<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 21:10:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 21:10:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا: آتش فشاں پھٹنے کے بعد سونامی سے تباہی، 281افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1093981/</link>
      <description>&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/269212967102968/" data-width="650"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا کے آبنائے سندا کے ساحلی علاقے میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد آنے والے سونامی کے نتیجے میں کم از کم 281 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان ستوپو پروو نگروہو کے مطابق ’چائلڈ‘ نامی آتش فشاں پھٹنے کے بعد رات ساڑھے نو بجے تباہ کن سونامی نے آبنائے سندا کا رخ کیا جس کے نتیجے میں بلند ہونے والی کئی میٹر بلند لہروں نے سیکڑوں عمارتوں کو تباہ کرکے رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نگروہو نے کہا کہ اب تک 222 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور 843 زخمی ہیں جبکہ 28 سے زائد افراد لاپتہ بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر تباہی کی ایک ویڈیو زیر گردش کر رہی ہے جہاں مقامی الیکٹرک کمپنی کے ملازمین کے لیے ’سیونٹین‘ نامی پاپ بینڈ پرفارم کر رہا تھا کہ اسی دوران سونامی آ گیا اور اس نے اسٹیج سمیت وہاں موجود سب کچھ اڑا کر رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084420"&gt;انڈونیشیا: جزیرہ لومبوک میں زلزلے سے 91 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی سمترا اور مغربی جاوا سے ٹکرانے والے اس سونامی سے آنے والی تباہی کے بعد ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ افراد کو ملبے سے نکالنے کا عمل شروع کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تباہی کی زد میں آنے والے علاقوں میں جابجا بڑے بڑے درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور ہرسو تباہی نظر آ رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سونامی آنے کے وقت کریتا بیچ پر موجود محمد بنٹانگ نے بتایا کہ فوراً اونچی لہریں آنا شروع ہوئیں جس نے چند ہی لمحوں میں سیاحوں کے مقام کو اجاڑ کر رکھ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;15سالہ بنٹانگ نے بتایا کہ ہم اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے اس مقام پر موجود تھے کہ اچانک رات 9 بجے سمندر سے لہریں بلند ہونا شروع ہو گئیں جن کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہاں نظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا اور بجلی بھی منقطع ہوگئی، باہر ہر طرف تباہی تھی اور ہم اب تک سڑک تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090091"&gt;انڈونیشیا میں مسافر جہاز سمندر میں گر کر تباہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آبنائے سندا کی دوسری جانب صوبہ لمپنگ کے شہر کلندا کے رہائشی لطفی ال رشید نے بتایا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے ساحل سے بھاگے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;23 سالہ رشید نے کہا کہ ’میں اپنی بائیک اسٹارٹ نہیں کر پا رہا تھا لہٰذا میں نے اسے وہیں چھوڑا اور بھاگ کھڑا ہوا، میں نے بس دعا کی اور جہاں تک بھاگ سکتا تھا، بھاگتا رہا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ سونامی ممکنہ طور پر آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں سمندر کے اندر وقوع پذیر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں آیا ہو گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ آتش فشاں انک کراکاٹوا سے پھٹا جو جاوا اور سمترا کے درمیان واقع آبنائے سندا میں ایک چھوٹا جزیرہ بننے کی وجہ بھی بنا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084534"&gt;انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے میں زلزلے سے تباہی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ ان دو وجوہات کے سبب ممکنہ طور پر سونامی آیا ہو گا لیکن ہم اب بھی سونامی کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ تباہی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ تباہی کی زد میں آنے والے متعدد علاقوں میں ہم اب تک نہیں پہنچ سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا کی حکام یا متعلقہ حکام کی جانب سے سونامی یا زلزلے کی پہلے سے کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی جس کے سبب زیادہ تباہی ہوئی خصوصاً ساحلی علاقوں میں کرسمس کی چھٹیاں منانے کے لیے آئے ہوئے سیاح نشانہ بنے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشین حکام نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ یہ لہریں سونامی کی وجہ بلند نہیں ہو رہیں بلکہ اس کی وجہ سمندر میں چڑھاؤ ہے لہٰذا لوگ پریشان نہ ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید دیکھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084460"&gt;انڈونیشیا میں نماز کی ادائیگی کے دوران زلزلے کی ویڈیو&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;البتہ ستوپو پروو نگروہو نے اس غلطی پر معذرت کرتے ہوئے ٹوئٹ کی تھی کہ زلزلہ نہ آنے کے سبب ابتدائی طور پر واقعے کی وجہ جاننا ممکنہ نہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہم سے ابتدائی طور پر کوئی غلطی ہوئی تو ہم معذرت خواہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سونامی کے نتیجے میں 15 سے 20 میٹر اونچی لہریں بلند ہوئیں جنہوں نے آبنائے سندا کے اطراف میں واقع تمام چیزوں کو تہس نہس کر دیا لیکن سب سے زیادہ تباہی مغربی جاوا کے ڈسٹرکٹ بنڈگلینگ میں آئی جہاں کم از کم 33 افراد ہلاک اور تقریباً 500 زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جزیرہ سمترا میں سیرنگ کے شمال میں چار جبکہ لمپنگ کے جنوب میں 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نگروہو نے مزید بتایا کہ تباہی کی زد میں آنے والے علاقوں میں بھاری ساز و سامان پہنچایا جا چکا ہے تاکہ متاثرین کو تلاش اور ان کی مدد کی جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5c205a4a9f3df'&gt;پاکستان کا انڈونیشیا سے اظہارِ افسوس&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے انڈونیشیا میں آنے والے زلزلے  اور سونامی کے بعد ہونے والے تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے انڈونیشین بھائیں کے ساتھ کھڑا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1076770387118252032"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 1883 میں بھی کراکاٹوا میں تباہ کن آتش فشاں پھٹا تھا جس کے نتیجے میں 36 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے لیکن اس کے 50سال بعد ایک آتش فشاں جزیرے انک کراکاٹوا نمودار ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا کی جیولوجیکل ایجنسی کے مطابق اس آتش فشاں کی وجہ سے جزیرے پر گزشتہ کچھ روز سے کچھ حرکت ہو رہی تھی اور دھواں بھی بلند ہو رہا تھا جس کے بعد ہفتے کی رات 9 بجے کے بعد یہ دوبارہ پھٹ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ہفتے کو ہی شام 4بجے آتش فشاں پھٹا تھا جس سے 13منٹ تک لاوا نکلتا رہا تھا اور آتش فشاں پھٹنے کی وجہ سے اس کی راکھ آسمان میں کئی سو میٹر تک اڑی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اندونیشیا دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جو اکثر تماہ کن زلزلوں، سیلاب اور سونامی کی زد میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حال ہی میں جزیرہ سلاویسی کے شہر پالو میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے سبب ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2003 میں مغربی انڈونیشیا کے علاقے سمترا میں آنے والے 9.3 شدت کے زلزلے اور بحیرہ ہند میں آنے والے سونامی کے نتیجے میں مختلف ملکوں میں دو لاکھ 20ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے جس میں سے صرف ایک لاکھ 68ہزار افراد انڈویشیا میں ہلاک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/DawnNews/videos/269212967102968/" data-width="650"></div></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انڈونیشیا کے آبنائے سندا کے ساحلی علاقے میں آتش فشاں پھٹنے کے بعد آنے والے سونامی کے نتیجے میں کم از کم 281 افراد ہلاک اور 800 سے زائد زخمی ہوگئے۔</p>

<p>نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان ستوپو پروو نگروہو کے مطابق ’چائلڈ‘ نامی آتش فشاں پھٹنے کے بعد رات ساڑھے نو بجے تباہ کن سونامی نے آبنائے سندا کا رخ کیا جس کے نتیجے میں بلند ہونے والی کئی میٹر بلند لہروں نے سیکڑوں عمارتوں کو تباہ کرکے رکھ دیا۔</p>

<p>نگروہو نے کہا کہ اب تک 222 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور 843 زخمی ہیں جبکہ 28 سے زائد افراد لاپتہ بھی ہیں۔</p>

<p>سوشل میڈیا پر تباہی کی ایک ویڈیو زیر گردش کر رہی ہے جہاں مقامی الیکٹرک کمپنی کے ملازمین کے لیے ’سیونٹین‘ نامی پاپ بینڈ پرفارم کر رہا تھا کہ اسی دوران سونامی آ گیا اور اس نے اسٹیج سمیت وہاں موجود سب کچھ اڑا کر رکھ دیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084420">انڈونیشیا: جزیرہ لومبوک میں زلزلے سے 91 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>جنوبی سمترا اور مغربی جاوا سے ٹکرانے والے اس سونامی سے آنے والی تباہی کے بعد ریسکیو ٹیموں نے متاثرہ افراد کو ملبے سے نکالنے کا عمل شروع کردیا ہے۔</p>

<p>تباہی کی زد میں آنے والے علاقوں میں جابجا بڑے بڑے درخت جڑ سے اکھڑ گئے اور ہرسو تباہی نظر آ رہی ہے۔</p>

<p>سونامی آنے کے وقت کریتا بیچ پر موجود محمد بنٹانگ نے بتایا کہ فوراً اونچی لہریں آنا شروع ہوئیں جس نے چند ہی لمحوں میں سیاحوں کے مقام کو اجاڑ کر رکھ دیا۔</p>

<p>15سالہ بنٹانگ نے بتایا کہ ہم اپنی چھٹیاں گزارنے کے لیے اس مقام پر موجود تھے کہ اچانک رات 9 بجے سمندر سے لہریں بلند ہونا شروع ہو گئیں جن کے ساحل سے ٹکرانے کے بعد یہاں نظامِ زندگی درہم برہم ہوگیا اور بجلی بھی منقطع ہوگئی، باہر ہر طرف تباہی تھی اور ہم اب تک سڑک تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090091">انڈونیشیا میں مسافر جہاز سمندر میں گر کر تباہ</a></strong> </p>

<p>آبنائے سندا کی دوسری جانب صوبہ لمپنگ کے شہر کلندا کے رہائشی لطفی ال رشید نے بتایا کہ وہ اپنی جان بچانے کے لیے ساحل سے بھاگے۔</p>

<p>23 سالہ رشید نے کہا کہ ’میں اپنی بائیک اسٹارٹ نہیں کر پا رہا تھا لہٰذا میں نے اسے وہیں چھوڑا اور بھاگ کھڑا ہوا، میں نے بس دعا کی اور جہاں تک بھاگ سکتا تھا، بھاگتا رہا‘۔</p>

<p>حکام کا کہنا ہے کہ سونامی ممکنہ طور پر آتش فشاں پھٹنے کے نتیجے میں سمندر کے اندر وقوع پذیر ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں آیا ہو گا۔</p>

<p>یہ آتش فشاں انک کراکاٹوا سے پھٹا جو جاوا اور سمترا کے درمیان واقع آبنائے سندا میں ایک چھوٹا جزیرہ بننے کی وجہ بھی بنا۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084534">انڈونیشیا کے سیاحتی جزیرے میں زلزلے سے تباہی</a></strong></p>

<p>نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان نے کہا کہ ان دو وجوہات کے سبب ممکنہ طور پر سونامی آیا ہو گا لیکن ہم اب بھی سونامی کی اصل وجوہات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے اندیشہ ظاہر کیا کہ تباہی کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے کیونکہ تباہی کی زد میں آنے والے متعدد علاقوں میں ہم اب تک نہیں پہنچ سکے۔</p>

<p>انڈونیشیا کی حکام یا متعلقہ حکام کی جانب سے سونامی یا زلزلے کی پہلے سے کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی تھی جس کے سبب زیادہ تباہی ہوئی خصوصاً ساحلی علاقوں میں کرسمس کی چھٹیاں منانے کے لیے آئے ہوئے سیاح نشانہ بنے۔</p>

<p>انڈونیشین حکام نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ یہ لہریں سونامی کی وجہ بلند نہیں ہو رہیں بلکہ اس کی وجہ سمندر میں چڑھاؤ ہے لہٰذا لوگ پریشان نہ ہوں۔</p>

<p><strong>مزید دیکھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084460">انڈونیشیا میں نماز کی ادائیگی کے دوران زلزلے کی ویڈیو</a></strong></p>

<p>البتہ ستوپو پروو نگروہو نے اس غلطی پر معذرت کرتے ہوئے ٹوئٹ کی تھی کہ زلزلہ نہ آنے کے سبب ابتدائی طور پر واقعے کی وجہ جاننا ممکنہ نہ تھا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہم سے ابتدائی طور پر کوئی غلطی ہوئی تو ہم معذرت خواہ ہیں۔</p>

<p>سونامی کے نتیجے میں 15 سے 20 میٹر اونچی لہریں بلند ہوئیں جنہوں نے آبنائے سندا کے اطراف میں واقع تمام چیزوں کو تہس نہس کر دیا لیکن سب سے زیادہ تباہی مغربی جاوا کے ڈسٹرکٹ بنڈگلینگ میں آئی جہاں کم از کم 33 افراد ہلاک اور تقریباً 500 زخمی ہو گئے۔</p>

<p>جزیرہ سمترا میں سیرنگ کے شمال میں چار جبکہ لمپنگ کے جنوب میں 7 افراد جان کی بازی ہار گئے۔</p>

<p>نگروہو نے مزید بتایا کہ تباہی کی زد میں آنے والے علاقوں میں بھاری ساز و سامان پہنچایا جا چکا ہے تاکہ متاثرین کو تلاش اور ان کی مدد کی جا سکے۔</p>

<h3 id='5c205a4a9f3df'>پاکستان کا انڈونیشیا سے اظہارِ افسوس</h3>

<p>پاکستان نے انڈونیشیا میں آنے والے زلزلے  اور سونامی کے بعد ہونے والے تباہی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے۔ </p>

<p>دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ایک پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اس مشکل گھڑی میں اپنے انڈونیشین بھائیں کے ساتھ کھڑا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1076770387118252032"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ 1883 میں بھی کراکاٹوا میں تباہ کن آتش فشاں پھٹا تھا جس کے نتیجے میں 36 ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے تھے لیکن اس کے 50سال بعد ایک آتش فشاں جزیرے انک کراکاٹوا نمودار ہوا تھا۔</p>

<p>انڈونیشیا کی جیولوجیکل ایجنسی کے مطابق اس آتش فشاں کی وجہ سے جزیرے پر گزشتہ کچھ روز سے کچھ حرکت ہو رہی تھی اور دھواں بھی بلند ہو رہا تھا جس کے بعد ہفتے کی رات 9 بجے کے بعد یہ دوبارہ پھٹ گیا۔</p>

<p>اس سے قبل ہفتے کو ہی شام 4بجے آتش فشاں پھٹا تھا جس سے 13منٹ تک لاوا نکلتا رہا تھا اور آتش فشاں پھٹنے کی وجہ سے اس کی راکھ آسمان میں کئی سو میٹر تک اڑی تھی۔</p>

<p>اندونیشیا دنیا کے ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جو اکثر تماہ کن زلزلوں، سیلاب اور سونامی کی زد میں رہتے ہیں۔</p>

<p>حال ہی میں جزیرہ سلاویسی کے شہر پالو میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے سبب ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>

<p>2003 میں مغربی انڈونیشیا کے علاقے سمترا میں آنے والے 9.3 شدت کے زلزلے اور بحیرہ ہند میں آنے والے سونامی کے نتیجے میں مختلف ملکوں میں دو لاکھ 20ہزار لوگ ہلاک ہو گئے تھے جس میں سے صرف ایک لاکھ 68ہزار افراد انڈویشیا میں ہلاک ہوئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1093981</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Dec 2018 09:02:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c1f3e02bc6e7.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c1f3e02bc6e7.jpg"/>
        <media:title>سونامی کے بعد کریتا کے علاقے میں تباہی کے آثار دیکھے جا سکتے ہیں— فوٹو:اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
