<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - News</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:23:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:23:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’سوشل میڈیا کو کسی کی ساکھ تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093386/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی نے قانون کے تحت سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک علیحدہ اور آزاد ادارے کے جلد قیام کا مطالبہ کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1041131"&gt;2016 میں متعارف کردہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;’ انسداد برقی جرائم کے قانون‘ (پیکا) کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ پیکا کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو  انٹرنیٹ پر موجود قابلِ اعتراض مواد کی شکایات موصول ہونے پر اسے بلاک کرنے جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو کابینہ کی منظوری کے بعد انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم مثلاً ہراساں کرنے اور بینک فراڈ وغیرہ کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080829"&gt;سائبر کرائم کی تحقیقات: ایف آئی اے کے پاس صرف 10 ماہرین کی موجودگی کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ پیکا کے تحت ایف آئی اے کے آپریشن سے متعلق قوانین کو مرتب کرنے میں 2 سال کا عرصہ لگا اور ستمبر میں اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم انٹرنیٹ پر موجود متنازع مواد کو چیک کرنے اور اس کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے ایک آزاد اور علیحدہ ادارے کے قیام کے لیے قوانین اب تک مرتب نہیں کیے جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں کمیٹی چیئرمین سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے تحقیقات کے اپنے اختیارات ایف آئی اے کے حوالے کردیے، انہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی) سے دریافت کیا کہ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے علیحدہ ادارہ قائم کرنے کے لیے ایک مقررہ وقت دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085085"&gt;ایف آئی اے نے سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے خصوصی اختیارات مانگ لیے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی کی جانب سے اٹھائے جانے والے کچھ سوالات کے جواب میں سیکریٹری ایم او آئی ٹی کا کہنا تھا کہ سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک علیحدہ ایجنسی قیام کے مراحل میں ہے اور انٹر منسٹریل کمیٹی (آئی ایم سی) میں اس کے کام کی حدود متعین کرنے کا کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح  اعلیٰ درجے کی صلاحیتوں کی حامل فرانزک لیبارٹری کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ سائبر جرائم  کی بہتر وضاحت کے لیے قانون پر نظر ثانی کرنے کے سلسلے میں نومبر میں  انٹر منسٹریل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جبکہ نئے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ’پیکا‘ پر نظرِ ثانی چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088250"&gt;ایف آئی اے کو سائبر کرائم کے 15 نئے شکایتی مراکز قائم کرنے کی اجازت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئے ادارے کے قیام کی مدت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محمد علی خان نے یقین دہانی کروائی کہ وہ آئی ایم سی کو کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا معلومات ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کا منفی استعمال بھی کیا جاسکتا ہے لیکن سوشل میڈیا کو کسی کی ساکھ تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس لیے حدود متعین کرنی ہوں گی، دنیا میں کہیں بھی آزادی اظہارِ رائے کی مکمل آزادی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز خاص کر سیکیورٹی ایجنسیز سے مشاورت کے بعد ایک آزادانہ ادارے کے قیام کے لیے 3 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 14 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون سازی نے قانون کے تحت سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک علیحدہ اور آزاد ادارے کے جلد قیام کا مطالبہ کردیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ سینیٹ کمیٹی کا اجلاس <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1041131">2016 میں متعارف کردہ</a></strong>’ انسداد برقی جرائم کے قانون‘ (پیکا) کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے بلایا گیا تھا۔</p>

<p>خیال رہے کہ پیکا کے تحت پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو  انٹرنیٹ پر موجود قابلِ اعتراض مواد کی شکایات موصول ہونے پر اسے بلاک کرنے جبکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو کابینہ کی منظوری کے بعد انٹرنیٹ پر ہونے والے جرائم مثلاً ہراساں کرنے اور بینک فراڈ وغیرہ کی تحقیقات کا اختیار حاصل ہوگیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080829">سائبر کرائم کی تحقیقات: ایف آئی اے کے پاس صرف 10 ماہرین کی موجودگی کا انکشاف</a></strong> </p>

<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ پیکا کے تحت ایف آئی اے کے آپریشن سے متعلق قوانین کو مرتب کرنے میں 2 سال کا عرصہ لگا اور ستمبر میں اس کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔</p>

<p>تاہم انٹرنیٹ پر موجود متنازع مواد کو چیک کرنے اور اس کے خلاف تحقیقات کرنے کے لیے ایک آزاد اور علیحدہ ادارے کے قیام کے لیے قوانین اب تک مرتب نہیں کیے جاسکے۔</p>

<p>اس بارے میں کمیٹی چیئرمین سینیٹر عائشہ رضا فاروق کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے نے تحقیقات کے اپنے اختیارات ایف آئی اے کے حوالے کردیے، انہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن (ایم او آئی ٹی) سے دریافت کیا کہ سائبر کرائم کی روک تھام کے لیے علیحدہ ادارہ قائم کرنے کے لیے ایک مقررہ وقت دیا جائے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085085">ایف آئی اے نے سائبر کرائم کی روک تھام کیلئے خصوصی اختیارات مانگ لیے</a></strong></p>

<p>کمیٹی کی جانب سے اٹھائے جانے والے کچھ سوالات کے جواب میں سیکریٹری ایم او آئی ٹی کا کہنا تھا کہ سائبر جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک علیحدہ ایجنسی قیام کے مراحل میں ہے اور انٹر منسٹریل کمیٹی (آئی ایم سی) میں اس کے کام کی حدود متعین کرنے کا کام جاری ہے۔</p>

<p>اسی طرح  اعلیٰ درجے کی صلاحیتوں کی حامل فرانزک لیبارٹری کے قیام کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔</p>

<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ سائبر جرائم  کی بہتر وضاحت کے لیے قانون پر نظر ثانی کرنے کے سلسلے میں نومبر میں  انٹر منسٹریل کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جبکہ نئے وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی بھی ’پیکا‘ پر نظرِ ثانی چاہتے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088250">ایف آئی اے کو سائبر کرائم کے 15 نئے شکایتی مراکز قائم کرنے کی اجازت</a></strong> </p>

<p>نئے ادارے کے قیام کی مدت کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور محمد علی خان نے یقین دہانی کروائی کہ وہ آئی ایم سی کو کارروائی تیز کرنے کی ہدایت کریں گے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا معلومات ایک طاقتور ذریعہ ہے جس کا منفی استعمال بھی کیا جاسکتا ہے لیکن سوشل میڈیا کو کسی کی ساکھ تباہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور اس لیے حدود متعین کرنی ہوں گی، دنیا میں کہیں بھی آزادی اظہارِ رائے کی مکمل آزادی نہیں ہے۔</p>

<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز خاص کر سیکیورٹی ایجنسیز سے مشاورت کے بعد ایک آزادانہ ادارے کے قیام کے لیے 3 ماہ کا عرصہ درکار ہوگا۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 14 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093386</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Dec 2018 10:14:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمال شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c1331fb74b33.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c1331fb74b33.jpg"/>
        <media:title>اس وقت سائبر جرائم کی تحقیقات کے اختیارات ایف آئی اے کے پاس ہے—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
