<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:18:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:18:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کو ایف بی آر کی انتظامی و معاشی پالیسی علیحدہ کرنے کی یقین دہانی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1091242/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے انتظامی اور پالیسی امور کو علیحدہ کرنے اور 20 کھرب روپے کی ریکوری کے لیے جامع کوششیں کرنے کی یقین دہائی کروادی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1445486/fbr-policy-administrative-functions-to-separate-in-100-days-imf-assured"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اس تبدیلی کو اپنے دماغ میں رکھتے ہوئے حکومت  نے آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ مالی معاونت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی بنائی ہے تاکہ بیرونی اکاؤنٹ خلا پر قابو رکھا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ 100 روز کے اندر ایف بی آر کے انتظامی اور پالیسی امور کو علیحدہ کردیا جائے گا جبکہ 20 کھرب روپے کی ریکوری کے لیے جامع کوششیں کی جائیں گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ اور آئی ایم ایف کے اجلاس کے دوران موجود حکام نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ فنڈز لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ یہ (اس کی ادائیگی) دیگر کسی بھی ادارے سے سب سے کم ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090957"&gt;’حکومت بین الاقوامی قرض کیلئے منظور کی گئی شرائط واضح کرے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے اپنا حصہ کم سے کم رکھا ہے اور پاکستان سے امید ظاہر کی کہ وہ اپنے ذرائع آمدن کو بڑھائے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے علاوہ حکومت نے دیگر نامور ایجنسیوں اور دوست ممالک سے بھی رابطے کرنا شروع کردیے اور 22 نومبر تک بات چیت ختم ہونے تک آئی ایم ایف کو اس حوالے سے بتایا جاتا رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کے حکام نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے وفود نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک میں معاشی اصلاحات سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا اور جامع اصلاحات پیکیج لانے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے طریقہ کار کو میمورینڈم آف اکانومک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) کے تحت 22 نومبر سے قبل پورا کرلیا جائے گا جسے پہلے وزیِرِ اعظم عمران خان سے منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد اسے آئی ایم ایف حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090788"&gt;آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے لیے بات چیت کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے کا وفد معاہدے کی منظوری کے لیے اسے واشنگٹن میں ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ تھا کہ انہوں نے آئی ایم اے کے سامنے حکومتی اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارتِ خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرِ نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ نئی حکومت ملک میں وسیع پیمانے پر اصلاحات لانے کے ایجنڈے پر ہی اقتدار  میں آئی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسد عمر نے آئی ایم ایف حکام کو بتایا کہ ان کی حکومت غریب عوام اور سماجی اکائیوں کی حفاظت، انسانی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے انتظامی اور پالیسی امور کو علیحدہ کرنے اور 20 کھرب روپے کی ریکوری کے لیے جامع کوششیں کرنے کی یقین دہائی کروادی۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1445486/fbr-policy-administrative-functions-to-separate-in-100-days-imf-assured"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اس تبدیلی کو اپنے دماغ میں رکھتے ہوئے حکومت  نے آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ مالی معاونت حاصل کرنے کی منصوبہ بندی بنائی ہے تاکہ بیرونی اکاؤنٹ خلا پر قابو رکھا جاسکے۔</p>

<p>حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کروائی کہ آئندہ 100 روز کے اندر ایف بی آر کے انتظامی اور پالیسی امور کو علیحدہ کردیا جائے گا جبکہ 20 کھرب روپے کی ریکوری کے لیے جامع کوششیں کی جائیں گی۔ </p>

<p>وزیرِ خزانہ اور آئی ایم ایف کے اجلاس کے دوران موجود حکام نے ڈان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ فنڈز لینے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ یہ (اس کی ادائیگی) دیگر کسی بھی ادارے سے سب سے کم ہے‘۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090957">’حکومت بین الاقوامی قرض کیلئے منظور کی گئی شرائط واضح کرے‘</a></strong></p>

<p>حکام کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے اپنا حصہ کم سے کم رکھا ہے اور پاکستان سے امید ظاہر کی کہ وہ اپنے ذرائع آمدن کو بڑھائے۔ </p>

<p>ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے علاوہ حکومت نے دیگر نامور ایجنسیوں اور دوست ممالک سے بھی رابطے کرنا شروع کردیے اور 22 نومبر تک بات چیت ختم ہونے تک آئی ایم ایف کو اس حوالے سے بتایا جاتا رہے گا۔</p>

<p>وزارتِ خزانہ کے حکام نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے وفود نے حکومتِ پاکستان کی جانب سے ملک میں معاشی اصلاحات سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات کو سراہا اور جامع اصلاحات پیکیج لانے پر بھی رضامندی کا اظہار کیا۔ </p>

<p>ان کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے طریقہ کار کو میمورینڈم آف اکانومک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) کے تحت 22 نومبر سے قبل پورا کرلیا جائے گا جسے پہلے وزیِرِ اعظم عمران خان سے منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جس کے بعد اسے آئی ایم ایف حکام کے حوالے کیا جائے گا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090788">آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج کے لیے بات چیت کا آغاز</a></strong></p>

<p>عالمی مالیاتی ادارے کا وفد معاہدے کی منظوری کے لیے اسے واشنگٹن میں ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کرے گا۔</p>

<p>وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق وزیرِ خزانہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ تھا کہ انہوں نے آئی ایم اے کے سامنے حکومتی اقدامات کو بھی اجاگر کیا۔ </p>

<p>وزارتِ خزانہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیرِ نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ نئی حکومت ملک میں وسیع پیمانے پر اصلاحات لانے کے ایجنڈے پر ہی اقتدار  میں آئی ہے۔ </p>

<p>اسد عمر نے آئی ایم ایف حکام کو بتایا کہ ان کی حکومت غریب عوام اور سماجی اکائیوں کی حفاظت، انسانی ترقی اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1091242</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Nov 2018 11:26:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5beba93000a98.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5beba93000a98.jpg?0.12093390744725241"/>
        <media:title>آئی ایم ایف حکام نے اصلاحات سے متعلق نئی حکومت کی کوششوں کو سراہا — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
