<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:10:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:10:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بریگزٹ معاہدے  پر  برطانوی وزیراعظم کو وزرا کے استعفوں کا سامنا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1091377/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر شدید دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بریگزٹ کے سیکریٹری ڈومینک راب نے اپنے عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے مجوزہ معاہدے پر انہیں ‘ لازمی مستعفی‘ ہو جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبررساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق انہوں نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کیے گئے استعفیٰ میں لکھا کہ ’ اپنے منشور کے تحت ملک سے کیے گئے وعدوں کے برخلاف میں اس مجوزہ معاہدے کی شرائط پر مفاہمت نہیں کر سکتا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/DominicRaab/status/1062992019449098241"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل آج ( 15 نومبر) ہی کو ایک جونیئر وزیر شیلش وارا نے بریگزٹ  سے متعلق پیش کیے گئے معاہدے پر حکومت سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیارکرلی کہ اس کی وجہ سے برطانیہ ایک خودمختار قوم نہیں رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شمالی آئرلینڈ کے وزیر شیلش وارا اس مجوزہ معاہدے پر حکومت سے استعفیٰ دینے والیے پہلے رکن بھی تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ اس معاہدے کے بعد برطانوی ایوان آدھا رہ جائے گا جہاں کوئی اس وقت کا تعین نہیں کر سکے گا کہ ہم دوبارہ خودمختار قوم کب بنیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیلش وارا  نے 2016 کے بریگزٹ میں یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کی تھی  جس میں 52 فیصد افراد نے یونین سے علیحدگی کا انتخاب کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ ’ معزز وزیراعظم یہ معاہدہ برطانیہ کو ایک خود مختار اور آزاد ملک نہیں بناتا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیلش وارا نے لکھا کہ ’ ہم ایک بافخر قوم ہیں اور یہ ایک افسوس ناک دن ہے جب ہم دوسرے ممالک کے بنائے گئے قوانین کی وجہ سے کم ہوگئے ہیں جنہوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے دل میں ہمارے لیے جگہ نہیں‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ ہم اس سے زیادہ بہتر کرسکتے ہیں کیونکہ برطانیہ کے عوام بہتری کے مستحق ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ShaileshVara/status/1062971538977234944"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یوگنڈا میں پیدا ہونے والی 58 سالہ شیلیش وارا برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی کنزرویٹو پارٹی کے سابق وائس چیئرمین ہیں اور 2005 میں پارلیمنٹ کے رکن بنے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھریسامے نے گزشتہ روز 5 گھنٹے طویل اجلاس میں معاہدے سے متعلق کابینہ کی رضامندی حاصل کرلی تھی جس کی وجہ سے ان کے اتحادیوں کا علیحدگی کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ،انہیں اپنی ہی پارٹی میں تناؤ کا سامنا ہے جس کے لیے ہاؤس آف کامنز کے اکثریتی ووٹ کی ضرورت نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ 29 مارچ کو بریگزٹ ڈے سے قبل معاہدے کی شرائط کو منظور کروالیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ  ٹسک نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ماہ کے آخر میں تمام رہنماؤں کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی وزیراعظم تھریسامے کو برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے معاملے پر شدید دھچکے کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بریگزٹ کے سیکریٹری ڈومینک راب نے اپنے عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے مجوزہ معاہدے پر انہیں ‘ لازمی مستعفی‘ ہو جانا چاہیے۔</p>

<p>فرانسیسی خبررساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق انہوں نے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر شائع کیے گئے استعفیٰ میں لکھا کہ ’ اپنے منشور کے تحت ملک سے کیے گئے وعدوں کے برخلاف میں اس مجوزہ معاہدے کی شرائط پر مفاہمت نہیں کر سکتا‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/DominicRaab/status/1062992019449098241"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس سے قبل آج ( 15 نومبر) ہی کو ایک جونیئر وزیر شیلش وارا نے بریگزٹ  سے متعلق پیش کیے گئے معاہدے پر حکومت سے یہ کہہ کر علیحدگی اختیارکرلی کہ اس کی وجہ سے برطانیہ ایک خودمختار قوم نہیں رہے گی۔</p>

<p>شمالی آئرلینڈ کے وزیر شیلش وارا اس مجوزہ معاہدے پر حکومت سے استعفیٰ دینے والیے پہلے رکن بھی تھے۔</p>

<p>انہوں نے اپنے استعفیٰ میں لکھا کہ اس معاہدے کے بعد برطانوی ایوان آدھا رہ جائے گا جہاں کوئی اس وقت کا تعین نہیں کر سکے گا کہ ہم دوبارہ خودمختار قوم کب بنیں گے۔</p>

<p>شیلش وارا  نے 2016 کے بریگزٹ میں یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کی تھی  جس میں 52 فیصد افراد نے یونین سے علیحدگی کا انتخاب کیا تھا۔</p>

<p>انہوں نے لکھا کہ ’ معزز وزیراعظم یہ معاہدہ برطانیہ کو ایک خود مختار اور آزاد ملک نہیں بناتا‘۔</p>

<p>شیلش وارا نے لکھا کہ ’ ہم ایک بافخر قوم ہیں اور یہ ایک افسوس ناک دن ہے جب ہم دوسرے ممالک کے بنائے گئے قوانین کی وجہ سے کم ہوگئے ہیں جنہوں نے یہ ظاہر کیا ہے کہ ان کے دل میں ہمارے لیے جگہ نہیں‘۔ </p>

<p>انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ ہم اس سے زیادہ بہتر کرسکتے ہیں کیونکہ برطانیہ کے عوام بہتری کے مستحق ہیں‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ShaileshVara/status/1062971538977234944"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یوگنڈا میں پیدا ہونے والی 58 سالہ شیلیش وارا برطانوی وزیراعظم تھریسامے کی کنزرویٹو پارٹی کے سابق وائس چیئرمین ہیں اور 2005 میں پارلیمنٹ کے رکن بنے تھے۔</p>

<p>تھریسامے نے گزشتہ روز 5 گھنٹے طویل اجلاس میں معاہدے سے متعلق کابینہ کی رضامندی حاصل کرلی تھی جس کی وجہ سے ان کے اتحادیوں کا علیحدگی کا خدشہ مزید بڑھ گیا ہے۔</p>

<p>تاہم ،انہیں اپنی ہی پارٹی میں تناؤ کا سامنا ہے جس کے لیے ہاؤس آف کامنز کے اکثریتی ووٹ کی ضرورت نہیں۔</p>

<p>وہ 29 مارچ کو بریگزٹ ڈے سے قبل معاہدے کی شرائط کو منظور کروالیں گی۔</p>

<p>یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ  ٹسک نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے رواں ماہ کے آخر میں تمام رہنماؤں کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1091377</guid>
      <pubDate>Fri, 16 Nov 2018 14:28:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5beda62f663b1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5beda62f663b1.jpg"/>
        <media:title>برطانوی وزیراعظم کے بریگزٹ کے سیکریٹری ڈومینک راب اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے—فوٹو : اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
