<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 09:26:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 09:26:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی آئی اے کے پاس ملکی و غیر ملکی پروازوں کے لیے صرف 32 طیارے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094210/</link>
      <description>&lt;p&gt;راولپنڈی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے پاس 32 طیارے کام کر رہے ہیں جن میں سے 6 ابھی زیر مرمت ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;32 طیاروں میں 12 بوئنگ 777، 11 اے 320 اور 9 اے ٹی آر طیارے 30 مقامات پر پرواز بھر رہے ہیں جبکہ زیر مرمت طیاروں میں ایک بوئنگ 777، 2 اے 320 اور 3 اے ٹی آر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی آئی اے کے پاس مختلف اقسام کے 64 طیارے ہوا کرتے تھے جن میں ایئر بس اے 310، اے 300 اور اے 330، بوئنگ 737 اور 747 اور ڈوگلاس ڈی سی 9 اور ڈی سی 10 شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تعداد اب کم ہوکر صرف 32 رہ گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089323"&gt;پی آئی اے کو ماہانہ 2 ارب روپے کے آپریشنل خسارے کا سامنا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی آئی کے ترجمان مشہود تاجور نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 32 طیاروں میں سے 26 پرواز بھر رہے ہیں جبکہ 6 زیر مرمت ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو بڑھتے ہوئے مسافروں کے پیش نظر اپنے طیاروں میں اضافے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طیاروں کی کمی اور ایک نجی ایئرلائن کی بندش کی وجہ سے کرایوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والے کسی بھی ایئرلائنز نے مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اپنے طیاروں میں اضافہ نہیں کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093544"&gt;پی آئی اے کے 46 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایئرلائن سے منسلک ایک انجینیئر کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ دور حکومت میں طیاروں کی مرمت کو نظر انداز کیا گیا تھا تاہم حالیہ حکومت طیاروں کے اسپیئر پارٹس پر توجہ دے رہی ہے جو نقصانات کو کم کرنے اور زیادہ طیاروں کو کام کرنے میں مدد فراہم کرے گی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ لا’ئٹ بلب سمیت دیگر پارٹس دستیاب نہ ہونے سے کیبن کرو سمیت مسافروں کو بھی پریشانی کا سامنا تھا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں ماضی میں لائٹ بلب بھی نہیں دیے جاتے تھے تاہم اب صورتحال بہتر ہورہی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں 27 دسمبر 2018 کو شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>راولپنڈی: پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے پاس 32 طیارے کام کر رہے ہیں جن میں سے 6 ابھی زیر مرمت ہیں۔</p>

<p>32 طیاروں میں 12 بوئنگ 777، 11 اے 320 اور 9 اے ٹی آر طیارے 30 مقامات پر پرواز بھر رہے ہیں جبکہ زیر مرمت طیاروں میں ایک بوئنگ 777، 2 اے 320 اور 3 اے ٹی آر شامل ہیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ پی آئی اے کے پاس مختلف اقسام کے 64 طیارے ہوا کرتے تھے جن میں ایئر بس اے 310، اے 300 اور اے 330، بوئنگ 737 اور 747 اور ڈوگلاس ڈی سی 9 اور ڈی سی 10 شامل ہیں۔</p>

<p>یہ تعداد اب کم ہوکر صرف 32 رہ گئی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089323">پی آئی اے کو ماہانہ 2 ارب روپے کے آپریشنل خسارے کا سامنا</a></strong></p>

<p>پی آئی کے ترجمان مشہود تاجور نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 32 طیاروں میں سے 26 پرواز بھر رہے ہیں جبکہ 6 زیر مرمت ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کو بڑھتے ہوئے مسافروں کے پیش نظر اپنے طیاروں میں اضافے کی ضرورت ہے۔</p>

<p>طیاروں کی کمی اور ایک نجی ایئرلائن کی بندش کی وجہ سے کرایوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو بھی پریشانی کا سامنا ہے۔</p>

<p>ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کام کرنے والے کسی بھی ایئرلائنز نے مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر اپنے طیاروں میں اضافہ نہیں کیا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093544">پی آئی اے کے 46 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف</a></strong></p>

<p>ایئرلائن سے منسلک ایک انجینیئر کا کہنا تھا کہ ’گزشتہ دور حکومت میں طیاروں کی مرمت کو نظر انداز کیا گیا تھا تاہم حالیہ حکومت طیاروں کے اسپیئر پارٹس پر توجہ دے رہی ہے جو نقصانات کو کم کرنے اور زیادہ طیاروں کو کام کرنے میں مدد فراہم کرے گی‘۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ لا’ئٹ بلب سمیت دیگر پارٹس دستیاب نہ ہونے سے کیبن کرو سمیت مسافروں کو بھی پریشانی کا سامنا تھا‘۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ’ہمیں ماضی میں لائٹ بلب بھی نہیں دیے جاتے تھے تاہم اب صورتحال بہتر ہورہی ہے‘۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر ڈان اخبار میں 27 دسمبر 2018 کو شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094210</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Dec 2018 13:09:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد اصغر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c2486d50604a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c2486d50604a.jpg"/>
        <media:title>پی آئی اے طیارے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
