<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 20:09:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 20:09:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا: سونامی کے بعد آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094255/</link>
      <description>&lt;p&gt;جکارتا: انڈونیشیا میں گزشتہ ہفتے آنے والے سونامی کے بعد آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جس کے بعد علاقے کو خالی کراتے ہوئے تمام پروازوں اور بحری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا میں گزشتہ ہفتے آنے والے سونامی کو جنم دینے والے آتش فشاں انک کراکاٹوا کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا ہے جس کے بعد حکام نے نزدیکی جزائر کے لوگوں کو ساحل سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتہ کو آتش فشاں پھٹنے سے اس کے سمندر میں موجود حصے میں بڑی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی اور ماہرین کے مطابق اسی کے سبب سونامی نے جنم لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093981"&gt;انڈونیشیا: آتش فشاں پھٹنے کے بعد سونامی سے تباہی، 281افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سونامی کی دو سے تین میٹر بلند لہریں انک کراکاٹوا کے دونوں اطراف میں واقع انڈونیشین جزائر جاوا اور سماترا کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آتش فشاں کی مسلسل سرگرمی کے باعث انڈونیشی حکام نے جمعرات کو خطرے کا لیول ایک اور درجے بڑھا دیا ہے اور تمام پروازوں کو انک کراکاٹوا کے نزدیک پرواز سے روک دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا کے محکمہ ارضیات نے جزیرے کے ارد گرد پانچ کلومیٹر تک تمام پروازوں اور بحری جہازوں کے آمد و رفت پر پابندی لگادی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ آتش فشاں اب تک پوری طرح نہیں پھٹا ہے اور خدشہ ہے کہ اگر وہ پوری طرح پھٹا تو زیادہ شدید سونامی جنم لے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تصاویر دیکھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093996"&gt;انڈونیشیا میں سونامی سے تباہی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاپان کے خلائی تحقیقاتی ادارے نے سیٹلائٹ کی مدد سے جمع کیے جانے والے ریڈار ڈیٹا کو تصاویر کی شکل دی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد سے انک کراکاٹوا نامی جزیرے کے حجم میں نمایاں کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آتش فشاں کے اوپر موجود دھویں کے گہرے بادلوں کے باعث سیٹلائٹ کے ذریعے اس کی براہِ راست تصاویر لینا ممکن نہیں جس کے باعث سائنس دان ریڈار ڈیٹا کی مدد سے علاقے میں آنے والی جغرافیائی تبدیلیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق نئے ڈیٹا سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد جزیرے کا جنوب مغربی حصہ غائب ہوگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی سے منسلک ماہر ڈیو پیٹلے نے ایک خصوصی بلاگ میں لکھا کہ تازہ ترین ڈیٹا سے اس مفروضے کو تقویت ملتی ہے کہ آتش فشاں کا ایک حصہ منہدم ہونے کی وجہ سے ہی سونامی نے جنم لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتے کی شب آنے والی سونامی سے اب تک 430 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیو پیٹلے کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس وقت آتش فشاں میں کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا میں حکام نے خلیجِ سندا میں واقع جزائر پر رہنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک اور سونامی کے خطرے کے پیشِ نظر ساحلی پٹی سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094054"&gt;انڈونیشیا: سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 373 ہوگئی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاپانی خلائی ایجنسی کے ڈیٹا کے مطابق جزیرے کی جانب سے مسلسل ایک ہی طرح کی لہریں سمندر کی طرف بڑھتی دیکھی جاسکتی ہیں جس سے لگتا ہے کہ آتش فشاں کے زیرِ سمندر حصے سے اب بھی لاوا نکل رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انک کراکاٹوا نامی یہ آتش فشاں انڈونیشیا کے بدنامِ زمانہ کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا اور اسی لیے اسے مقامی زبان میں انک کراکاٹوا یعنی 'کراکاٹوا کا بچہ' کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراکاٹوا کا آتش فشاں 1883 میں پھٹا تھا اور اس کے پھٹنے سے پوری دنیا کے ماحول پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انک کراکاٹوا پہلے پہل 1929 میں سمندر میں ایک چھوٹے جزیرے کی صورت میں برآمد ہوا تھا جس کے بعد سے اس کے حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جکارتا: انڈونیشیا میں گزشتہ ہفتے آنے والے سونامی کے بعد آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے جس کے بعد علاقے کو خالی کراتے ہوئے تمام پروازوں اور بحری جہازوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔</p>

<p>انڈونیشیا میں گزشتہ ہفتے آنے والے سونامی کو جنم دینے والے آتش فشاں انک کراکاٹوا کا بڑا حصہ منہدم ہوگیا ہے جس کے بعد حکام نے نزدیکی جزائر کے لوگوں کو ساحل سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔</p>

<p>ہفتہ کو آتش فشاں پھٹنے سے اس کے سمندر میں موجود حصے میں بڑی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی تھی اور ماہرین کے مطابق اسی کے سبب سونامی نے جنم لیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093981">انڈونیشیا: آتش فشاں پھٹنے کے بعد سونامی سے تباہی، 281افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>سونامی کی دو سے تین میٹر بلند لہریں انک کراکاٹوا کے دونوں اطراف میں واقع انڈونیشین جزائر جاوا اور سماترا کے ساحلی علاقوں سے ٹکرائی تھیں۔</p>

<p>آتش فشاں کی مسلسل سرگرمی کے باعث انڈونیشی حکام نے جمعرات کو خطرے کا لیول ایک اور درجے بڑھا دیا ہے اور تمام پروازوں کو انک کراکاٹوا کے نزدیک پرواز سے روک دیا ہے۔</p>

<p>انڈونیشیا کے محکمہ ارضیات نے جزیرے کے ارد گرد پانچ کلومیٹر تک تمام پروازوں اور بحری جہازوں کے آمد و رفت پر پابندی لگادی ہے۔</p>

<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ آتش فشاں اب تک پوری طرح نہیں پھٹا ہے اور خدشہ ہے کہ اگر وہ پوری طرح پھٹا تو زیادہ شدید سونامی جنم لے سکتا ہے۔</p>

<p><strong>تصاویر دیکھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093996">انڈونیشیا میں سونامی سے تباہی</a></strong></p>

<p>جاپان کے خلائی تحقیقاتی ادارے نے سیٹلائٹ کی مدد سے جمع کیے جانے والے ریڈار ڈیٹا کو تصاویر کی شکل دی جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد سے انک کراکاٹوا نامی جزیرے کے حجم میں نمایاں کمی آئی ہے۔</p>

<p>آتش فشاں کے اوپر موجود دھویں کے گہرے بادلوں کے باعث سیٹلائٹ کے ذریعے اس کی براہِ راست تصاویر لینا ممکن نہیں جس کے باعث سائنس دان ریڈار ڈیٹا کی مدد سے علاقے میں آنے والی جغرافیائی تبدیلیوں کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>

<p>ماہرین کے مطابق نئے ڈیٹا سے ظاہر ہو رہا ہے کہ آتش فشاں پھٹنے کے بعد جزیرے کا جنوب مغربی حصہ غائب ہوگیا ہے۔</p>

<p>برطانیہ کی شیفیلڈ یونیورسٹی سے منسلک ماہر ڈیو پیٹلے نے ایک خصوصی بلاگ میں لکھا کہ تازہ ترین ڈیٹا سے اس مفروضے کو تقویت ملتی ہے کہ آتش فشاں کا ایک حصہ منہدم ہونے کی وجہ سے ہی سونامی نے جنم لیا تھا۔</p>

<p>ہفتے کی شب آنے والی سونامی سے اب تک 430 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔</p>

<p>ڈیو پیٹلے کے مطابق سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ یہ معلوم کیا جائے کہ اس وقت آتش فشاں میں کیا ہو رہا ہے اور آگے کیا ہونے والا ہے۔</p>

<p>انڈونیشیا میں حکام نے خلیجِ سندا میں واقع جزائر پر رہنے والوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایک اور سونامی کے خطرے کے پیشِ نظر ساحلی پٹی سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094054">انڈونیشیا: سونامی سے ہلاکتوں کی تعداد 373 ہوگئی</a></strong></p>

<p>جاپانی خلائی ایجنسی کے ڈیٹا کے مطابق جزیرے کی جانب سے مسلسل ایک ہی طرح کی لہریں سمندر کی طرف بڑھتی دیکھی جاسکتی ہیں جس سے لگتا ہے کہ آتش فشاں کے زیرِ سمندر حصے سے اب بھی لاوا نکل رہا ہے۔</p>

<p>انک کراکاٹوا نامی یہ آتش فشاں انڈونیشیا کے بدنامِ زمانہ کراکاٹوا آتش فشاں کے پھٹنے کے نتیجے میں معرض وجود میں آیا تھا اور اسی لیے اسے مقامی زبان میں انک کراکاٹوا یعنی 'کراکاٹوا کا بچہ' کہا جاتا ہے۔</p>

<p>کراکاٹوا کا آتش فشاں 1883 میں پھٹا تھا اور اس کے پھٹنے سے پوری دنیا کے ماحول پر اثرات مرتب ہوئے تھے۔</p>

<p>انک کراکاٹوا پہلے پہل 1929 میں سمندر میں ایک چھوٹے جزیرے کی صورت میں برآمد ہوا تھا جس کے بعد سے اس کے حجم میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094255</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Dec 2018 00:47:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c2523a162bea.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c2523a162bea.jpg"/>
        <media:title>انڈونیشیا کے پہاڑ آتش فشاں انک کراکاٹوا سے آتش فشاں پھٹنے سے قبل دھواں نکلتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
