<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:58:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:58:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اہرام مصر کی چوٹی پر برہنہ ویڈیو اور تصاویر بنانے پر تنازع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093189/</link>
      <description>&lt;p&gt;دور جدید کے دنیا کے سات عجوبات میں سے ایک اہرام مصر کی چوٹی پر یورپی ملک ڈینمارک کے ایک جوڑے کی جانب سے برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر مصر میں سوشل میڈیا پر شروع ہونے والے ہنگامے کے بعد حکومت نے معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مصر کے سرکاری اخبار &lt;a href="http://english.ahram.org.eg/NewsContent/1/64/319788/Egypt/Politics-/Prosecution-investigating-authenticity-of-video-of.aspx"&gt;&lt;strong&gt;’الاحرام‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مصر کے وزیر آثار قدیمہ خالد العنانی نے اہرام مصر کی چوٹی پر بنائی گئیں قابل اعتراض ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد معاملے کی باقاعدہ رپورٹ درج کروادی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپی جوڑے کی قابل اعتراض ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد مصری عوام کی جانب سے کیے گئے غصے کے بعد وزیر آثار قدیمہ نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب اس معاملے کی باقاعدہ تفتیش ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خالد العنانی کا کہنا تھا کہ تتفتیش نگار اس بات کی تحقیق کریں گے، یورپی جوڑا ممنوع جگہ پر کیسے پہنچا اور انہوں نے کس طرح تاریخی مقام کی چوٹی سر کرنے کے بعد وہاں عریاں ویڈیو اور تصاویر بنائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’الاحرام‘ کی رپورٹ کے مطابق یورپی جوڑے کی جانب سے قابل اعتراض ویڈیو کو رواں ماہ 5 دسمبر کو یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا، جسے دیکھنے کے بعد مصری عوام نے غم و غصے کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مصری عوام کا کہنا تھا کہ کوئی غیر ملکی جوڑا کس طرح اس مقام پر گیا، جہاں جانے پر پابندی ہے، ساتھ ہی عوام نے وہاں جوڑے کی جانب سے کی گئی حرکت پر بھی غصے کا اظہار کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادھرڈینمارک کے خبر رساں ادارے ایکسٹرا بلیڈٹ نے اہرام مصر کی چوٹی سر کرنے والے فوٹوگرافر ایندریز ہیورس کا انٹرویو شائع کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے تاریخی مقام کی چوٹی پر کوئی قابل اعتراض کام نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5c0fb760acd84'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081495?fbclid=IwAR1Fv3tVXFeQHKUurtOGzAOWx3igIyh72yRUqVUhFLJIaUJzF0SL"&gt;اسرائیل: ’دیوار گریہ‘ کے سامنے برہنہ ماڈلنگ پر تنازع&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;فوٹو گرافر نے دنیا کے سات عجوبات میں سے ایک کی چوٹی پر جاکر وہاں ویڈیو اور تصاویر بنانے کو اپنی خوش قسمتی بھی قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مصر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جوڑے کی تصاویر میں جوڑے کو اہرام مصر کی چوٹی پر عریاں حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ فوٹو گرافر نے ڈینمارک کے خبر رساں ادارے سے بھی بات کی، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جوڑا اب بھی مصر میں موجود ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/1917605168334963/" data-width="650"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب فوٹو گرافر نے یوٹیوب پر جاری کی گئی ویڈیو کو تاحال نہیں ہٹایا اور نہ ہی اپنی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر کو ہٹایا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ کسی بھی تاریخی اور اہم مقام پر اس طرح کا پہلا متنازع معاملہ نہیں ہے، رواں برس جولائی میں یورپی ملک بیلجیم سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ ماڈل ماریسا پاپین نے بھی فلسطین کے شہر بیت المقدس میں نازیبا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5c0fb760ace31'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074609"&gt;مندر میں خوبصورتی کا اشتہار شوٹ کروانے پر روینہ کیخلاف مقدمہ&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;ماریسا پاپین نے یہودیوں کے لیے مقدس ’دیوار گریہ‘ کی حدود میں برہنہ فوٹو شوٹ کروایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی ماڈل نے 2017 میں اہرام مصر کے سامنے بھی عریاں فوٹو شوٹ کروانے کی کوشش کی تھی، جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح رواں برس مارچ میں بولی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کو بھی ایک مندر میں جاکر خوبصورتی کا اشتہار بنانے پر آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف جذبات مجروح کروانے کا مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روینہ ٹنڈن نے مندر کی حدود میں ’نو کیمرا زون‘ میں جاکر خوبصورتی بڑھانے کے طریقہ کاربتانے کی موبائل کے ذریعے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کروائی تھی، جو ریلیز ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2018/12/5c0fb0bd7540e.jpg"  alt="اہرام مصر کو حالیہ دور کے سات عجوبات میں شمار کیا جاتا ہے، اس کی چوٹی 460 میٹر بلند ہے&amp;mdash;فوٹو: اسپوٹنک انٹرنیشنل" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;اہرام مصر کو حالیہ دور کے سات عجوبات میں شمار کیا جاتا ہے، اس کی چوٹی 460 میٹر بلند ہے—فوٹو: اسپوٹنک انٹرنیشنل&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;E6fH9fU&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دور جدید کے دنیا کے سات عجوبات میں سے ایک اہرام مصر کی چوٹی پر یورپی ملک ڈینمارک کے ایک جوڑے کی جانب سے برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنانے پر مصر میں سوشل میڈیا پر شروع ہونے والے ہنگامے کے بعد حکومت نے معاملے کی تفتیش کا حکم دے دیا۔</p>

<p>مصر کے سرکاری اخبار <a href="http://english.ahram.org.eg/NewsContent/1/64/319788/Egypt/Politics-/Prosecution-investigating-authenticity-of-video-of.aspx"><strong>’الاحرام‘</strong></a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مصر کے وزیر آثار قدیمہ خالد العنانی نے اہرام مصر کی چوٹی پر بنائی گئیں قابل اعتراض ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد معاملے کی باقاعدہ رپورٹ درج کروادی۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ یورپی جوڑے کی قابل اعتراض ویڈیو اور تصاویر سامنے آنے کے بعد مصری عوام کی جانب سے کیے گئے غصے کے بعد وزیر آثار قدیمہ نے اراکین پارلیمنٹ کو بتایا کہ اب اس معاملے کی باقاعدہ تفتیش ہوگی۔</p>

<p>خالد العنانی کا کہنا تھا کہ تتفتیش نگار اس بات کی تحقیق کریں گے، یورپی جوڑا ممنوع جگہ پر کیسے پہنچا اور انہوں نے کس طرح تاریخی مقام کی چوٹی سر کرنے کے بعد وہاں عریاں ویڈیو اور تصاویر بنائیں۔</p>

<p>’الاحرام‘ کی رپورٹ کے مطابق یورپی جوڑے کی جانب سے قابل اعتراض ویڈیو کو رواں ماہ 5 دسمبر کو یوٹیوب پر جاری کیا گیا تھا، جسے دیکھنے کے بعد مصری عوام نے غم و غصے کا اظہار کیا۔</p>

<p>مصری عوام کا کہنا تھا کہ کوئی غیر ملکی جوڑا کس طرح اس مقام پر گیا، جہاں جانے پر پابندی ہے، ساتھ ہی عوام نے وہاں جوڑے کی جانب سے کی گئی حرکت پر بھی غصے کا اظہار کیا گیا۔</p>

<p>ادھرڈینمارک کے خبر رساں ادارے ایکسٹرا بلیڈٹ نے اہرام مصر کی چوٹی سر کرنے والے فوٹوگرافر ایندریز ہیورس کا انٹرویو شائع کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے تاریخی مقام کی چوٹی پر کوئی قابل اعتراض کام نہیں کیا۔</p>

<h6 id='5c0fb760acd84'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081495?fbclid=IwAR1Fv3tVXFeQHKUurtOGzAOWx3igIyh72yRUqVUhFLJIaUJzF0SL">اسرائیل: ’دیوار گریہ‘ کے سامنے برہنہ ماڈلنگ پر تنازع</a></h6>

<p>فوٹو گرافر نے دنیا کے سات عجوبات میں سے ایک کی چوٹی پر جاکر وہاں ویڈیو اور تصاویر بنانے کو اپنی خوش قسمتی بھی قرار دیا۔</p>

<p>مصر کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی جوڑے کی تصاویر میں جوڑے کو اہرام مصر کی چوٹی پر عریاں حالت میں دیکھا جاسکتا ہے۔</p>

<p>اگرچہ فوٹو گرافر نے ڈینمارک کے خبر رساں ادارے سے بھی بات کی، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ جوڑا اب بھی مصر میں موجود ہے یا نہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/NewsVideoz/videos/1917605168334963/" data-width="650"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسری جانب فوٹو گرافر نے یوٹیوب پر جاری کی گئی ویڈیو کو تاحال نہیں ہٹایا اور نہ ہی اپنی ویب سائیٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر کو ہٹایا ہے۔</p>

<p>یہ کسی بھی تاریخی اور اہم مقام پر اس طرح کا پہلا متنازع معاملہ نہیں ہے، رواں برس جولائی میں یورپی ملک بیلجیم سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ ماڈل ماریسا پاپین نے بھی فلسطین کے شہر بیت المقدس میں نازیبا فوٹو شوٹ کروایا تھا۔</p>

<h6 id='5c0fb760ace31'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1074609">مندر میں خوبصورتی کا اشتہار شوٹ کروانے پر روینہ کیخلاف مقدمہ</a></h6>

<p>ماریسا پاپین نے یہودیوں کے لیے مقدس ’دیوار گریہ‘ کی حدود میں برہنہ فوٹو شوٹ کروایا تھا۔</p>

<p>اسی ماڈل نے 2017 میں اہرام مصر کے سامنے بھی عریاں فوٹو شوٹ کروانے کی کوشش کی تھی، جس پر انہیں گرفتار کرلیا گیا تھا۔</p>

<p>اسی طرح رواں برس مارچ میں بولی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کو بھی ایک مندر میں جاکر خوبصورتی کا اشتہار بنانے پر آڑے ہاتھوں لیا گیا تھا اور ان کے خلاف جذبات مجروح کروانے کا مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا۔</p>

<p>روینہ ٹنڈن نے مندر کی حدود میں ’نو کیمرا زون‘ میں جاکر خوبصورتی بڑھانے کے طریقہ کاربتانے کی موبائل کے ذریعے ایک مختصر ویڈیو ریکارڈ کروائی تھی، جو ریلیز ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھی، جس پر ان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2018/12/5c0fb0bd7540e.jpg"  alt="اہرام مصر کو حالیہ دور کے سات عجوبات میں شمار کیا جاتا ہے، اس کی چوٹی 460 میٹر بلند ہے&mdash;فوٹو: اسپوٹنک انٹرنیشنل" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">اہرام مصر کو حالیہ دور کے سات عجوبات میں شمار کیا جاتا ہے، اس کی چوٹی 460 میٹر بلند ہے—فوٹو: اسپوٹنک انٹرنیشنل</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>E6fH9fU</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093189</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Dec 2018 18:10:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c0fafda526f4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c0fafda526f4.jpg?0.8915374922271071"/>
        <media:title>ڈینمارک کے جوڑے نے 5 دسمبر کو ویڈیو جاری کی تھی—فوٹو: ایکسٹرا بلیڈٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
