ہائیکورٹ نے 25ویں آئینی ترمیم کے بعد قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کی جانب سے کسی بھی عدالتی اختیارات کے استعمال کو غیر آئینی قرار دے دیا۔</p>

<p>عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ اس طرح اختیارات کا استعمال عدلیہ کو انتظامیہ سے علیحدہ کرنے کے اصول کے خلاف ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1445246/judicial-powers-of-executive-officers-in-tribal-districts-unconstitutional-phc"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیتھ اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل بینچ نے فیصلہ دیا کہ 20 اکتوبر کو دیے گئے فیصلے کے ایک ماہ بعد قانون کے مطابق سول یا فوجداری نوعیت کا کوئی بھی فیصلہ کالعدم ہوجائے گا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1079545">صدر مملکت کے دستخط سے قبائلی علاقے، خیبرپختونخوا کا حصہ بن گئے</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ 20 اکتوبر کو 2 رکنی بینچ نے فاٹا انٹرم گورننس ریگولیشن (ایف آئی جی آر) 2018 کی مختلف دفعات کو غیر آئینی قرار دیا تھا۔</p>

<p>عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ ’آئینی تقاضے اور آزاد عدلیہ انتظامیہ سے علیحدہ ہے، لہٰذا کوئی بھی ایسے اختیارات کا استعمال جو عدلیہ/ججز کے دائرہ کار میں آتا ہے وہ بھی قانون کی نظر میں کالعدم ہوگا‘۔</p>

<p>عدالت کے بینچ نے یہ مشاہدہ کیا کہ 25ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے پاس ہونے کے بعد حکومت نے عدلیہ اور انتظامیہ کی علیحدگی کے لیے کوئی فارمولا تشکیل نہ دینے پر اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ایف آئی جی آر نافذ کیا۔</p>

<p>عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ’جب 25 ویں آئینی ترمیم (2018 کے ایکٹ نمبر 37) کو متعارف کرایا گیا تو بتایا گیا کہ سول اور فوجداری تنازع میں فیصلے ایک جج کی جانب سے دیے جائیں گے نہ کہ انتظامیہ کی جانب سے اور جیسا کہ نافذ شدہ قوانین 2018 میں کیا گیا ہے‘۔</p>

<p>واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے درخواست گزار وکیل عظیم آفریدی کی درخواست پر مختصر فیصلہ دیا گیا تھا۔</p>

<p>جس میں درخواست گزار نے ایف آئی جی آر کو چیلینج کیا تھا اور عدالت سے درخواست کی تھی کہ وہ اسے خاص طور پر قبائلی علاقوں میں انتظامی افسران کی جانب سے عدالتی اختیارات کو استعمال کرنے کو غیر آئینی قرار دے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080233">قبائلی علاقوں میں تحصیل اور اضلاع متعارف</a></strong></p>

<p>انہوں نے اپنی درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ یہ عمل آئین کے آرٹیکل 175 کی خلاف ورزی ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ رواں سال مئی میں صدر مملک کی جانب سے سامراجی دور کے فرنٹئر کرائمز ریگولیشن کو منسوخ کرتے ہوئے ایف آئی جی آر کو نافذ کیا گیا تھا۔</p>

<p>تاہم عدالتی اختیارات کو انتظامی افسران جن میں سیاسی ایجنٹس (اب ڈپٹی کمشنرز) اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹس (اب اسسٹنٹ کمشنر) کو تفویض کیا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1091172</guid>
      <pubDate>Tue, 13 Nov 2018 10:44:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (وسیم احمد شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bea5d92a8404.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bea5d92a8404.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
