<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Apr 2026 04:05:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Apr 2026 04:05:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف آئی اے سربراہ سے ’خود کار‘ سفری پابندیوں پر سوالات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093791/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا ہے کہ انہوں نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کے میں نام ڈالنے کے طویل طریقہ کار کو بائی پاس کرتے ہوئے خود تیار کردہ پروویژنل نیشنل آئڈینٹی فکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) کی بنیاد پر لوگوں کو ملک سے باہر جانے سے روکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1452481/fia-chief-grilled-over-arbitrary-travel-restrictions"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر احمد نے کمیٹی کے سامنے بتایا کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے سنگین مجرموں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے دی گئی ہدایت کے بعد اس طریقہ کار کو ڈیزائن کیا گیا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران کمیٹی کی جانب سے وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پی این آئی ایل کے طریقہ کار پر وضاحت دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093169"&gt;حمزہ شہباز کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی، دوحا جانے سے روک دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ اجلاس میں سینیٹرز نے ای سی ایل میں نام نہ ہونے کے باوجود شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 2 اراکین قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے سے روکنے پر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ سیکیورٹی حکام نے پشاور ایئرپورٹ پر قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ اور علی وزیر کو دبئی جانے سے روکا تھا جبکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بھی ملک سے باہر جانے نہیں دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قائمہ کمیٹی نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے ای سی ایل واحد ذریعہ نہیں بلکہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے بلیک لسٹ، واچ لسٹ، ریڈ بک اور پی این آئی ایل جیسی فہرستوں کا استعمال بھی کیا جارہا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے میں 30 دن لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں ماضی میں ان کا محکمہ قتل جیسے سنگین مجرموں کو ملک فرار ہونے سے روکنے میں قاصر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ فوری کیسز میں استعمال کے لیے 10 ماہ قبل پی این آئی ایل کو ڈیزائن کیا گیا، جس کے باعث گزشتہ 4 ماہ کے دوران 16 افراد کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا، ان افراد میں اسلام آباد میں مارگلہ روڈ پر گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار کو قتل کرنے والا امریکی سفارتکار بھی شامل تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رکن اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ ان دونوں افراد کا نام انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا کی درخواست کی درخواست پر پی این آئی ایل میں ڈالے گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دونوں اراکین اسمبلی کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ انہیں ملک سے باہر جانے سے روکا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078520"&gt;امریکی ملٹری اتاشی کی بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن کی جانب سے اٹھائے گئے سوال پر خصوصی سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر امیر احمد نے کہا کہ جن دو ایم این ایز کے ناموں پر سوال اٹھ رہا ہے، ان کے نام کابینہ کی منظوری کے بعد پی این آئی ایل میں ڈالے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس جواب پر کمیٹی کے رکن کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے استعمال کیا جانے والا پی این آئی ایل کی کوئی قانونی بنیاد نہیں اور یہ صرف ایک من گھڑت طریقہ کار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کی اس نتیجے پر پہنچی کہ ڈی جی ایف آئی اے پی این آئی ایل اور اس کی قانونی بنیاد سے متعلق تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بتایا ہے کہ انہوں نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) کے میں نام ڈالنے کے طویل طریقہ کار کو بائی پاس کرتے ہوئے خود تیار کردہ پروویژنل نیشنل آئڈینٹی فکیشن لسٹ (پی این آئی ایل) کی بنیاد پر لوگوں کو ملک سے باہر جانے سے روکا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1452481/fia-chief-grilled-over-arbitrary-travel-restrictions"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) بشیر احمد نے کمیٹی کے سامنے بتایا کہ ’سپریم کورٹ کی جانب سے سنگین مجرموں کو بیرون ملک جانے سے روکنے کے لیے دی گئی ہدایت کے بعد اس طریقہ کار کو ڈیزائن کیا گیا‘۔</p>

<p>اس دوران کمیٹی کی جانب سے وزارت داخلہ اور ایف آئی اے سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پی این آئی ایل کے طریقہ کار پر وضاحت دیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093169">حمزہ شہباز کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی، دوحا جانے سے روک دیا</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ اجلاس میں سینیٹرز نے ای سی ایل میں نام نہ ہونے کے باوجود شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے 2 اراکین قومی اسمبلی اور رکن صوبائی اسمبلی حمزہ شہباز کو بیرون ملک جانے سے روکنے پر حیرانی کا اظہار کیا تھا۔</p>

<p>گزشتہ ماہ سیکیورٹی حکام نے پشاور ایئرپورٹ پر قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ اور علی وزیر کو دبئی جانے سے روکا تھا جبکہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو بھی ملک سے باہر جانے نہیں دیا گیا تھا۔</p>

<p>قائمہ کمیٹی نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ نقل و حرکت کو محدود کرنے کے لیے ای سی ایل واحد ذریعہ نہیں بلکہ سیکیورٹی ایجنسیوں کی جانب سے بلیک لسٹ، واچ لسٹ، ریڈ بک اور پی این آئی ایل جیسی فہرستوں کا استعمال بھی کیا جارہا۔ </p>

<p>ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے کمیٹی کو بتایا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے میں 30 دن لگتے ہیں، جس کے نتیجے میں ماضی میں ان کا محکمہ قتل جیسے سنگین مجرموں کو ملک فرار ہونے سے روکنے میں قاصر تھا۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ فوری کیسز میں استعمال کے لیے 10 ماہ قبل پی این آئی ایل کو ڈیزائن کیا گیا، جس کے باعث گزشتہ 4 ماہ کے دوران 16 افراد کو بیرون ملک جانے سے روکا گیا، ان افراد میں اسلام آباد میں مارگلہ روڈ پر گاڑی کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار کو قتل کرنے والا امریکی سفارتکار بھی شامل تھا۔</p>

<p>رکن اسمبلی محسن داوڑ اور علی وزیر کے کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے بشیر میمن کا کہنا تھا کہ ان دونوں افراد کا نام انسپکٹر جنرل خیبرپختونخوا کی درخواست کی درخواست پر پی این آئی ایل میں ڈالے گئی۔</p>

<p>اس موقع پر انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دونوں اراکین اسمبلی کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا گیا کہ انہیں ملک سے باہر جانے سے روکا جارہا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078520">امریکی ملٹری اتاشی کی بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام</a></strong></p>

<p>اجلاس کے دوران کمیٹی کے رکن کی جانب سے اٹھائے گئے سوال پر خصوصی سیکریٹری داخلہ ڈاکٹر امیر احمد نے کہا کہ جن دو ایم این ایز کے ناموں پر سوال اٹھ رہا ہے، ان کے نام کابینہ کی منظوری کے بعد پی این آئی ایل میں ڈالے گئے تھے۔</p>

<p>اس جواب پر کمیٹی کے رکن کی جانب سے جواب دیا گیا کہ ایف آئی اے کی جانب سے استعمال کیا جانے والا پی این آئی ایل کی کوئی قانونی بنیاد نہیں اور یہ صرف ایک من گھڑت طریقہ کار ہے۔</p>

<p>بعد ازاں اجلاس کے اختتام پر کمیٹی کی اس نتیجے پر پہنچی کہ ڈی جی ایف آئی اے پی این آئی ایل اور اس کی قانونی بنیاد سے متعلق تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہے اور یہ آئین کے آرٹیکل 15 کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093791</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Dec 2018 11:44:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمال شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c1b39f377fda.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c1b39f377fda.jpg"/>
        <media:title>پی این آئی ایل سے 16 افراد کو بیرون ملک باہر جانے سے روکا—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
