<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:18:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:18:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جعلی اکاؤنٹس کیس: سرکاری اداروں کو ناکارہ بنا کر کوڑیوں کے دام خریدا گیا، جے آئی ٹی رپورٹ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094127/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں  نے بدعنوانی کے ہتھکنڈے استعمال کرکے سرکاری اداروں پر قبضہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1453665/zardari-accomplices-grabbed-state-entities-jit-report"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ اومنی گروپ، جو مبینہ طور پر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کا تھا، نےسرکاری انتظام میں چلنے والے اداروں، ٹھٹھہ سیمنٹ فیکٹری، ٹھٹھہ شوگر ملز، نوڈیرو شوگر ملز اور دادو شوگر ملز  انتہائی معمولی قیمت میں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا کہ پہلے حکومتِ سندھ نے فنڈز اور مراعات روک کر ان اداروں کو غیر فعال کیا اور پھر اومنی گروپ کی زیر ملکیت کمپنیوں کی مدد سے خرید لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090368"&gt;جعلی اکاؤنٹس کا مقدمہ درج ہوا تو اس کا بھی دفاع کر سکتا ہوں، زرداری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ٹھٹھہ سیمنٹ کو اومنی گروپ نے 13 کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدا اور رقم جعلی بینک اکاؤنٹ سے ادا کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح نوڈیرو شوگر ملز 2001  میں صرف 6 کروڑ 80 لاکھ روپے میں خریدی گئی جبکہ اس وقت بھی اس کی مارکیٹ ویلیو 14 کروڑ 28 لاکھ روپے تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ٹھٹھہ شوگر ملز 2013 میں  اومنی گروپ کو 12 کروڑ  75 لاکھ روپے میں فروخت کی گئی، دوسری جانب دادو شوگر ملز بھی سندھ حکومت کے زیر انتظام تھی جسے 2008 میں 9 کروڑ روپے میں فروخت کیا جبکہ اس کی اصل مالیت 62 کروڑ 67 لاکھ روپےتھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089610"&gt;جعلی اکاؤنٹس کیس: 107 اکاؤنٹس سے 54 ارب کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں جب وزیر اطلاعا ت فواد چوہدری سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ کا طریقہ کار بڑ ا منظم تھا، وہ پہلے سرکار کے زیر انتظام اداروں کو غیر فعال دکھاتے اور پھر اسےکوڑیوں کے دام پر خرید لیتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں مذکورہ گروپ ادارے کی بحالی کے لیے سبسڈی کی مد میں ملنے والی رقم بھی ہڑپ کرلیتا، وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ گروپ نہ صرف کم قیمت پر سرکاری کمپنیاں حاصل کرتا بلکہ غریب مزدوروں اور کسانوں کے لیے ان اداروں کو ملنے والی رقم بھی ہڑپ کرلیتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اطلاعات و نشریات کا مزید کہنا تھا  موجودہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ  نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت چاروں سرکاری اداروں کی خرید و فرخت میں اس قسم کی مشتبہ ڈیلز میں خاصا اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091112"&gt;جعلی اکاؤنٹ کیس: جے آئی ٹی کو مکمل رپورٹ جمع کروانے کیلئے 2ہفتوں کی مہلت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ نے چاروں اداروں کو خریدنےکے ساتھ ساتھ حکومتِ سندھ کی جانب سے ان اداروں کو سبسڈی میں فراہم کی جانے والی 7 ارب 19 کروڑ روپےکی خطیر رقم سے بھی فائدہ اٹھایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اومنی گروپ نے مالی دھوکا دہی کی چالیں چلتے ہوئے 53 ارب 53 کروڑ روپے تک کے بینک سے قرضے بھی حاصل کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں جے آئی ٹی نے تجویز دی کہ مذکورہ مقدمہ قومی احتساب بیورو میں بھیجا جائے اور اومنی گروپ اور ان کے ڈائریکٹرز کے تمام اثاثہ جات منجمد کردیے جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: جعلی بینک اکاؤنٹ کیس میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کے ساتھیوں  نے بدعنوانی کے ہتھکنڈے استعمال کرکے سرکاری اداروں پر قبضہ کیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1453665/zardari-accomplices-grabbed-state-entities-jit-report">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا کہ اومنی گروپ، جو مبینہ طور پر آصف علی زرداری کے قریبی ساتھیوں کا تھا، نےسرکاری انتظام میں چلنے والے اداروں، ٹھٹھہ سیمنٹ فیکٹری، ٹھٹھہ شوگر ملز، نوڈیرو شوگر ملز اور دادو شوگر ملز  انتہائی معمولی قیمت میں حاصل کیں۔</p>

<p>وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے بتایا کہ پہلے حکومتِ سندھ نے فنڈز اور مراعات روک کر ان اداروں کو غیر فعال کیا اور پھر اومنی گروپ کی زیر ملکیت کمپنیوں کی مدد سے خرید لیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090368">جعلی اکاؤنٹس کا مقدمہ درج ہوا تو اس کا بھی دفاع کر سکتا ہوں، زرداری</a></strong> </p>

<p>جے آئی ٹی کی رپورٹ کے مطابق ٹھٹھہ سیمنٹ کو اومنی گروپ نے 13 کروڑ 50 لاکھ روپے میں خریدا اور رقم جعلی بینک اکاؤنٹ سے ادا کی گئی۔</p>

<p>اسی طرح نوڈیرو شوگر ملز 2001  میں صرف 6 کروڑ 80 لاکھ روپے میں خریدی گئی جبکہ اس وقت بھی اس کی مارکیٹ ویلیو 14 کروڑ 28 لاکھ روپے تھی۔</p>

<p>اسی طرح ٹھٹھہ شوگر ملز 2013 میں  اومنی گروپ کو 12 کروڑ  75 لاکھ روپے میں فروخت کی گئی، دوسری جانب دادو شوگر ملز بھی سندھ حکومت کے زیر انتظام تھی جسے 2008 میں 9 کروڑ روپے میں فروخت کیا جبکہ اس کی اصل مالیت 62 کروڑ 67 لاکھ روپےتھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089610">جعلی اکاؤنٹس کیس: 107 اکاؤنٹس سے 54 ارب کی ٹرانزیکشنز کا انکشاف</a></strong></p>

<p>اس بارے میں جب وزیر اطلاعا ت فواد چوہدری سے گفتگو کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ اومنی گروپ کا طریقہ کار بڑ ا منظم تھا، وہ پہلے سرکار کے زیر انتظام اداروں کو غیر فعال دکھاتے اور پھر اسےکوڑیوں کے دام پر خرید لیتے۔</p>

<p>بعد ازاں مذکورہ گروپ ادارے کی بحالی کے لیے سبسڈی کی مد میں ملنے والی رقم بھی ہڑپ کرلیتا، وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ گروپ نہ صرف کم قیمت پر سرکاری کمپنیاں حاصل کرتا بلکہ غریب مزدوروں اور کسانوں کے لیے ان اداروں کو ملنے والی رقم بھی ہڑپ کرلیتا۔</p>

<p>وزیر اطلاعات و نشریات کا مزید کہنا تھا  موجودہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ  نے اپنے گزشتہ دورِ حکومت چاروں سرکاری اداروں کی خرید و فرخت میں اس قسم کی مشتبہ ڈیلز میں خاصا اہم کردار ادا کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091112">جعلی اکاؤنٹ کیس: جے آئی ٹی کو مکمل رپورٹ جمع کروانے کیلئے 2ہفتوں کی مہلت</a></strong> </p>

<p>جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق اومنی گروپ نے چاروں اداروں کو خریدنےکے ساتھ ساتھ حکومتِ سندھ کی جانب سے ان اداروں کو سبسڈی میں فراہم کی جانے والی 7 ارب 19 کروڑ روپےکی خطیر رقم سے بھی فائدہ اٹھایا۔</p>

<p>جے آئی ٹی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ اومنی گروپ نے مالی دھوکا دہی کی چالیں چلتے ہوئے 53 ارب 53 کروڑ روپے تک کے بینک سے قرضے بھی حاصل کیے۔</p>

<p>رپورٹ میں جے آئی ٹی نے تجویز دی کہ مذکورہ مقدمہ قومی احتساب بیورو میں بھیجا جائے اور اومنی گروپ اور ان کے ڈائریکٹرز کے تمام اثاثہ جات منجمد کردیے جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094127</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Dec 2018 13:10:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سید عرفان رضا)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c22f45e822d3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c22f45e822d3.jpg"/>
        <media:title>سابق صدر آصف علی زرداری—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
