<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 02:17:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 02:17:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کراچی سرکلر ریلوے کے ٹریک کی بحالی کیلئے آپریشن کا آغاز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093161/</link>
      <description>&lt;p&gt;کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کے لیے مختص اراضی پر قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ کے حکم پر کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے تجاوزات اور قبضے کے خلاف آپریشن کا آغاز لیاقت آباد، غریب آباد فرنیچر مارکیٹ سے ہوا،  تاہم گلبرگ میں آپریشن کا آغاز اب تک نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آپریشن کے دوران شہری اور ریلوے انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں کی نفری موجود ہے جبکہ بھاری مشینری کے ذریعے ٹریک کو بحال کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093153/"&gt;'متاثرین کو متبادل جگہ دینے سے عدالت نے کب منع کیا ہے؟'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل زمین اور ریلوے کے جوائنٹ ڈائریکٹر امتیاز صدیقی نے کہا تھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز غریب آباد کے علاقے میں فرنیچر مارکیٹ سے کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن گزشتہ روز شروع کیا جانا تھا لیکن ایک روز کے لیے مؤخر کیا گیا تاکہ کے سی آر کی زمین پر قابض لوگ اپنے گھر اور دکانوں کو خالی کرسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زمین خالی کرانے کے لیے دیا گیا حتمی نوٹس بڑے پیمانے پر متاثر کن رہا اور علاقے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی دکانیں خالی کرنا شروع کردیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ریلوے حکام نے ضلع انتظامیہ اور پولیس کے ہمراہ غریب آباد فرنیچر مارکیٹ کا دورہ کیا تھا اور منگل سے آپریشن شروع کرنے کے اعلانات کیے تھے جبکہ اس بات کی توقع ہے کہ 2 روز میں یہ آپریشن مکمل کرلیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امتیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ کسی کا نقصان ہو، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریلوے کے اس ٹریک پر تقریباً 1200 تجاوزات برقرار ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کی جانب سے ریلوے ٹریک سمیت پاکستان ریلوے کی زمینوں سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حکم کے تناظر میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر میں تقریباً 360 ایکڑ زمین کو تجاوزات سے خالی کرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اس بات کی امید ہے کہ کے سی آر کی 29 ایکڑز سے  زائد زمین کو صاف کرنے کے دوران تقریباً 5 ہزار 6سو 53 غیر قانونی تعمیرات گرائی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5c0f7ba75bc3c'&gt;تجاوزات کے خاتمے میں مسائل&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;کراچی اربن لیب (کے یو ایل) کے محققین کے مطابق نقشے سے پتہ چلتا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کا ایک 29.32 کلو میٹر کا سنگل ٹریک 16 اسٹیشنوں پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091348"&gt;تجاوزات کے خلاف آپریشن کا نشانہ صرف غریب ہی کیوں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا آغاز پاکستان ریلوے کی زمین پر ڈرگ روڈ اسٹیشن سے ہوتا ہے جو شاہراہ فیصل سے گزرنے کے بعد گنجان آباد علاقے گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد، سائٹ، بلدیہ، لیاری، کھارا در، میٹھا در سے ہوتے ہوئے آخر میں کراچی سٹی اسٹیشن پہنچتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کے یو ایل کے محقق ارسم سلیم نے ایک پریزنٹیشن کے درمیان بتایا کہ کے سی آر کے باعث 28 مختلف مقامات میں 4 ہزار 6سو 53 خاندانوں کو منتقل ہونے پر مجبور کیا جارہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ارسم سلیم کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے 2011 کے سروے کے مطابق ان علاقوں میں رہائش پذیر 70 فیصد لوگ کم از کم 20 برس سے یہاں رہ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کے لیے مختص اراضی پر قائم تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز ہوگیا۔</p>

<p>عدالت عظمیٰ کے حکم پر کراچی سرکلر ریلوے کی بحالی کے لیے تجاوزات اور قبضے کے خلاف آپریشن کا آغاز لیاقت آباد، غریب آباد فرنیچر مارکیٹ سے ہوا،  تاہم گلبرگ میں آپریشن کا آغاز اب تک نہیں ہوسکا۔</p>

<p>آپریشن کے دوران شہری اور ریلوے انتظامیہ، پولیس اور دیگر اداروں کی نفری موجود ہے جبکہ بھاری مشینری کے ذریعے ٹریک کو بحال کیا جارہا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093153/">'متاثرین کو متبادل جگہ دینے سے عدالت نے کب منع کیا ہے؟'</a></strong> </p>

<p>اس سے قبل زمین اور ریلوے کے جوائنٹ ڈائریکٹر امتیاز صدیقی نے کہا تھا کہ تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز غریب آباد کے علاقے میں فرنیچر مارکیٹ سے کیا جائے گا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن گزشتہ روز شروع کیا جانا تھا لیکن ایک روز کے لیے مؤخر کیا گیا تاکہ کے سی آر کی زمین پر قابض لوگ اپنے گھر اور دکانوں کو خالی کرسکیں۔</p>

<p>زمین خالی کرانے کے لیے دیا گیا حتمی نوٹس بڑے پیمانے پر متاثر کن رہا اور علاقے میں بڑی تعداد میں لوگوں نے اپنی دکانیں خالی کرنا شروع کردیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ ریلوے حکام نے ضلع انتظامیہ اور پولیس کے ہمراہ غریب آباد فرنیچر مارکیٹ کا دورہ کیا تھا اور منگل سے آپریشن شروع کرنے کے اعلانات کیے تھے جبکہ اس بات کی توقع ہے کہ 2 روز میں یہ آپریشن مکمل کرلیا جائے گا۔</p>

<p>امتیاز صدیقی کا کہنا تھا کہ ’ہم نہیں چاہتے کہ کسی کا نقصان ہو، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ریلوے کے اس ٹریک پر تقریباً 1200 تجاوزات برقرار ہیں‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ ماہ سپریم کورٹ کی جانب سے ریلوے ٹریک سمیت پاکستان ریلوے کی زمینوں سے تجاوزات ہٹانے کا حکم دیا تھا۔</p>

<p>اس حکم کے تناظر میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے شہر میں تقریباً 360 ایکڑ زمین کو تجاوزات سے خالی کرانے کا منصوبہ بنایا تھا۔</p>

<p>اس کے علاوہ اس بات کی امید ہے کہ کے سی آر کی 29 ایکڑز سے  زائد زمین کو صاف کرنے کے دوران تقریباً 5 ہزار 6سو 53 غیر قانونی تعمیرات گرائی جائیں گی۔</p>

<h3 id='5c0f7ba75bc3c'>تجاوزات کے خاتمے میں مسائل</h3>

<p>کراچی اربن لیب (کے یو ایل) کے محققین کے مطابق نقشے سے پتہ چلتا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے کا ایک 29.32 کلو میٹر کا سنگل ٹریک 16 اسٹیشنوں پر مشتمل ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091348">تجاوزات کے خلاف آپریشن کا نشانہ صرف غریب ہی کیوں؟</a></strong></p>

<p>اس کا آغاز پاکستان ریلوے کی زمین پر ڈرگ روڈ اسٹیشن سے ہوتا ہے جو شاہراہ فیصل سے گزرنے کے بعد گنجان آباد علاقے گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد، سائٹ، بلدیہ، لیاری، کھارا در، میٹھا در سے ہوتے ہوئے آخر میں کراچی سٹی اسٹیشن پہنچتا ہے۔</p>

<p>کے یو ایل کے محقق ارسم سلیم نے ایک پریزنٹیشن کے درمیان بتایا کہ کے سی آر کے باعث 28 مختلف مقامات میں 4 ہزار 6سو 53 خاندانوں کو منتقل ہونے پر مجبور کیا جارہا۔</p>

<p>ارسم سلیم کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے 2011 کے سروے کے مطابق ان علاقوں میں رہائش پذیر 70 فیصد لوگ کم از کم 20 برس سے یہاں رہ رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093161</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Dec 2018 13:56:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عاصم خانعمران احد خانویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c0f76f17e520.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c0f76f17e520.jpg"/>
        <media:title>سپریم کورٹ کے احکامات پر ریلوے کی زمین پر قبضہ ختم کرایا جائے گا—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
