<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 21 Jun 2026 23:50:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 21 Jun 2026 23:50:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا کے سرد ترین مقام میں خوش آمدید
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093071/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کے سرد ترین گاﺅں میں خوش آمدید، جہاں جنوری میں اوسط درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور آنکھوں کی پلکوں میں چار دیواری سے باہر نکلتے ہی برف جم جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں گھروں پر پائپ نہیں لگائے جاتے کیونکہ پانی جمنے سے ان کے پھٹنے کا ڈر ہوتا ہے، گاڑیاں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں تاکہ پیٹرول جم نہ جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ہے روس کی ریاست سائبریا میں واقع اویمیاکون، جہاں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1071732"&gt;&lt;strong&gt;رواں سال کے آغاز میں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; درجہ حرارت سے آگاہ کرنے والا الیکٹرونک تھرمامیٹر منفی 62 ڈگری سینٹی گریڈ پر پھٹ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/01/5a5d071938b80.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ سائبرین ٹائمز" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ سائبرین ٹائمز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ اوسط درجہ حرارت بھی عام طور پر منفی 40 کے ارگرد رہتا ہے، اتنی سردی کو سوچتے ہوئے یہاں انسانی بستی کا خیال ناقابل یقین لگتا ہے مگر وہاں اب بھی لوگ بستے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماسکو سے 7 ہزار کلومیٹر دور واقع دنیا کا سرد ترین مقام سمجھے جانے والے اس گاﺅں میں 500 لوگ مقیم ہیں ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انتہائی شدید سرد درجہ حرارت کے باوجود یہاں کی زندگی کبھی تھمتی نہیں اور بچے اس وقت تک اسکول جاتے رہتے ہیں جب تک درجہ حرارت منفی 52 سینٹی گریڈ تک نہیں پہنچ جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/12/5c0d73dfcf15b.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ .larazon.es" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ .larazon.es&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں کے رہنے والوں کے پاس مویشی اور ماہی گیری آمدنی کے بڑے ذرائع ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فارمز میں گائے تو موجود ہیں مگر وہ جون سے اکتوبر تک ہی دودھ دیتی ہیں جبکہ رینڈئیر (قطبی ہرن) ہی واحد جاندار ہے جو یہاں پالے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جہاں تک مچھلیوں کی بات ہے تو وہ پانی سے باہر نکلتے ہی 20 سیکنڈ میں مجنمند ہوجاتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں پر گھر ایسے تعمیر کیے گئے ہیں جو سردی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ لوگوں کا زیادہ وقت گھر کے اندر ہی گزرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/12/5c0d73dfc9f16.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ .larazon.es" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ .larazon.es&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں کے شدید سرد موسم کی وجہ سمندر سے بہت زیادہ دوری ہے جبکہ یہاں سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہونے کا موقع لوگوں کو سال کے بیشتر حصوں میں محض چند گھنٹے کے لیے ہی ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم گرمیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت 30 سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر سب سے دلچسپ چیز اس گاﺅں کا نام ہے جہاں سردی سے سب کچھ جم جاتا ہے مگر اویمیاکون کا مطلب ہے ایسا پانی جو کبھی جمتا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کے سرد ترین گاﺅں میں خوش آمدید، جہاں جنوری میں اوسط درجہ حرارت منفی 50 ڈگری سینٹی گریڈ ہوتا ہے اور آنکھوں کی پلکوں میں چار دیواری سے باہر نکلتے ہی برف جم جاتی ہے۔</p>

<p>یہاں گھروں پر پائپ نہیں لگائے جاتے کیونکہ پانی جمنے سے ان کے پھٹنے کا ڈر ہوتا ہے، گاڑیاں ہمیشہ چلتی رہتی ہیں تاکہ پیٹرول جم نہ جائے۔</p>

<p>یہ ہے روس کی ریاست سائبریا میں واقع اویمیاکون، جہاں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1071732"><strong>رواں سال کے آغاز میں</strong></a> درجہ حرارت سے آگاہ کرنے والا الیکٹرونک تھرمامیٹر منفی 62 ڈگری سینٹی گریڈ پر پھٹ گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/01/5a5d071938b80.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ سائبرین ٹائمز" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ سائبرین ٹائمز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ اوسط درجہ حرارت بھی عام طور پر منفی 40 کے ارگرد رہتا ہے، اتنی سردی کو سوچتے ہوئے یہاں انسانی بستی کا خیال ناقابل یقین لگتا ہے مگر وہاں اب بھی لوگ بستے ہیں۔</p>

<p>ماسکو سے 7 ہزار کلومیٹر دور واقع دنیا کا سرد ترین مقام سمجھے جانے والے اس گاﺅں میں 500 لوگ مقیم ہیں ۔</p>

<p>انتہائی شدید سرد درجہ حرارت کے باوجود یہاں کی زندگی کبھی تھمتی نہیں اور بچے اس وقت تک اسکول جاتے رہتے ہیں جب تک درجہ حرارت منفی 52 سینٹی گریڈ تک نہیں پہنچ جاتا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/12/5c0d73dfcf15b.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ .larazon.es" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ .larazon.es</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہاں کے رہنے والوں کے پاس مویشی اور ماہی گیری آمدنی کے بڑے ذرائع ہیں۔</p>

<p>فارمز میں گائے تو موجود ہیں مگر وہ جون سے اکتوبر تک ہی دودھ دیتی ہیں جبکہ رینڈئیر (قطبی ہرن) ہی واحد جاندار ہے جو یہاں پالے جاتے ہیں۔</p>

<p>جہاں تک مچھلیوں کی بات ہے تو وہ پانی سے باہر نکلتے ہی 20 سیکنڈ میں مجنمند ہوجاتی ہیں۔</p>

<p>یہاں پر گھر ایسے تعمیر کیے گئے ہیں جو سردی کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں کیونکہ لوگوں کا زیادہ وقت گھر کے اندر ہی گزرتا ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/12/5c0d73dfc9f16.jpg"  alt="فوٹو بشکریہ .larazon.es" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ .larazon.es</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہاں کے شدید سرد موسم کی وجہ سمندر سے بہت زیادہ دوری ہے جبکہ یہاں سورج کی روشنی سے لطف اندوز ہونے کا موقع لوگوں کو سال کے بیشتر حصوں میں محض چند گھنٹے کے لیے ہی ملتا ہے۔</p>

<p>تاہم گرمیوں میں کبھی کبھار درجہ حرارت 30 سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔</p>

<p>مگر سب سے دلچسپ چیز اس گاﺅں کا نام ہے جہاں سردی سے سب کچھ جم جاتا ہے مگر اویمیاکون کا مطلب ہے ایسا پانی جو کبھی جمتا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093071</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Dec 2018 09:35:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c0d735d6c94f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c0d735d6c94f.jpg"/>
        <media:title>— فوٹو بشکریہ سائبرین ٹائمز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
