<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 18 May 2026 20:03:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 18 May 2026 20:03:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسیہ بی بی رہائی: پاکستان کا 'نئی امریکی پابندیوں سے بچنے کا امکان'
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1091245/</link>
      <description>&lt;p&gt;واشنگٹن: سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد پاکستان، امریکا کی جانب سے مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نئی پابندیوں سے بچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سفارتی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکا کی جانب سے پاکستان کے مذہبی آزادی سے متعلق نئی پابندیوں سے بچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ جنوری میں امریکا کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے تجویز دی تھی کہ مبینہ ’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں‘ پر پاکستان کو ’تشویشناک ملک‘ قرار دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090332"&gt;امریکا کے مذہبی آزادی کمیشن کا آسیہ بی بی کی بریت پر اظہار اطمینان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ یو ایس سی آئی آر ایف کا طویل عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے لیکن امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان کو کبھی اس طرح کا ملک نامزد نہیں کیا لیکن مذہبی آزادی پر اپنی سالانہ رپورٹ میں کمیشن کی نشاندہی پر روشنی ڈالی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 2016 میں بنائی گئی اپنی نئی درجہ بندی میں واحد اور پہلے ملک کے طور پر پاکستان کو اپنی خصوصی واچ لسٹ میں نامزد کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سال کی رپورٹ میں یہ شکایات کی گئی تھی کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر انتہا پسند گروہوں اور سوسائٹی کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کو حملے کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ملک کے سخت توہین مذہب قانون کے نفاذ کے نتیجے میں مبینہ طور اقلیتوں کے حقوق سلب ہوئے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/"&gt;سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ امریکا کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یو ایس سی آئی آر ایف کے سربراہ نے کہا تھا کہ ’آسیہ بی بی کا کیس واضح کرتا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کو کس حد تک اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 14 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>واشنگٹن: سپریم کورٹ کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی رہائی کے بعد پاکستان، امریکا کی جانب سے مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں کی نئی پابندیوں سے بچ سکتا ہے۔</p>

<p>سفارتی ذرائع کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد امریکا کی جانب سے پاکستان کے مذہبی آزادی سے متعلق نئی پابندیوں سے بچنے کا امکان ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ جنوری میں امریکا کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن (یو ایس سی آئی آر ایف) نے تجویز دی تھی کہ مبینہ ’مذہبی آزادی کی سنگین خلاف ورزیوں‘ پر پاکستان کو ’تشویشناک ملک‘ قرار دیا جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090332">امریکا کے مذہبی آزادی کمیشن کا آسیہ بی بی کی بریت پر اظہار اطمینان</a></strong></p>

<p>اگرچہ یو ایس سی آئی آر ایف کا طویل عرصے سے یہ مطالبہ رہا ہے لیکن امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے پاکستان کو کبھی اس طرح کا ملک نامزد نہیں کیا لیکن مذہبی آزادی پر اپنی سالانہ رپورٹ میں کمیشن کی نشاندہی پر روشنی ڈالی تھی۔</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ برس دسمبر میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 2016 میں بنائی گئی اپنی نئی درجہ بندی میں واحد اور پہلے ملک کے طور پر پاکستان کو اپنی خصوصی واچ لسٹ میں نامزد کیا تھا۔</p>

<p>اس سال کی رپورٹ میں یہ شکایات کی گئی تھی کہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر انتہا پسند گروہوں اور سوسائٹی کی جانب سے مذہبی اقلیتوں کو حملے کا سامنا ہے۔</p>

<p>اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ملک کے سخت توہین مذہب قانون کے نفاذ کے نتیجے میں مبینہ طور اقلیتوں کے حقوق سلب ہوئے‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090238/">سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کو بری کردیا</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ امریکا کے بین الاقوامی مذہبی آزادی کمیشن نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے توہین مذہب کیس میں آسیہ بی بی کی سزائے موت کالعدم قرار دینے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا تھا۔</p>

<p>یو ایس سی آئی آر ایف کے سربراہ نے کہا تھا کہ ’آسیہ بی بی کا کیس واضح کرتا ہے کہ توہین مذہب کے قوانین کو کس حد تک اقلیتی برادری کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے‘۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 14 نومبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1091245</guid>
      <pubDate>Wed, 14 Nov 2018 11:55:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bebc118e2945.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bebc118e2945.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
