<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Parenting</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:46:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:46:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بچوں کو پیسے کی لین دین سکھانا کیوں ضروری؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093428/</link>
      <description>&lt;p&gt;زیادہ تر والدین خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بچے ان سے یہ نہ پوچھیں کہ وہ کتنے پیسے کماتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچوں کی مالیاتی پرورش کے بارے میں کئی کتابیں لکھنے والی &lt;a href="https://edition.cnn.com/2017/09/13/health/money-talking-to-kids-parenting/index.html"&gt;جین پرل&lt;/a&gt; کہتی ہیں کہ انہیں اس وقت شدید حیرت ہوئی جب ان کے بیٹے نے 8 سال کی عمر میں یہ سوال پوچھا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے بالآخر اپنے بیٹے کے سوال کا جواب دے دیا مگر انہوں نے براہِ راست اپنی تنخواہ نہیں بتائی۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1090276//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5be2bd0e4b778.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے گھر کے اخراجات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو بتایا کہ وہ اتنا کما لیتی ہیں کہ یہ اخراجات پورے ہوجائیں، جبکہ بچ جانے والے پیسے یا تو بینک میں جمع کروا دیے جاتے ہیں یا پھر ان سے ضرورت یا آسائش کی دیگر چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ کہتی ہیں کہ اگر میں اپنے بیٹے کو اپنی تنخواہ بتا دیتی تو وہ سمجھتا کہ ہم بہت امیر ہیں کیونکہ اخراجات نہ بتانے کی صورت میں اسے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ یہ پیسے کتنے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یقینی بنایا کہ ان کے بیٹے کو معلوم ہو کہ یہ نجی معلومات ہیں جنہیں دوسروں کو نہیں بتانا چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی تجربے کی وجہ سے انہوں نے بچوں اور مالیات سے متعلق کتابوں کی ایک سیریز تحریر کی ہے جس میں وہ خاندان کی دولت اور اس کے بچوں سے تعلق پر روشنی ڈالتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پرل کہتی ہیں کہ اکثر والدین اپنے بچوں سے مالیاتی معاملات پر بات نہیں کرتے اور انہیں لین دین کے ہنر نہیں سکھاتے کیونکہ انہیں اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ وہ خود پیسے کے اچھے منتظم نہیں ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1089982//' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5be2bd0e4cc97.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری وجہ یہ ہے کہ کئی والدین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مالی امور کے بارے میں بہت زیادہ ماہر نہیں چنانچہ وہ اپنے بچوں کو اس بارے میں سکھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ہمیں اس کام کے لیے فنانس میں پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پرل کہتی ہیں کہ مثال کے طور پر ہم جب بھی اے ٹی ایم مشین جائیں تو ہمیں بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ پیسے بینک میں رکھنے پر محفوظ رہتے ہیں اور ضرورت کے وقت باہر نکالے جاسکتے ہیں۔ بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ صرف اتنے ہی پیسے نکالے جاسکتے ہیں جتنے کہ بینک میں موجود ہوں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچوں سے مالی معاملات کے بارے میں بات کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے سیکھ کر بڑی غلطیاں کرنے سے بچ جاتے ہیں۔ پرل کہتی ہیں کہ اچھا رہے گا کہ بچے 20 ڈالر کی کئی غلطیاں کرلیں مگر 20 ہزار ڈالر کی ایک ہی غلطی کرنے سے بچ جائیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ بچوں سے پیسوں کے بارے میں بات کرنے سے آپ اپنی مالیاتی اقدار بچوں کو سکھا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو آسائشوں اور ضرورتوں کے درمیان فرق سمجھایا جائے اور یہ بھی سمجھایا جائے کہ کس طرح زیادہ تر معاملات میں کچھ لو اور کچھ دو کا فرق حائل رہتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ بچوں کو یہ بھی سمجھایا جانا چاہیے کہ پیسے کس طرح، کس وقت، کن چیزوں پر خرچ کرنے چاہیئں اور پیسے خرچ کرتے وقت ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہیئں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>زیادہ تر والدین خوف زدہ رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بچے ان سے یہ نہ پوچھیں کہ وہ کتنے پیسے کماتے ہیں۔ </p>

<p>بچوں کی مالیاتی پرورش کے بارے میں کئی کتابیں لکھنے والی <a href="https://edition.cnn.com/2017/09/13/health/money-talking-to-kids-parenting/index.html">جین پرل</a> کہتی ہیں کہ انہیں اس وقت شدید حیرت ہوئی جب ان کے بیٹے نے 8 سال کی عمر میں یہ سوال پوچھا تھا۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے بالآخر اپنے بیٹے کے سوال کا جواب دے دیا مگر انہوں نے براہِ راست اپنی تنخواہ نہیں بتائی۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1090276//' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5be2bd0e4b778.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے اپنے گھر کے اخراجات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو بتایا کہ وہ اتنا کما لیتی ہیں کہ یہ اخراجات پورے ہوجائیں، جبکہ بچ جانے والے پیسے یا تو بینک میں جمع کروا دیے جاتے ہیں یا پھر ان سے ضرورت یا آسائش کی دیگر چیزیں خریدی جاسکتی ہیں۔ </p>

<p>وہ کہتی ہیں کہ اگر میں اپنے بیٹے کو اپنی تنخواہ بتا دیتی تو وہ سمجھتا کہ ہم بہت امیر ہیں کیونکہ اخراجات نہ بتانے کی صورت میں اسے یہ معلوم ہی نہ ہوتا کہ یہ پیسے کتنے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے یقینی بنایا کہ ان کے بیٹے کو معلوم ہو کہ یہ نجی معلومات ہیں جنہیں دوسروں کو نہیں بتانا چاہیے۔ </p>

<p>اسی تجربے کی وجہ سے انہوں نے بچوں اور مالیات سے متعلق کتابوں کی ایک سیریز تحریر کی ہے جس میں وہ خاندان کی دولت اور اس کے بچوں سے تعلق پر روشنی ڈالتی ہیں۔ </p>

<p>پرل کہتی ہیں کہ اکثر والدین اپنے بچوں سے مالیاتی معاملات پر بات نہیں کرتے اور انہیں لین دین کے ہنر نہیں سکھاتے کیونکہ انہیں اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ وہ خود پیسے کے اچھے منتظم نہیں ہیں۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1089982//' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2018/11/5be2bd0e4cc97.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسری وجہ یہ ہے کہ کئی والدین کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ مالی امور کے بارے میں بہت زیادہ ماہر نہیں چنانچہ وہ اپنے بچوں کو اس بارے میں سکھانے سے قاصر رہتے ہیں۔ </p>

<p>مگر ہمیں اس کام کے لیے فنانس میں پی ایچ ڈی کی ضرورت نہیں ہوتی۔ پرل کہتی ہیں کہ مثال کے طور پر ہم جب بھی اے ٹی ایم مشین جائیں تو ہمیں بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ پیسے بینک میں رکھنے پر محفوظ رہتے ہیں اور ضرورت کے وقت باہر نکالے جاسکتے ہیں۔ بچوں کو یہ بھی سکھانا چاہیے کہ صرف اتنے ہی پیسے نکالے جاسکتے ہیں جتنے کہ بینک میں موجود ہوں۔ </p>

<p>بچوں سے مالی معاملات کے بارے میں بات کرنے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے سیکھ کر بڑی غلطیاں کرنے سے بچ جاتے ہیں۔ پرل کہتی ہیں کہ اچھا رہے گا کہ بچے 20 ڈالر کی کئی غلطیاں کرلیں مگر 20 ہزار ڈالر کی ایک ہی غلطی کرنے سے بچ جائیں۔ </p>

<p>اس کے علاوہ بچوں سے پیسوں کے بارے میں بات کرنے سے آپ اپنی مالیاتی اقدار بچوں کو سکھا سکتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بچوں کو آسائشوں اور ضرورتوں کے درمیان فرق سمجھایا جائے اور یہ بھی سمجھایا جائے کہ کس طرح زیادہ تر معاملات میں کچھ لو اور کچھ دو کا فرق حائل رہتا ہے۔ </p>

<p>چنانچہ بچوں کو یہ بھی سمجھایا جانا چاہیے کہ پیسے کس طرح، کس وقت، کن چیزوں پر خرچ کرنے چاہیئں اور پیسے خرچ کرتے وقت ہماری ترجیحات کیا ہونی چاہیئں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093428</guid>
      <pubDate>Sat, 19 Jan 2019 14:26:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c42ec3c78aa5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c42ec3c78aa5.jpg"/>
        <media:title>بچوں سے مالی معاملات کے بارے میں بات کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ چھوٹی غلطیوں سے سیکھ کر بڑی غلطیاں کرنے سے بچ جاتےہیں—تصویر شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
