<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:34:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:34:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی این این نے فلسطین کی حمایت پر تبصرہ نگار کو برطرف کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1092439/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' نے اقوام متحدہ میں یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر اسرائیل کے حوالے سے تنقیدی تقریر کرنے پر ریسرچ اسکالر مارک لیماؤنٹ ہل کو نوکری سے برخاست کر دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق سی این این کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مارک لیماؤنٹ ہل معاہدے کے تحت اب ادارے کا حصہ نہیں رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی این این کی جانب سے ان کی برطرفی کے حوالے سے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن یہ فیصلہ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) اور دیگر گروپس کی جانب سے مارک لیماؤنٹ ہل کی تقریر پر اعتراض کے بعد کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مارک لیماؤنٹ ہل ٹیمپل یونیورسٹی میں میڈیا اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور سی این این میں سیاسی معاملات پر تبصرے کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087985"&gt;اقتدار ملاتو فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، سربراہ لیبر پارٹی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارک لیماؤنٹ ہل نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں عالمی برادری سے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں پر روشنی ڈالی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس موقع صرف الفاظ کے ذریعے یکجہتی کا نہیں ہے بلکہ سیاسی کارروائی کے علاوہ عملی اقدامات، مقامی اور عالمی سطح پر کارروائی کریں جو ہمیں انصاف کے تقاضوں کی جانب ابھارتا ہے اور دریا سے سمندر تک (فرام ریور ٹو سی) صرف فلسطین کی آزادی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اے ڈی ایل اور دیگر گروپس کا کہنا تھا کہ ‘دریا سے سمندر تک’ کی اصطلاح اسرائیل کی تباہی کا کوڈ ہے جس کو عام طور پر حماس اور دیگر گروپس استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ڈی ایل کے عالمی امور کے سینئر نائب صدر شیرون نزاریان نے ایک بیان میں کہا کہ ‘جولوگ دریا سے سمندر تک کا جملہ استعمال کرتے ہیں وہ اسرائیل کی ریاست کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078905"&gt;ترک صدر نے فلسطینیوں پر مظالم کو نازی ظلم و ستم سے تشبیہ دے دی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ ایونٹ تقسیم اور نفرت کو ہوا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی این این سے برطرف کیے جانے والے پروفیسر نے سوشل میڈیا میں ٹویٹس کی ایک سیریز جاری کی جس میں انہوں نے کہا کہ ‘ریور ٹو سی کا حوالہ دینے سے میرا مطلب کسی چیز یا کسی کی تباہی کا مطالبہ نہیں تھا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ‘یہ اسرائیل اور مغربی کنارے یا غزہ دونوں جانب کے لیے انصاف کا ایک مطالبہ تھا، تقریر ان چیزوں کو بالکل شفاف اور واضح کرتی ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/marclamonthill/status/1068236842640789504"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پروفیسر لیماؤنٹ ہل نے کہا کہ ‘میں فسلطین کی آزادی کی حمایت کرتا ہوں، میں فلسطین کی خود مختاری کی حمایت کرتا ہوں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘میں دشمنی، یہودیوں کے قتل یا جو میری تقریر سے اخذ کیا گیا اس کی حمایت نہیں کرتا، میں نے اپنی زندگی ان چیزوں سے لڑتے ہوئے گزاری ہے’۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی نشریاتی ادارے 'سی این این' نے اقوام متحدہ میں یوم یکجہتی فلسطین کے موقع پر اسرائیل کے حوالے سے تنقیدی تقریر کرنے پر ریسرچ اسکالر مارک لیماؤنٹ ہل کو نوکری سے برخاست کر دیا۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے پی' کی رپورٹ کے مطابق سی این این کے ترجمان نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ مارک لیماؤنٹ ہل معاہدے کے تحت اب ادارے کا حصہ نہیں رہے۔</p>

<p>سی این این کی جانب سے ان کی برطرفی کے حوالے سے کوئی وجہ نہیں بتائی گئی لیکن یہ فیصلہ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ (اے ڈی ایل) اور دیگر گروپس کی جانب سے مارک لیماؤنٹ ہل کی تقریر پر اعتراض کے بعد کیا گیا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ مارک لیماؤنٹ ہل ٹیمپل یونیورسٹی میں میڈیا اسٹڈیز کے پروفیسر ہیں اور سی این این میں سیاسی معاملات پر تبصرے کرتے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087985">اقتدار ملاتو فلسطینی ریاست کو تسلیم کریں گے، سربراہ لیبر پارٹی</a></strong></p>

<p>مارک لیماؤنٹ ہل نے عالمی یوم یکجہتی فلسطین پر اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں عالمی برادری سے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اسرائیل کی ظالمانہ کارروائیوں پر روشنی ڈالی تھی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے پاس موقع صرف الفاظ کے ذریعے یکجہتی کا نہیں ہے بلکہ سیاسی کارروائی کے علاوہ عملی اقدامات، مقامی اور عالمی سطح پر کارروائی کریں جو ہمیں انصاف کے تقاضوں کی جانب ابھارتا ہے اور دریا سے سمندر تک (فرام ریور ٹو سی) صرف فلسطین کی آزادی’۔</p>

<p>دوسری جانب اے ڈی ایل اور دیگر گروپس کا کہنا تھا کہ ‘دریا سے سمندر تک’ کی اصطلاح اسرائیل کی تباہی کا کوڈ ہے جس کو عام طور پر حماس اور دیگر گروپس استعمال کرتے ہیں۔</p>

<p>اے ڈی ایل کے عالمی امور کے سینئر نائب صدر شیرون نزاریان نے ایک بیان میں کہا کہ ‘جولوگ دریا سے سمندر تک کا جملہ استعمال کرتے ہیں وہ اسرائیل کی ریاست کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078905">ترک صدر نے فلسطینیوں پر مظالم کو نازی ظلم و ستم سے تشبیہ دے دی</a></strong></p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں سالانہ بنیادوں پر ہونے والا یہ ایونٹ تقسیم اور نفرت کو ہوا دیتا ہے۔</p>

<p>سی این این سے برطرف کیے جانے والے پروفیسر نے سوشل میڈیا میں ٹویٹس کی ایک سیریز جاری کی جس میں انہوں نے کہا کہ ‘ریور ٹو سی کا حوالہ دینے سے میرا مطلب کسی چیز یا کسی کی تباہی کا مطالبہ نہیں تھا’۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ‘یہ اسرائیل اور مغربی کنارے یا غزہ دونوں جانب کے لیے انصاف کا ایک مطالبہ تھا، تقریر ان چیزوں کو بالکل شفاف اور واضح کرتی ہے’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/marclamonthill/status/1068236842640789504"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پروفیسر لیماؤنٹ ہل نے کہا کہ ‘میں فسلطین کی آزادی کی حمایت کرتا ہوں، میں فلسطین کی خود مختاری کی حمایت کرتا ہوں’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘میں دشمنی، یہودیوں کے قتل یا جو میری تقریر سے اخذ کیا گیا اس کی حمایت نہیں کرتا، میں نے اپنی زندگی ان چیزوں سے لڑتے ہوئے گزاری ہے’۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1092439</guid>
      <pubDate>Sat, 01 Dec 2018 00:38:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/11/5c016edf5add4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/11/5c016edf5add4.jpg"/>
        <media:title>—فوٹو:ٹویٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
