<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 02:50:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 02:50:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے ٹیکس گوشوارے نہ رکھنے والے 20 ہزار مالدار افراد کا سراغ لگالیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1092396/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: حکومت کے ابتدائی 100 روز کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس گوشوارے نہ رکھنے والے 20 ہزار مالدار افراد کی نشاندہی کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے 6 شعبہ جات کے بارے میں حکومت کی 100 روزہ کارکردگی اجاگر کرنے کے لیے 68 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی گئیں جس میں معیشت کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق نان فائلر افراد کے خلاف مہم میں ایف بی آر نے بھاری مالیت کے ٹھوس اثاثہ جات رکھنے والے 3 ہزار سے زائد افراد کو نوٹسز جاری کیے، جن کے بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں عالیشان مکانات بھی تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092208"&gt;ٹیکس گوشوارے تاخیر سے جمع کرانے والے تنخواہ داروں پر جرمانہ ختم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں صرف 72 ہزار لوگوں نے اپنی آمدنی 2 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی ہے، اس معمولی تعداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اتنے افراد تو صرف اسلام آباد میں ہوں گے جن کی آمدنی 2 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں ایف بی آر کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس کے اکھٹے کیے گئے اعداد و شمار بھی شامل تھے جو ٹیکس کی معلومات کے تبادلے کے کثیر الجہتی کنوینشن کے تحت 29 ممالک سے حاصل کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے منظور کردہ حالیہ ٹیکس پالیسی کے تحت حکومت بینک سے رقوم کی منتقلی پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم اور بینکنگ سیکٹر، کم قیمت ہاؤسنگ اور ذراعت پر نافذ کردہ ٹیکس کم  کرنا چاہتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092249"&gt;عمران خان کی حکومت کے 100 دن اور معاشی اعشاریے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں صوبوں کی جانب سے انکم ٹیکس، ٹیکس سے استثنیٰ پر نظرِ ثانی اور مستقبل میں ٹیکس استثنیٰ کو روکنے  کے اقدمات کا ذکر بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں حکومت کی ایڈہاک ٹیکس پالیسیوں کو درمیانی مدت کے پالیسی فریم ورک سے تبدیل کرنے اور اس بارے میں سالانہ بجٹ کی رہنمائی کے لیے بھی نشاندہی کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ مذکورہ رپورٹ میں ٹیکس اصلاحات کے لیے 3 سالہ روڈ میپ بھی دیا گیا جس میں انتظامی اقدامات کے تحت کاروباری معاملا ت کو ڈیجیٹلائز کرنا، صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات بہتر کرنا، ٹیکس دہندگان اور وصول کنندگان کے درمیان انٹر فیس کو کم کرنا، کسٹم کے لیے واحد قومی اتھارٹی، ٹیکس جمع کرنے والوں، انسپکٹروں اور آڈیٹروں کے صوابدیدی اختیار کو کم کرنا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں؛ &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088275"&gt;ٹیکس نادہندگان کے خلاف ایف بی آر کی بڑی کارروائی کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان اقدمات میں ایف بی آر کے انٹرنل آڈٹ ونگ میں اصلاحات بھی شامل ہیں جسے بعد ازاں وزیر اعظم ہاؤس سے منسلک کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان اصلاحات میں ٹیکس قوانین کو سادہ بنانا اور صوبوں میں ٹیکس جمع کرنے کے لیے ون ونڈو نظام متعارف کروانا بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: حکومت کے ابتدائی 100 روز کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس گوشوارے نہ رکھنے والے 20 ہزار مالدار افراد کی نشاندہی کردی۔</p>

<p>اس حوالے سے 6 شعبہ جات کے بارے میں حکومت کی 100 روزہ کارکردگی اجاگر کرنے کے لیے 68 صفحات پر مشتمل دستاویز جاری کی گئیں جس میں معیشت کی بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کیا گیا تھا۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق نان فائلر افراد کے خلاف مہم میں ایف بی آر نے بھاری مالیت کے ٹھوس اثاثہ جات رکھنے والے 3 ہزار سے زائد افراد کو نوٹسز جاری کیے، جن کے بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں عالیشان مکانات بھی تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092208">ٹیکس گوشوارے تاخیر سے جمع کرانے والے تنخواہ داروں پر جرمانہ ختم</a></strong> </p>

<p>مذکورہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان میں صرف 72 ہزار لوگوں نے اپنی آمدنی 2 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی ہے، اس معمولی تعداد کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اتنے افراد تو صرف اسلام آباد میں ہوں گے جن کی آمدنی 2 لاکھ روپے یا اس سے زائد ہوگی۔</p>

<p>رپورٹ میں ایف بی آر کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس کے اکھٹے کیے گئے اعداد و شمار بھی شامل تھے جو ٹیکس کی معلومات کے تبادلے کے کثیر الجہتی کنوینشن کے تحت 29 ممالک سے حاصل کیے گئے تھے۔</p>

<p>رپورٹ میں یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے منظور کردہ حالیہ ٹیکس پالیسی کے تحت حکومت بینک سے رقوم کی منتقلی پر ود ہولڈنگ ٹیکس ختم اور بینکنگ سیکٹر، کم قیمت ہاؤسنگ اور ذراعت پر نافذ کردہ ٹیکس کم  کرنا چاہتی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092249">عمران خان کی حکومت کے 100 دن اور معاشی اعشاریے</a></strong> </p>

<p>رپورٹ میں صوبوں کی جانب سے انکم ٹیکس، ٹیکس سے استثنیٰ پر نظرِ ثانی اور مستقبل میں ٹیکس استثنیٰ کو روکنے  کے اقدمات کا ذکر بھی کیا گیا۔</p>

<p>رپورٹ میں حکومت کی ایڈہاک ٹیکس پالیسیوں کو درمیانی مدت کے پالیسی فریم ورک سے تبدیل کرنے اور اس بارے میں سالانہ بجٹ کی رہنمائی کے لیے بھی نشاندہی کی گئی۔</p>

<p>اس کے علاوہ مذکورہ رپورٹ میں ٹیکس اصلاحات کے لیے 3 سالہ روڈ میپ بھی دیا گیا جس میں انتظامی اقدامات کے تحت کاروباری معاملا ت کو ڈیجیٹلائز کرنا، صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات بہتر کرنا، ٹیکس دہندگان اور وصول کنندگان کے درمیان انٹر فیس کو کم کرنا، کسٹم کے لیے واحد قومی اتھارٹی، ٹیکس جمع کرنے والوں، انسپکٹروں اور آڈیٹروں کے صوابدیدی اختیار کو کم کرنا شامل ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں؛ <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088275">ٹیکس نادہندگان کے خلاف ایف بی آر کی بڑی کارروائی کا آغاز</a></strong></p>

<p>ان اقدمات میں ایف بی آر کے انٹرنل آڈٹ ونگ میں اصلاحات بھی شامل ہیں جسے بعد ازاں وزیر اعظم ہاؤس سے منسلک کیا جائے گا۔</p>

<p>ان اصلاحات میں ٹیکس قوانین کو سادہ بنانا اور صوبوں میں ٹیکس جمع کرنے کے لیے ون ونڈو نظام متعارف کروانا بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1092396</guid>
      <pubDate>Fri, 30 Nov 2018 13:43:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5c00f1ca56037.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5c00f1ca56037.jpg"/>
        <media:title>پاکستان میں صرف 72 ہزار لوگوں نے اپنی آمدنی 2 لاکھ روپے سے زائد ظاہر کی ہے—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
