<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:19:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:19:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خسارے سے نمٹنے کیلئے بجلی چوروں اور نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1091478/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: توانائی کے شعبے میں مالی خسارہ  12 کھرب روپے سے تجاوز کرنے کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو واجبات کی وصولی اور حالیہ بلوں کی ادائیگیوں کو 100 فیصد یقینی بنانے  کے حوالے سے خصوصی اہداف دے دیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1446172/with-circular-debt-crossing-rs12tr-firms-told-to-recover-arrears"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کی سربراہی  میں ہونے والے اجلاس میں بجلی کی 6 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)  کو  گزشتہ بلوں کی مد میں 83 ارب روپے کی وصولی کے ہدف دیے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں موجودہ ادائیگیوں کو بھی 100 فیصد بنانے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں وزیراعظم کے تعینات کردہ چیئرمین انرجی ٹاسک فورس ندیم بابر اور پاکستان  الیکٹرک پاور کمپنی اور ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹوز (سی ای اوز) نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088290"&gt;سال 18-2017 میں بجلی چوری 53 ارب روپے تک جا پہنچی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے حوالے سے جاری سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ ادائیگیوں کی رقم کو 31 اکتوبر 2018 پر منجمند کرنے اور  نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)کی جانب سے لائن کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کم کرنے اور 100 فیصد بل وصول کرنے کے متعین کردہ اہداف کے حصول کا فیصلہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ فیصلہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کے تناظر میں کیا گیاجس کے تحت شعبہ توانائی میں مالی خسارے کو پر کرنے کے لیے گزشتہ بلوں کی وصولی کے ذریعے ایک سو 40 ارب روپے کا خلا پر کرنا ہے بصورت دیگر حکومت کو ایک مرتبہ پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس  میں  وزیر توانائی نے سی ای اوز کو  پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ٹاسک فورس برائے توانائی کی مدد سے بجلی چوری کی روک تھام اور غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے میں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیوں کی ہدایت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089975"&gt;پنجاب: بجلی اور گیس چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ا ور نجی صارفین پر 8 سو 70 ارب روپے کے بجلی کے واجبات  باقی ہیں جو خسارے میں اضافے کی ایک بہت نمایاں وجہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ  وزارت توانائی نے ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی نادہندہ کنڈے کے ذریعے بجلی چوری نہ کرسکے اور اس سلسلے میں آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو واجبات کی وصولی کے ساتھ اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تما م وصولیاں شفاف بنیادوں پر کی جائیں اور اہداف کی تکمیل کے ٖیر منصفانہ یا اضافی بل نہ لیے جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086926"&gt;وزارت آئی ٹی کا بجلی چوری کی روک تھام کی ٹیکنالوجی بنانے کا دعویٰ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں وزارت توانائی کے جوائنٹ سیکریٹریز  اور پیپکو کی انتظامیہ کو جامع مانیٹرنگ طریقہ کار بنانے کی ہدایت کی گئی جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تمام سی ای اوز بذاتِ خود بجلی چوری اور کے خلاف اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ سے بھی مشاورت کی جائے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: توانائی کے شعبے میں مالی خسارہ  12 کھرب روپے سے تجاوز کرنے کے بعد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو واجبات کی وصولی اور حالیہ بلوں کی ادائیگیوں کو 100 فیصد یقینی بنانے  کے حوالے سے خصوصی اہداف دے دیے گئے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1446172/with-circular-debt-crossing-rs12tr-firms-told-to-recover-arrears">رپورٹ</a></strong> کے مطابق وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان کی سربراہی  میں ہونے والے اجلاس میں بجلی کی 6 تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز)  کو  گزشتہ بلوں کی مد میں 83 ارب روپے کی وصولی کے ہدف دیے گئے اور اس کے ساتھ ساتھ انہیں موجودہ ادائیگیوں کو بھی 100 فیصد بنانے کی ہدایت کی گئی۔</p>

<p>اجلاس میں وزیراعظم کے تعینات کردہ چیئرمین انرجی ٹاسک فورس ندیم بابر اور پاکستان  الیکٹرک پاور کمپنی اور ڈسکوز کے چیف ایگزیکٹوز (سی ای اوز) نے بھی شرکت کی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088290">سال 18-2017 میں بجلی چوری 53 ارب روپے تک جا پہنچی</a></strong></p>

<p>اجلاس کے حوالے سے جاری سرکاری بیان میں بتایا گیا کہ گزشتہ ادائیگیوں کی رقم کو 31 اکتوبر 2018 پر منجمند کرنے اور  نیشنل پاور ریگولیٹری اتھارٹی(نیپرا)کی جانب سے لائن کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کم کرنے اور 100 فیصد بل وصول کرنے کے متعین کردہ اہداف کے حصول کا فیصلہ کیا گیا۔</p>

<p>مذکورہ فیصلہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنے کے حوالے سے ہونے والی بات چیت کے تناظر میں کیا گیاجس کے تحت شعبہ توانائی میں مالی خسارے کو پر کرنے کے لیے گزشتہ بلوں کی وصولی کے ذریعے ایک سو 40 ارب روپے کا خلا پر کرنا ہے بصورت دیگر حکومت کو ایک مرتبہ پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے گا۔</p>

<p>اجلاس  میں  وزیر توانائی نے سی ای اوز کو  پنجاب اور خیبر پختونخوا میں ٹاسک فورس برائے توانائی کی مدد سے بجلی چوری کی روک تھام اور غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے میں اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائیوں کی ہدایت کی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089975">پنجاب: بجلی اور گیس چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز</a></strong> </p>

<p>اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ سرکاری ا ور نجی صارفین پر 8 سو 70 ارب روپے کے بجلی کے واجبات  باقی ہیں جو خسارے میں اضافے کی ایک بہت نمایاں وجہ ہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ  وزارت توانائی نے ڈسکوز کو ہدایت کی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی نادہندہ کنڈے کے ذریعے بجلی چوری نہ کرسکے اور اس سلسلے میں آپریشن کو مزید تیز کیا جائے۔</p>

<p>بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو واجبات کی وصولی کے ساتھ اس بات کی بھی ہدایت کی گئی ہے کہ تما م وصولیاں شفاف بنیادوں پر کی جائیں اور اہداف کی تکمیل کے ٖیر منصفانہ یا اضافی بل نہ لیے جائیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1086926">وزارت آئی ٹی کا بجلی چوری کی روک تھام کی ٹیکنالوجی بنانے کا دعویٰ</a></strong> </p>

<p>اجلاس میں وزارت توانائی کے جوائنٹ سیکریٹریز  اور پیپکو کی انتظامیہ کو جامع مانیٹرنگ طریقہ کار بنانے کی ہدایت کی گئی جس سے اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ تمام سی ای اوز بذاتِ خود بجلی چوری اور کے خلاف اقدامات کا جائزہ لے رہے ہیں جبکہ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ سے بھی مشاورت کی جائے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1091478</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Nov 2018 13:37:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bef89246b913.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bef89246b913.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
