<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Business</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 12 May 2026 02:44:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 12 May 2026 02:44:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وفاقی محکموں میں 58 کھرب روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093708/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) نے مالی سال 18-2017  کے دوران  44 وفاقی محکموں میں 58 کھرب روپے مالیت کی سرکاری رقم میں مالی بے قاعدگیاں، بد انتظامی اور بے ضابطگیاں ہونے کا انکشاف کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18-2017 میں  وفاقی محکموں  پر کیے جانے والے اعتراضات گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت زیادہ یعنی تقریباً 87 فیصد ہیں جبکہ یہی معاملات ایک سال قبل 35 وفاقی محکموں میں 31 کھرب 20 ارب روپے مالیت کے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری رقم کا مالی ضابطہ کار بجائے بہتر ہونے کے مزید بگڑ گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1452287/top-auditor-points-out-rs58-trillion-irregular-spending"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق  آڈیٹر جنرل نے اس سلسلے میں 60 وفاقی محکموں اور شعبہ جات میں سے 44 کے سرکاری فنڈز کا جائزہ لیا جبکہ ان اداروں میں 10 لاکھ روپے تک کے خرچ کو اس اعداد و شمار کا حصہ نہیں بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063783"&gt;وزارتوں کا مخصوص آڈٹ: 30 کھرب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 69 ارب 40 کروڑ روپے کی وصولی کر کے وفاقی فنڈ میں جمع کروادی گئی ہے، مذکورہ آڈٹ رپورٹ کو آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت صدرِ مملکت کو ارسال کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ میں بھی پیش کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈٹ رپورٹ میں  متعدد محکموں، اداروں اور ان  کے بیرونِ ملک متعلقہ اداروں میں کل 39 ایسے کمزور مالی معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی مالیت 57 کھرب 75 ارب روپے ہے جبکہ 82 ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں قوانین کے خلاف 24 ارب 75 کروڑ روپے کی بے قاعدہ ادائیگیاں یا اخراجات کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ آڈیٹر جنرل نے 57 کھرب 70 ارب روپے مالیت کے 26 کمزور مالی انتظام کے کیسز پر روشنی ڈالی جبکہ مالی اثاثوں کے خراب انتظام کے ایک ارب 30 کروڑ روپے مالیت کے  22 کیسز کا بھی ذکر کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1044582"&gt;سرکاری اداروں میں 2 ہزار ارب کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ ہے کہ اے جی پی کی رپورٹ میں  وزارت خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو  کی جانب سے دی گئی 38 کھرب 90 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کے حوالے سے غلط بیانی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جو خود وفاقی حکومت کے درست  مالی انتظام  کے ذمہ دار ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارتِ خزانہ نے آئین کی دفعہ 80، 83 اور 84 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ضمنی گرانٹس کو پرنٹ نہیں کیا جبکہ یہ کل ضمنی گرانٹس کا 92 فیصد حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل نے صدرِ مملکت اور پارلیمنٹ کو اپنی رپورٹ میں آگاہ کیا کہ وزارت خزانہ تمام ضمنی گرانٹس منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی مجاز ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا س کی وجہ سے اتنی بڑی رقم بغیر رپورٹ کیے رہ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072805"&gt;محکمہ خزانہ میں 300 ارب روپے کی خرد برد کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب  اس بارے میں جواب دیتے ہوئے وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ معینہ مدت کے بعد مختلف وزارتوں اور شعبہ جات سے موصول ہونے والی ضمنی گرانٹس کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردہ دستاویز کا حصہ نہیں بنایا جاسکا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) نے مالی سال 18-2017  کے دوران  44 وفاقی محکموں میں 58 کھرب روپے مالیت کی سرکاری رقم میں مالی بے قاعدگیاں، بد انتظامی اور بے ضابطگیاں ہونے کا انکشاف کیا ہے۔</p>

<p>رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 18-2017 میں  وفاقی محکموں  پر کیے جانے والے اعتراضات گزشتہ برس کے مقابلے میں بہت زیادہ یعنی تقریباً 87 فیصد ہیں جبکہ یہی معاملات ایک سال قبل 35 وفاقی محکموں میں 31 کھرب 20 ارب روپے مالیت کے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری رقم کا مالی ضابطہ کار بجائے بہتر ہونے کے مزید بگڑ گیا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1452287/top-auditor-points-out-rs58-trillion-irregular-spending">رپورٹ</a></strong> کے مطابق  آڈیٹر جنرل نے اس سلسلے میں 60 وفاقی محکموں اور شعبہ جات میں سے 44 کے سرکاری فنڈز کا جائزہ لیا جبکہ ان اداروں میں 10 لاکھ روپے تک کے خرچ کو اس اعداد و شمار کا حصہ نہیں بنایا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063783">وزارتوں کا مخصوص آڈٹ: 30 کھرب سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 69 ارب 40 کروڑ روپے کی وصولی کر کے وفاقی فنڈ میں جمع کروادی گئی ہے، مذکورہ آڈٹ رپورٹ کو آئین کے آرٹیکل 171 کے تحت صدرِ مملکت کو ارسال کرنے کے ساتھ پارلیمنٹ میں بھی پیش کردیا گیا۔</p>

<p>آڈٹ رپورٹ میں  متعدد محکموں، اداروں اور ان  کے بیرونِ ملک متعلقہ اداروں میں کل 39 ایسے کمزور مالی معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے جن کی مالیت 57 کھرب 75 ارب روپے ہے جبکہ 82 ایسے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں قوانین کے خلاف 24 ارب 75 کروڑ روپے کی بے قاعدہ ادائیگیاں یا اخراجات کیے گئے۔</p>

<p>اس کے ساتھ آڈیٹر جنرل نے 57 کھرب 70 ارب روپے مالیت کے 26 کمزور مالی انتظام کے کیسز پر روشنی ڈالی جبکہ مالی اثاثوں کے خراب انتظام کے ایک ارب 30 کروڑ روپے مالیت کے  22 کیسز کا بھی ذکر کیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1044582">سرکاری اداروں میں 2 ہزار ارب کی مالی بےضابطگیوں کا انکشاف</a></strong></p>

<p>دلچسپ بات یہ ہے کہ اے جی پی کی رپورٹ میں  وزارت خزانہ اور اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو  کی جانب سے دی گئی 38 کھرب 90 ارب روپے کی ضمنی گرانٹس کے حوالے سے غلط بیانی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں، جو خود وفاقی حکومت کے درست  مالی انتظام  کے ذمہ دار ہیں۔</p>

<p>رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارتِ خزانہ نے آئین کی دفعہ 80، 83 اور 84 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان ضمنی گرانٹس کو پرنٹ نہیں کیا جبکہ یہ کل ضمنی گرانٹس کا 92 فیصد حصہ ہیں۔</p>

<p>آڈیٹر جنرل نے صدرِ مملکت اور پارلیمنٹ کو اپنی رپورٹ میں آگاہ کیا کہ وزارت خزانہ تمام ضمنی گرانٹس منظوری کے لیے قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی مجاز ہے لیکن ایسا نہیں کیا گیا س کی وجہ سے اتنی بڑی رقم بغیر رپورٹ کیے رہ گئی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072805">محکمہ خزانہ میں 300 ارب روپے کی خرد برد کا انکشاف</a></strong></p>

<p>دوسری جانب  اس بارے میں جواب دیتے ہوئے وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا تھا کہ معینہ مدت کے بعد مختلف وزارتوں اور شعبہ جات سے موصول ہونے والی ضمنی گرانٹس کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردہ دستاویز کا حصہ نہیں بنایا جاسکا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093708</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Dec 2018 13:19:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c19b98879669.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c19b98879669.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
