<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:06:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:06:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خارجہ کا 4 ملکی دورہ، روسی ہم منصب سے ملاقات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094130/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے 4 ملکی دورے کے آخری مرحلے میں روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملاقات میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے افغانستان میں امن و استحکام کی جاری کوششوں پر خصوصی بات چیت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور دیگر حکام کے ہمراہ ماسکو پہنچے تھے، جہاں روسی حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/1077678775784165383"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اپنے دورے کے پہلے 2 روز میں انہوں نے کابل، تہران اور بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور وہاں اپنے ہم منصب اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ملاقات میں تینوں پڑوسیوں کے ساتھ علاقائی امن اور استحکام سمیت باہمی مفاد کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092678"&gt;&lt;strong&gt;زلمے خلیل زاد کی شاہ محمود سے ملاقات،ٹرمپ کے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دورہ کابل کے دوران شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی اور افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے الگ الگ ملاقات کی تھی، اس دوران شاہ محمود قریشی نے علاقائی استحکام کے لیے افغانستان میں امن پر زور دیا تھا اور اس عمل میں مدد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد دورہ تہران میں ایرانی ہم منصب جاوید ظریف سے ملاقات کی تھی اور باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تعلقات کی بہتری اہمیت پر رضا مند ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں انہوں نے گزشتہ روز چین کے درالحکومت بیجنگ کا دورہ کیا تھا، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب سے ملے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا تھا کہ دورہ چین کے دوران شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے ملاقات کی تھی اور ’باہمی اور علاقائی معاملات‘ سمیت خاص طور پر افغانستان میں امن پر تبادلہ خیال کیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اپنے 4 ملکی دورے کے آخری مرحلے میں روس کے دارالحکومت ماسکو پہنچ گئے، جہاں انہوں نے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف سے ملاقات کی۔</p>

<p>اس ملاقات کے دوران دو طرفہ تعلقات اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>

<p>ملاقات میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے افغانستان میں امن و استحکام کی جاری کوششوں پر خصوصی بات چیت کی۔</p>

<p>اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ اور دیگر حکام کے ہمراہ ماسکو پہنچے تھے، جہاں روسی حکام نے ان کا استقبال کیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/1077678775784165383"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ اپنے دورے کے پہلے 2 روز میں انہوں نے کابل، تہران اور بیجنگ کا دورہ کیا تھا اور وہاں اپنے ہم منصب اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کی تھی۔</p>

<p>اس ملاقات میں تینوں پڑوسیوں کے ساتھ علاقائی امن اور استحکام سمیت باہمی مفاد کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092678"><strong>زلمے خلیل زاد کی شاہ محمود سے ملاقات،ٹرمپ کے خط کی تفصیلات سے آگاہ کیا</strong></a></p>

<p>دورہ کابل کے دوران شاہ محمود قریشی نے افغان صدر اشرف غنی اور افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی سے الگ الگ ملاقات کی تھی، اس دوران شاہ محمود قریشی نے علاقائی استحکام کے لیے افغانستان میں امن پر زور دیا تھا اور اس عمل میں مدد کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔</p>

<p>اس کے بعد دورہ تہران میں ایرانی ہم منصب جاوید ظریف سے ملاقات کی تھی اور باہمی تعلقات اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔</p>

<p>ملاقات کے دوران دونوں وزرائے خارجہ پاکستان اور ایران کے درمیان باہمی تعلقات کی بہتری اہمیت پر رضا مند ہوئے تھے۔</p>

<p>علاوہ ازیں انہوں نے گزشتہ روز چین کے درالحکومت بیجنگ کا دورہ کیا تھا، جہاں وہ اپنے چینی ہم منصب سے ملے تھے۔</p>

<p>اس حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا تھا کہ دورہ چین کے دوران شاہ محمود قریشی نے چینی وزیر خارجہ وانگ ژی سے ملاقات کی تھی اور ’باہمی اور علاقائی معاملات‘ سمیت خاص طور پر افغانستان میں امن پر تبادلہ خیال کیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094130</guid>
      <pubDate>Wed, 26 Dec 2018 14:05:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c2343c7dfd43.jpg?r=1766348758" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c2343c7dfd43.jpg?0.6183016451942134"/>
        <media:title>دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے دو طرفہ تعلقات پر اظہار خیال کیا—فوٹو: دفتر خارجہ ٹویٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
