<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:26:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:26:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ کیلئے داعش سے کہیں بڑا خطرہ روس ہے، برطانوی آرمی چیف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1092020/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی آرمی چیف جنرل مارک کارلیٹن اسمتھ نے کہا ہے کہ برطانوی سلامتی کے لیے اس وقت داعش سے کہیں بڑا خطرہ روس ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیلی ٹیلی گراف کو ایک &lt;a href="https://www.telegraph.co.uk/news/2018/11/23/russia-poses-greater-threat-britain-isil-says-new-army-chief/"&gt;&lt;strong&gt;انٹرویو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں جنرل مارک کارلیٹن اسمتھ نے کہا کہ برطانیہ کے لیے اس وقت روس بلا مبالغہ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں سے بھی ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنرل مارک نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ‘یہ اہم ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادی روس کے خطرے سے مطمئن نہیں تھے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ‘روس کو جہاں کہیں بھی کمزوری یا کمی نظرآئی اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075090"&gt;برطانیہ کا 23 روسی سفارتی اہلکاروں کو واپس بھیجنے کااعلان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘روس نے مغرب کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک سسٹم کے تحت کوشش کی بالخصوص سائبر، اسپیس اور سمندر کے اندر غیر روایتی طریقے اپنائے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں سال جون میں آرمی چیف بننے والے برطانوی جنرل نے کہا کہ ‘ہم روس کے حوالے سے کسی طور مطمئن نہیں رہ سکتے یا اس کو بلاحجت نہیں چھوڑ سکتے’۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ برطانیہ نے گزشتہ برس روس پر سائبر حملوں کے الزامات عائد کیے تھے جبکہ رواں سال مارچ میں ایم آئی 6 کے ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075751"&gt;یورپین ممالک کی برطانیہ سے اظہار یک جہتی، روسی سفارت کار معطل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ نے روس کے سفارتی عملے میں شامل کئی افراد کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے جواب میں روس نے بھی کئی برطانوی عہدیداروں کو واپس بھیج دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس نے برطانی آرمی چیف کے حالیہ بیان کو مسترد کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ میں قائم روسی سفارت خانے کی جانب سے ٹویٹر پر جاری بیان میں برطانوی آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RussianEmbassy/status/1066292474455490562"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روس سفارت خانے سے جاری ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘برطانیہ کی متحرک کوششوں کے باوجود روس اور شام نے آئی ایس آئی ایس کو شکست دی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘برطانیہ کو عسکری اخراجات اور 2000 کی دہائی میں برطانیہ کی سرحدوں سے باہر واقعات میں مسلسل ملوث ہونے کی وضاحت کے لیے ایک نئے دشمن کی ضرورت ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/RussianEmbassy/status/1066379102293319680"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی آرمی چیف جنرل مارک کارلیٹن اسمتھ نے کہا ہے کہ برطانوی سلامتی کے لیے اس وقت داعش سے کہیں بڑا خطرہ روس ہے۔</p>

<p>ڈیلی ٹیلی گراف کو ایک <a href="https://www.telegraph.co.uk/news/2018/11/23/russia-poses-greater-threat-britain-isil-says-new-army-chief/"><strong>انٹرویو</strong></a> میں جنرل مارک کارلیٹن اسمتھ نے کہا کہ برطانیہ کے لیے اس وقت روس بلا مبالغہ القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں سے بھی ایک بڑا سیکیورٹی خطرہ ہے۔</p>

<p>جنرل مارک نے آرمی چیف کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ‘یہ اہم ہے کہ برطانیہ اور اس کے اتحادی روس کے خطرے سے مطمئن نہیں تھے’۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ‘روس کو جہاں کہیں بھی کمزوری یا کمی نظرآئی اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتا ہے’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075090">برطانیہ کا 23 روسی سفارتی اہلکاروں کو واپس بھیجنے کااعلان</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘روس نے مغرب کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک سسٹم کے تحت کوشش کی بالخصوص سائبر، اسپیس اور سمندر کے اندر غیر روایتی طریقے اپنائے’۔</p>

<p>رواں سال جون میں آرمی چیف بننے والے برطانوی جنرل نے کہا کہ ‘ہم روس کے حوالے سے کسی طور مطمئن نہیں رہ سکتے یا اس کو بلاحجت نہیں چھوڑ سکتے’۔ </p>

<p>یاد رہے کہ برطانیہ نے گزشتہ برس روس پر سائبر حملوں کے الزامات عائد کیے تھے جبکہ رواں سال مارچ میں ایم آئی 6 کے ایجنٹ اور ان کی بیٹی کو زہر دینے کا الزام عائد کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075751">یورپین ممالک کی برطانیہ سے اظہار یک جہتی، روسی سفارت کار معطل</a></strong></p>

<p>برطانیہ نے روس کے سفارتی عملے میں شامل کئی افراد کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا حکم دیا تھا جس کے جواب میں روس نے بھی کئی برطانوی عہدیداروں کو واپس بھیج دیا تھا۔</p>

<p>روس نے برطانی آرمی چیف کے حالیہ بیان کو مسترد کردیا ہے۔</p>

<p>برطانیہ میں قائم روسی سفارت خانے کی جانب سے ٹویٹر پر جاری بیان میں برطانوی آرمی چیف کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RussianEmbassy/status/1066292474455490562"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>روس سفارت خانے سے جاری ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘برطانیہ کی متحرک کوششوں کے باوجود روس اور شام نے آئی ایس آئی ایس کو شکست دی ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘برطانیہ کو عسکری اخراجات اور 2000 کی دہائی میں برطانیہ کی سرحدوں سے باہر واقعات میں مسلسل ملوث ہونے کی وضاحت کے لیے ایک نئے دشمن کی ضرورت ہے’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/RussianEmbassy/status/1066379102293319680"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1092020</guid>
      <pubDate>Sun, 25 Nov 2018 01:16:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bf9b2803aa3a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bf9b2803aa3a.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:بشکریہ بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
