<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:10:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:10:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1092251/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/5WE1KgTxYSo?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس اطہر من اللہ سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز موجود تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ جسٹس اطہر من اللہ جنوری 2011 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی دوبارہ بحالی کے بعد سے اب تک کے تیسرے چیف جسٹس ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089763"&gt;جسٹس اطہر من اللہ کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بنانے کیلئے اجلاس طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں قائم کی گئی تھی اور سردار محمد اسلم یہاں کے پہلے چیف جسٹس تھے، جو بعد میں ترقی پا کر سپریم کورٹ کے جج بنے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد بلال خان اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 31 جولائی 2009 کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے 100 ججز کو برطرف کردیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بعد ازاں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اسے بحال کیا گیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ 2010 کو نافذ کیا گیا، جو صوبے اور دیگر علاقوں سے ایک چیف جسٹس اور 6 ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرری کا اختیار دیتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کی بحالی کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے ایک اور جج اقبال حمید الرحمٰن کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تقرر کیا گیا، جو فروری 2013 میں ترقی پاکر سپریم کورٹ چلے گئے تھے، جس کے بعد جسٹس انور کانسی کو ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے قبل ہائیکورٹ کی سنیارٹی فہرست میں جسٹس اطہر من اللہ تیسرے نمبر پر تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ملک کی سب سے اعلیٰ خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے بارے میں متنازع بیان کے بعد گزشتہ ماہ شوکت عزیز صدیقی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا، جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ سینئر جج بن گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر جسٹس اطہر من اللہ کی بات کی جائے تو وہ نصر من اللہ کے بڑے بیٹے ہیں، جو 60 اور 70 کی دہائی میں کمشنر رہے تھے، اس کے علاوہ جسٹس اطہر من اللہ جسٹس صفدر شاہ کے داماد بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ جسٹس صفدر شاہ اس بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی تھی، تاہم انہوں نے فیصلے کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا تھا.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090586"&gt;جسٹس اطہر من اللہ کی گلالئی اسمٰعیل کی درخواست سننے سے معذرت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان کسٹم جوائن کیا اور وہاں اعلیٰ عہدے پر رہے لیکن بعد میں وہاں سے استعفیٰ دے کر قانون کی پریکٹس شروع کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی کے وقت میں وکلاء تحریک میں شامل ہوئے اور عدلیہ کی بحالی کی جدو جہد کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد انہوں نے ضرورت سے زیاد ازخود نوٹس لینے پر عدلیہ کی مخالفت کی اور موقف اپنایا کہ اس طرح معمول کے مقدمات میں التوا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں جون 2014 میں جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج تقرر ہوئے اور وہ اعلیٰ عدلیہ میں بہترین ججوں میں سے ایک تصور کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/5WE1KgTxYSo?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جسٹس اطہر من اللہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔</p>

<p>وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس اطہر من اللہ سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔</p>

<p>حلف برداری کی یہ تقریب ایوان صدر میں منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز موجود تھے۔</p>

<p>یاد رہے کہ جسٹس اطہر من اللہ جنوری 2011 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی دوبارہ بحالی کے بعد سے اب تک کے تیسرے چیف جسٹس ہوں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089763">جسٹس اطہر من اللہ کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ بنانے کیلئے اجلاس طلب</a></strong></p>

<p>اسلام آباد ہائیکورٹ، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور حکومت میں قائم کی گئی تھی اور سردار محمد اسلم یہاں کے پہلے چیف جسٹس تھے، جو بعد میں ترقی پا کر سپریم کورٹ کے جج بنے تھے۔</p>

<p>ان کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محمد بلال خان اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بنائے گئے تھے۔</p>

<p>خیال رہے کہ 31 جولائی 2009 کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے 100 ججز کو برطرف کردیا تھا اور اسلام آباد ہائیکورٹ کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔</p>

<p>تاہم بعد ازاں 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اسے بحال کیا گیا اور اسلام آباد ہائیکورٹ ایکٹ 2010 کو نافذ کیا گیا، جو صوبے اور دیگر علاقوں سے ایک چیف جسٹس اور 6 ججز کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں تقرری کا اختیار دیتا تھا۔</p>

<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کی بحالی کے بعد لاہور ہائیکورٹ کے ایک اور جج اقبال حمید الرحمٰن کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تقرر کیا گیا، جو فروری 2013 میں ترقی پاکر سپریم کورٹ چلے گئے تھے، جس کے بعد جسٹس انور کانسی کو ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا۔</p>

<p>یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے قبل ہائیکورٹ کی سنیارٹی فہرست میں جسٹس اطہر من اللہ تیسرے نمبر پر تھے۔</p>

<p>تاہم ملک کی سب سے اعلیٰ خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے بارے میں متنازع بیان کے بعد گزشتہ ماہ شوکت عزیز صدیقی کو ان کے عہدے سے برطرف کردیا گیا تھا، جس کے بعد جسٹس اطہر من اللہ سینئر جج بن گئے تھے۔</p>

<p>اگر جسٹس اطہر من اللہ کی بات کی جائے تو وہ نصر من اللہ کے بڑے بیٹے ہیں، جو 60 اور 70 کی دہائی میں کمشنر رہے تھے، اس کے علاوہ جسٹس اطہر من اللہ جسٹس صفدر شاہ کے داماد بھی ہیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ جسٹس صفدر شاہ اس بینچ کا حصہ تھے جنہوں نے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا دی تھی، تاہم انہوں نے فیصلے کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا تھا.</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090586">جسٹس اطہر من اللہ کی گلالئی اسمٰعیل کی درخواست سننے سے معذرت</a></strong></p>

<p>ابتدائی طور پر جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان کسٹم جوائن کیا اور وہاں اعلیٰ عہدے پر رہے لیکن بعد میں وہاں سے استعفیٰ دے کر قانون کی پریکٹس شروع کی۔</p>

<p>اس کے بعد وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی کے وقت میں وکلاء تحریک میں شامل ہوئے اور عدلیہ کی بحالی کی جدو جہد کی۔</p>

<p>تاہم افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد انہوں نے ضرورت سے زیاد ازخود نوٹس لینے پر عدلیہ کی مخالفت کی اور موقف اپنایا کہ اس طرح معمول کے مقدمات میں التوا ہوتا ہے۔</p>

<p>بعد ازاں جون 2014 میں جسٹس اطہر من اللہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج تقرر ہوئے اور وہ اعلیٰ عدلیہ میں بہترین ججوں میں سے ایک تصور کیے جاتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1092251</guid>
      <pubDate>Wed, 28 Nov 2018 14:38:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5bfe47f1c190f.png?r=1355706725" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5bfe47f1c190f.png?r=1864666958"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
