<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 18:32:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 18:32:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>گھانا کی یونیورسٹی سے مہاتما گاندھی کا مجسمہ ہٹادیا گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093346/</link>
      <description>&lt;p&gt;گھانا کی یونیورسٹی سے ہندوستان کی  تحریک آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کا مجسمہ ہٹادیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبررساں ادارے ’ اے ایف پی ‘ کے مطابق یونیورسٹی کو گزشتہ دو سال سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ گاندھی افریقی قوم  کے خلاف نسل پرستی کے خیالات رکھتے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت کے سابق صدر  پرناب مکھرجی نے 2 سال قبل اکارا میں واقع یونیورسٹی آف گھانا میں دونوں ممالک کے  درمیان باہمی تعلقات کی نشانی کے طور پر اس مجسمے کی نقاب کشائی کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم گاندھی کا مجسمہ نصب کیے جانے کے کچھ عرصے بعد ہی ستمبر 2016 میں یونیورسٹی کے  لیکچرار  نے اسے ہٹائے جانے  کے لیے پٹیشن دائر کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں : &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085677"&gt;برطانیہ: راہول گاندھی کی کانفرنس میں‘خالصتان زندہ باد‘ کے نعرے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پٹیشن میں مہاتما  گاندھی کی تحریروں کے ان اقتباسات کا حوالہ دیا گیا تھا  جس میں  انہوں نے بھارتیوں کو افریقیوں سے بہتر قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اکارا کیمپس میں نصب کیے گئے گاندھی کے مجسمے کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہٹایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انسٹیٹوٹ آف افریقن اسٹڈیز میں زبان ، لٹریچر اور ڈراما کے سربراہ اوبادلے کامبون کا کہنا تھا کہ گاندھی کے مجسمے کو ہٹایا جانا ’عزت نفس‘ کا مسئلہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں  نے کہا کہ ’ اگر ہم یہ ظاہر کریں کہ ہمارے لیے ہماری کوئی عزت نفس نہیں  اور اپنے ہیروز کی بجائے دوسرے رہنماؤں کی تعریف کریں جن کی نظر میں ہماری کوئی عزت نہیں تب یہ ایک واضح مسئلہ ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ہم اپنے ہی قومی ہیرو کے لیے عزت نفس کا اظہار نہیں کریں گے تو دنیا ہماری عزت کیسے کرے گی؟ یہ افریقیوں کی عظمت اور عزت نفس کی فتح  ہے، ہماری مہم  نے اپنا حق ادا کردیا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی طالبہ ایڈیلائڈ ٹوم نے کہا کہ یہ اقدام طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’ میں بہت پرجوش ہوں، اس مجسمے کا سفارتی تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070055"&gt;سونیا گاندھی نے پارٹی صدارت بیٹے کے سپرد کردی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور طالبعلم بنجمن منشا نے کہا کہ ’ یہ گھانا کے تمام افراد کے لیے ایک بڑی فتح ہے کیونکہ یہ  ہمیں یہ یاد دلاتی تھی کہ ہم کتنے کم تر ہیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم یونیورسٹی سے گاندھی کا مجسمہ ہٹائے جانے کے معاملے پر یونیورسٹی حکام نے تبصرہ کرنےسے انکار کردیا جبکہ گھانا کی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے بتایا کہ ’ یہ یونیورسٹی کا  اندرونی معاملہ ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گھانا کے سابق حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ  ’ کسی تنازع  اور بھارت کے ساتھ مضبوط دوستانہ تعلقات خراب ہونے سے بچنے کے لیے اس مجسمے کو کسی اور جگہ نصب کیا جانا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مہاتما گاندھی کے اس مجسمے کی وجہ سے سال 2016 میں یورنیورسٹی طلبہ کے درمیان براعظم افریقہ میں میراث اور نسل پرستی کی تاریخ کے عنوان پر شدید بحث بھی شروع ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گھانا کی وزارت خارجہ نے دو سال قبل ہی ایک بیان میں اس تنازع پر  شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مجسمے کا مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بیان میں وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’حکومت مجسمے کی حفاظت کو یقینی بنانے اور اس تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے اسے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتی ہے۔‘ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بیان میں مزید کہا گیا کہ بطور انسان گاندھی میں بھی کچھ خامیاں تھیں اور ہمیں انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مہاتما  گاندھی کو بھارت میں برطانوی راج کے دوران ان کی پرامن مزاحمت کے  لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ 1839 سے 1915 تک جنوبی افریقا میں مقیم تھے اور  انہوں نے بطور  وکیل خدمات سرانجام دی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>گھانا کی یونیورسٹی سے ہندوستان کی  تحریک آزادی کے رہنما مہاتما گاندھی کا مجسمہ ہٹادیا گیا۔</p>

<p>خبررساں ادارے ’ اے ایف پی ‘ کے مطابق یونیورسٹی کو گزشتہ دو سال سے شکایات موصول ہورہی تھیں کہ گاندھی افریقی قوم  کے خلاف نسل پرستی کے خیالات رکھتے تھے۔</p>

<p>بھارت کے سابق صدر  پرناب مکھرجی نے 2 سال قبل اکارا میں واقع یونیورسٹی آف گھانا میں دونوں ممالک کے  درمیان باہمی تعلقات کی نشانی کے طور پر اس مجسمے کی نقاب کشائی کی تھی۔</p>

<p>تاہم گاندھی کا مجسمہ نصب کیے جانے کے کچھ عرصے بعد ہی ستمبر 2016 میں یونیورسٹی کے  لیکچرار  نے اسے ہٹائے جانے  کے لیے پٹیشن دائر کی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں : <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085677">برطانیہ: راہول گاندھی کی کانفرنس میں‘خالصتان زندہ باد‘ کے نعرے</a></strong></p>

<p>اس پٹیشن میں مہاتما  گاندھی کی تحریروں کے ان اقتباسات کا حوالہ دیا گیا تھا  جس میں  انہوں نے بھارتیوں کو افریقیوں سے بہتر قرار دیا تھا۔</p>

<p>یونیورسٹی کے طلبا اور اساتذہ نے اے ایف پی کو بتایا کہ اکارا کیمپس میں نصب کیے گئے گاندھی کے مجسمے کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہٹایا گیا۔</p>

<p>انسٹیٹوٹ آف افریقن اسٹڈیز میں زبان ، لٹریچر اور ڈراما کے سربراہ اوبادلے کامبون کا کہنا تھا کہ گاندھی کے مجسمے کو ہٹایا جانا ’عزت نفس‘ کا مسئلہ تھا۔</p>

<p>انہوں  نے کہا کہ ’ اگر ہم یہ ظاہر کریں کہ ہمارے لیے ہماری کوئی عزت نفس نہیں  اور اپنے ہیروز کی بجائے دوسرے رہنماؤں کی تعریف کریں جن کی نظر میں ہماری کوئی عزت نہیں تب یہ ایک واضح مسئلہ ہے‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ اگر ہم اپنے ہی قومی ہیرو کے لیے عزت نفس کا اظہار نہیں کریں گے تو دنیا ہماری عزت کیسے کرے گی؟ یہ افریقیوں کی عظمت اور عزت نفس کی فتح  ہے، ہماری مہم  نے اپنا حق ادا کردیا ہے‘۔</p>

<p>یونیورسٹی طالبہ ایڈیلائڈ ٹوم نے کہا کہ یہ اقدام طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’ میں بہت پرجوش ہوں، اس مجسمے کا سفارتی تعلقات سے کوئی تعلق نہیں ہے‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں : <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1070055">سونیا گاندھی نے پارٹی صدارت بیٹے کے سپرد کردی</a></strong></p>

<p>ایک اور طالبعلم بنجمن منشا نے کہا کہ ’ یہ گھانا کے تمام افراد کے لیے ایک بڑی فتح ہے کیونکہ یہ  ہمیں یہ یاد دلاتی تھی کہ ہم کتنے کم تر ہیں‘۔</p>

<p>تاہم یونیورسٹی سے گاندھی کا مجسمہ ہٹائے جانے کے معاملے پر یونیورسٹی حکام نے تبصرہ کرنےسے انکار کردیا جبکہ گھانا کی وزارت خارجہ کے عہدیدار نے بتایا کہ ’ یہ یونیورسٹی کا  اندرونی معاملہ ہے‘۔</p>

<p>گھانا کے سابق حکومتی ارکان کا کہنا تھا کہ  ’ کسی تنازع  اور بھارت کے ساتھ مضبوط دوستانہ تعلقات خراب ہونے سے بچنے کے لیے اس مجسمے کو کسی اور جگہ نصب کیا جانا چاہیے‘۔</p>

<p>خیال رہے کہ مہاتما گاندھی کے اس مجسمے کی وجہ سے سال 2016 میں یورنیورسٹی طلبہ کے درمیان براعظم افریقہ میں میراث اور نسل پرستی کی تاریخ کے عنوان پر شدید بحث بھی شروع ہو گئے تھے۔</p>

<p>گھانا کی وزارت خارجہ نے دو سال قبل ہی ایک بیان میں اس تنازع پر  شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مجسمے کا مقام تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>

<p>اس بیان میں وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’حکومت مجسمے کی حفاظت کو یقینی بنانے اور اس تنازع کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے اسے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتی ہے۔‘ </p>

<p>اس بیان میں مزید کہا گیا کہ بطور انسان گاندھی میں بھی کچھ خامیاں تھیں اور ہمیں انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔</p>

<p>مہاتما  گاندھی کو بھارت میں برطانوی راج کے دوران ان کی پرامن مزاحمت کے  لیے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ 1839 سے 1915 تک جنوبی افریقا میں مقیم تھے اور  انہوں نے بطور  وکیل خدمات سرانجام دی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093346</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Dec 2018 19:11:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c1255d1acea3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c1255d1acea3.jpg"/>
        <media:title>گاندھی کا مجسمہ  2015 میں نصب کیا گیا تھا — فوٹو : اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
