<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 25 Jun 2026 01:35:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 25 Jun 2026 01:35:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وارنر نے مجھے بال ٹیمپرنگ کا مشورہ دیا تھا، بین کرافٹ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094181/</link>
      <description>&lt;p&gt;آسٹریلین کپتان کیمرون بین کرافٹ نے اعتراف کیا ہے کہ بدنام زمانہ بام ٹیمپرنگ اسکینڈل میں ٹیم کے نائب کپتان ڈیوڈ وارنر نے انہیں گیند کے ساتھ ٹیمپرنگ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں سال مارچ میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین کے برخلاف بین کرافٹ پیلے رنگ کے ٹیپ سے گیند کو رگڑتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075821/"&gt;فینی ڈی وی ویلیئرز بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کس طرح منظر عام پر لائے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے میچ میں ممکنہ شکست کے پیش نظر گیند بال ٹیمپرنگ کا سہارا لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں گیند کو خراب کرنے کے لیے بلےباز کیمرون بینکرافٹ کو چنا گیا جنہوں نے تیسرے روز پیلے رنگ کی چیز سے منصوبے کو عملی جامع پہنایا لیکن انہیں کیمروں کی مدد سے پکڑ لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں کپتان اسٹیون اسمتھ نے بال ٹیمپرنگ کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہماری ٹیم کی قیادت کا منصوبہ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075821/"&gt;آسٹریلین کپتان کا جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کا اعتراف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس واقعے پر آسٹریلین ٹیم کو دنیا بھر سے سمیت اپنے ملک سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں تک کہ آسٹریلین وزیر اعظم نے اسمتھ کو فوری طور پر قیادت سے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے کپتان اسٹیون اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک سال کی پابندی عائد کردی تھی جبکہ بین کرافٹ پر بھی 9 ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تمام معاملے کے بعد ہیڈ کوچ ڈین لیمن نے بھی ٹیم کی کوچنگ سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے کوچنگ کی ذمے داری جسٹن لینگر کو سونپ دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075827/"&gt;بال ٹیمپرنگ پر اسمتھ، وارنر اور بین کرافٹ معطل، وطن واپسی کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرکٹ آسٹریلیا نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی تھی جس میں وارنر کو ماسٹر مائنڈ بتایا گیا تھا جس کی ایک انٹرویو میں بین کرافٹ نے بھی تصدیق کردی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ڈیو (ڈیوڈ وارنر) نے میچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گیند کی ساکھ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا اور مجھے اس وقت اور کچھ نہیں سوجھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک انٹرویو میں کیمرون بین کرافٹ نے کہا کہ مجھے اس وقت کچھ اور نہیں سوجھا کیونکہ میں چاہتا کہ میں ٹیم کے منصوبوں میں فٹ رہوں تاکہ میری قدر کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ مجھے لگا کہ اگر میں ٹیم کے منصوبوں کو عملی جامع پہناؤں گا تو مجھے زیادہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے اس غلطی کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075848"&gt;بال ٹیمپرنگ معاملہ: اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر پر ایک سال کی پابندی عائد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اوپننگ بلے باز نے خود کو قربانی کا بکرا بنانے کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس آپشن موجود تھا اور میں نے بڑی غلطی کی اور اس سب پر میں قابو پا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے سابق کپتان اسٹیو اسمتھ نے بھی اس موضوع پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس منصوبے کا حصہ تو نہیں تھے لیکن بال ٹیمپرنگ نہ روکنے کو وہ بحیثیت کپتان اپنی ناکامی تصور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آسٹریلین کپتان کیمرون بین کرافٹ نے اعتراف کیا ہے کہ بدنام زمانہ بام ٹیمپرنگ اسکینڈل میں ٹیم کے نائب کپتان ڈیوڈ وارنر نے انہیں گیند کے ساتھ ٹیمپرنگ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔</p>

<p>رواں سال مارچ میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان کیپ ٹاؤن میں کھیلے گئے تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قوانین کے برخلاف بین کرافٹ پیلے رنگ کے ٹیپ سے گیند کو رگڑتے ہوئے پکڑے گئے تھے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075821/">فینی ڈی وی ویلیئرز بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کس طرح منظر عام پر لائے؟</a></strong></p>

<p>آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے تیسرے میچ میں ممکنہ شکست کے پیش نظر گیند بال ٹیمپرنگ کا سہارا لیا تھا۔</p>

<p>اس سلسلے میں گیند کو خراب کرنے کے لیے بلےباز کیمرون بینکرافٹ کو چنا گیا جنہوں نے تیسرے روز پیلے رنگ کی چیز سے منصوبے کو عملی جامع پہنایا لیکن انہیں کیمروں کی مدد سے پکڑ لیا گیا۔</p>

<p>بعد ازاں کپتان اسٹیون اسمتھ نے بال ٹیمپرنگ کا اقرار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہماری ٹیم کی قیادت کا منصوبہ تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075821/">آسٹریلین کپتان کا جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ میں بال ٹمپرنگ کا اعتراف</a></strong></p>

<p>اس واقعے پر آسٹریلین ٹیم کو دنیا بھر سے سمیت اپنے ملک سے بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور یہاں تک کہ آسٹریلین وزیر اعظم نے اسمتھ کو فوری طور پر قیادت سے ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔</p>

<p>اس کے بعد کرکٹ آسٹریلیا نے کپتان اسٹیون اسمتھ اور نائب کپتان ڈیوڈ وارنر پر ایک سال کی پابندی عائد کردی تھی جبکہ بین کرافٹ پر بھی 9 ماہ کی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔</p>

<p>اس تمام معاملے کے بعد ہیڈ کوچ ڈین لیمن نے بھی ٹیم کی کوچنگ سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے کوچنگ کی ذمے داری جسٹن لینگر کو سونپ دی گئی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075827/">بال ٹیمپرنگ پر اسمتھ، وارنر اور بین کرافٹ معطل، وطن واپسی کا حکم</a></strong></p>

<p>کرکٹ آسٹریلیا نے معاملے کی تفصیلی تحقیقات کی تھی جس میں وارنر کو ماسٹر مائنڈ بتایا گیا تھا جس کی ایک انٹرویو میں بین کرافٹ نے بھی تصدیق کردی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ڈیو (ڈیوڈ وارنر) نے میچ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے گیند کی ساکھ تبدیل کرنے کا مشورہ دیا اور مجھے اس وقت اور کچھ نہیں سوجھا۔</p>

<p>ایک انٹرویو میں کیمرون بین کرافٹ نے کہا کہ مجھے اس وقت کچھ اور نہیں سوجھا کیونکہ میں چاہتا کہ میں ٹیم کے منصوبوں میں فٹ رہوں تاکہ میری قدر کی جائے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ مجھے لگا کہ اگر میں ٹیم کے منصوبوں کو عملی جامع پہناؤں گا تو مجھے زیادہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے گا لیکن میرا خیال ہے کہ مجھے اس غلطی کی کافی بھاری قیمت چکانا پڑی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1075848">بال ٹیمپرنگ معاملہ: اسٹیو اسمتھ، ڈیوڈ وارنر پر ایک سال کی پابندی عائد</a></strong></p>

<p>تاہم اوپننگ بلے باز نے خود کو قربانی کا بکرا بنانے کے تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس آپشن موجود تھا اور میں نے بڑی غلطی کی اور اس سب پر میں قابو پا سکتا تھا۔</p>

<p>گزشتہ ہفتے سابق کپتان اسٹیو اسمتھ نے بھی اس موضوع پر لب کشائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس منصوبے کا حصہ تو نہیں تھے لیکن بال ٹیمپرنگ نہ روکنے کو وہ بحیثیت کپتان اپنی ناکامی تصور کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094181</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Dec 2018 20:59:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c23d0d91a776.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c23d0d91a776.jpg"/>
        <media:title>کیمرون بین کرافٹ نے انکشاف کیا کہ ڈیوڈ وارنر نے انہیں بال ٹیمپرنگ کرنے کی ہدایت کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
