<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:22:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:22:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سی پیک میں بلوچستان کے ’معمولی‘ حصے پر کابینہ اراکین حیرت زدہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093149/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی:بلوچستان کابینہ کے اراکین پاک چین اقتصادی راہداری( سی پیک)منصوبوں کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے اختتام پر یہ جان کر حیران رہ گئے کہ سی پیک کے مجموعی حجم میں صوبے کا حصہ انتہائی معمولی ہے جبکہ  گوادر کے علاوہ سی پیک کے منصوبوں میں کوئی کام بھی نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی پیک عہدیداران کی جانب سے بلوچستان حکومت کو دی جانے والی بریفنگ حال ہی میں عالمی بینک کے تعاون سے تیار کی گئی تھی، پورے دن پر محیط اجلاس میں موجود ذرائع کے مطابق  بریفنگ تقریباً 4 گھنٹوں پر مشتمل تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں 2 اہم انکشافات سامنے آئے جس میں سے ایک یہ کہ سی پیک کے مغربی حصے سے منسلک منصوبوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ سی پیک کے مجموعی حجم میں بلوچستان کا حصہ انتہائی کم یعنی محض 9 فیصد ہے جو 5 ارب 50 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093082/"&gt;سی پیک منصوبوں میں 'صوبے کے حصے' پر بلوچستان حکومت کے تحفظات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ رقم میں سے  گزشتہ 4 سال کے دوران ایک ارب ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں جس میں 20 کروڑ روپے حب پاور پلانٹ کی مد میں خرچ ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فراہم کردہ تفصیلات پر صوبائی کابینہ کے اراکین نے سی پیک کے اب تک ہونے والے اخراجات کو ’ایک مذاق‘ قرار دیا اور گزشتہ حکومت کی نالائقی پر برہمی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں بجلی کا حالیہ شارٹ فال 7 سو میگا واٹ ہے اور سی پیک کے توانائی منصوبوں میں گرڈ سے منسلک منصوبوں کے ثمرات بلوچستان تک نہیں پہنچے  مزید یہ کہ مکران ڈویژن نیشنل گرڈ سے بھی منسلک نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081474"&gt;‘بلوچستان کے لوگوں کو سی پیک منصوبے میں جائز حق دلوائیں گے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بریفنگ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ حکومت کے زیر بحث آنے والے دو منصوبوں کوئٹہ ماس ٹرانزٹ اور پی اے ٹی فیڈر ٹو کوئٹہ واٹر پروجیکٹ، پر نئی حکومت از سر نو غور کرے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق دونوں منصوبوں پر آنے والے اخراجات اور قرضوں کا بوجھ بلوچستان حکومت برداشت کرے گی جبکہ فزیبلیٹی رپورٹ میں منصوبوں کی لاگت بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مثال کے طور پر  کوئٹہ ماس ٹرانزٹ کی لاگت  9 سو 12 ارب ڈالر ہے جو صوبے کے کل ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہےجبکہ زمین کے حصول کی لاگت، بے گھر اور آبادکاری  اور انکم ٹیکس و کسٹم ڈیوٹی اس میں شامال نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1076332"&gt;سی پیک بلوچستان کی قسمت بدل دے گا، ڈاکٹر جمعہ خان مری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کابینہ کو بتایا گیا کہ گوادر کے باہر مغربی حصے کے راستے کی سڑکوں پرکوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا جبکہ صوبے کا مغربی حصے کا نصف سے زائد باضابطہ طور پر سی پیک کا حصہ نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کابینہ اراکین نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت نے 2006 میں شروع کیے جانے والے  خوشاب-باسمہ-سہراب  سیکشن ، جسے مغربی حصے میں شامل دکھایا ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کابینہ اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان حکومت آئندہ آنے والے دنوں چین میں ہونے والی جوائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے اجلاس میں صوبے کے لیے جرات مندانہ اقدامات اٹھائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 11 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی:بلوچستان کابینہ کے اراکین پاک چین اقتصادی راہداری( سی پیک)منصوبوں کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے اختتام پر یہ جان کر حیران رہ گئے کہ سی پیک کے مجموعی حجم میں صوبے کا حصہ انتہائی معمولی ہے جبکہ  گوادر کے علاوہ سی پیک کے منصوبوں میں کوئی کام بھی نہیں ہوا۔</p>

<p>سی پیک عہدیداران کی جانب سے بلوچستان حکومت کو دی جانے والی بریفنگ حال ہی میں عالمی بینک کے تعاون سے تیار کی گئی تھی، پورے دن پر محیط اجلاس میں موجود ذرائع کے مطابق  بریفنگ تقریباً 4 گھنٹوں پر مشتمل تھی۔</p>

<p>اجلاس میں 2 اہم انکشافات سامنے آئے جس میں سے ایک یہ کہ سی پیک کے مغربی حصے سے منسلک منصوبوں پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی جبکہ سی پیک کے مجموعی حجم میں بلوچستان کا حصہ انتہائی کم یعنی محض 9 فیصد ہے جو 5 ارب 50 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093082/">سی پیک منصوبوں میں 'صوبے کے حصے' پر بلوچستان حکومت کے تحفظات</a></strong></p>

<p>مذکورہ رقم میں سے  گزشتہ 4 سال کے دوران ایک ارب ڈالر خرچ کیے جاچکے ہیں جس میں 20 کروڑ روپے حب پاور پلانٹ کی مد میں خرچ ہوئے۔</p>

<p>فراہم کردہ تفصیلات پر صوبائی کابینہ کے اراکین نے سی پیک کے اب تک ہونے والے اخراجات کو ’ایک مذاق‘ قرار دیا اور گزشتہ حکومت کی نالائقی پر برہمی کا اظہار کیا۔</p>

<p>کابینہ کو بتایا گیا کہ صوبے میں بجلی کا حالیہ شارٹ فال 7 سو میگا واٹ ہے اور سی پیک کے توانائی منصوبوں میں گرڈ سے منسلک منصوبوں کے ثمرات بلوچستان تک نہیں پہنچے  مزید یہ کہ مکران ڈویژن نیشنل گرڈ سے بھی منسلک نہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081474">‘بلوچستان کے لوگوں کو سی پیک منصوبے میں جائز حق دلوائیں گے‘</a></strong></p>

<p>بریفنگ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ حکومت کے زیر بحث آنے والے دو منصوبوں کوئٹہ ماس ٹرانزٹ اور پی اے ٹی فیڈر ٹو کوئٹہ واٹر پروجیکٹ، پر نئی حکومت از سر نو غور کرے گی۔</p>

<p>ذرائع کے مطابق دونوں منصوبوں پر آنے والے اخراجات اور قرضوں کا بوجھ بلوچستان حکومت برداشت کرے گی جبکہ فزیبلیٹی رپورٹ میں منصوبوں کی لاگت بہت زیادہ ہے۔</p>

<p>مثال کے طور پر  کوئٹہ ماس ٹرانزٹ کی لاگت  9 سو 12 ارب ڈالر ہے جو صوبے کے کل ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہےجبکہ زمین کے حصول کی لاگت، بے گھر اور آبادکاری  اور انکم ٹیکس و کسٹم ڈیوٹی اس میں شامال نہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1076332">سی پیک بلوچستان کی قسمت بدل دے گا، ڈاکٹر جمعہ خان مری</a></strong></p>

<p>کابینہ کو بتایا گیا کہ گوادر کے باہر مغربی حصے کے راستے کی سڑکوں پرکوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا جبکہ صوبے کا مغربی حصے کا نصف سے زائد باضابطہ طور پر سی پیک کا حصہ نہیں۔</p>

<p>کابینہ اراکین نے اس بات پر بھی برہمی کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت نے 2006 میں شروع کیے جانے والے  خوشاب-باسمہ-سہراب  سیکشن ، جسے مغربی حصے میں شامل دکھایا ۔</p>

<p>کابینہ اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلوچستان حکومت آئندہ آنے والے دنوں چین میں ہونے والی جوائنٹ کو آپریشن کمیٹی کے اجلاس میں صوبے کے لیے جرات مندانہ اقدامات اٹھائے گی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 11 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093149</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Dec 2018 13:10:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خرم حسین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c0f4db0bed46.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c0f4db0bed46.jpg"/>
        <media:title>کابینہ کے اراکین نے سی پیک کے اب تک ہونے والے اخراجات کو ’ایک مذاق‘ قرار دیا—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
