<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 21:53:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 21:53:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجلی چوری میں معاونت، 20 ہزار ملازمین کیخلاف مقدمات درج
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094269/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بتایا گیا کہ بجلی کی متعدد تقسیم کار کمپنیوں کے تقریباً 20 ہزار ملازمین کے خلاف بجلی چوری میں اعانت فراہم کرنے کے خلاف مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں توانائی کے خصوصی سیکریٹری حسن نثار جامی نے بتایا کہ وزارت توانائی کی جانب سے ان ملازمین کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں تاخیر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی سست روی کے باعث ہورہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ 6 ماہ کے عرصے میں بجلی کے نادہندگان سے 15 کروڑ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072645"&gt;بجلی کے ناقص ترسیلی نظام سے قومی خزانے کو 213 ارب کا نقصان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حکام نے کمیٹی کو وزارت توانائی کی دی گئیں ہدایات پر عملدرآمد میں پیش آنے والی دشواریوں سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (لیسکو) کا کہنا تھا کہ ایک مقامی اسٹیل مل کے مالک کے خلاف بجلی چوری پر مقدمہ درج کیا گیا لیکن مالک کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ سے لیے جانے والے اسٹے آرڈر کی مدت ختم ہونے کے باوجود پنجاب پولیس اب بھی مالک کو گرفتار کرنے اور اس کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وزارت توانائی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ایک جامع منصوبہ مرتب کررہی ہیں تا کہ بجلی چوری کے واقعات میں کمی آسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089975"&gt;پنجاب: بجلی اور گیس چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اجلاس میں جب اراکین نے یہ پوچھا کہ بجلی کے جن فیڈرز سے بے تحاشہ بجلی چوری کی جارہی ہے وہاں 12 گھنٹے سے زائد بجلی کیوں فراہم کی جارہی ہے تو حکام نے بتایا کہ پالیسی فیصلے وفاقی کابینہ بناتی ہے لیکن اراکین نے مزید تفصیلات پر زور دیا تو یہ انکشاف سامنے آیا کہ وزارت توانائی اس بارے میں سمری کابینہ کو ارسال ہی نہیں کرسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر کمیٹی نے وزارت توانائی کو کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے سمری ارسال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جہاں فیڈرز سے سب سے زیادہ بجلی چوری کی جارہی ہے وہاں صرف 2 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر سینیٹر نعمان وزیر نے مطالبہ کیا کہ بجلی چوری کی روک تھام  کے لیے تشکیل دیا جانے والا منصوبہ حقیقت پسندانہ اور صارفین کے لیے  مالی طور پر قابلِ عمل  ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091478"&gt;خسارے سے نمٹنے کیلئے بجلی چوروں اور نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کمپنی (پیسکو) کو 3 ہزار کلومیٹر پر محیط اسمارٹ کیبل کے لیے سروے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ لیسکو اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (آئیسکو) کی جانب اسمارٹ کیبلز اور ڈیجیٹل میٹرز لگا دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 28 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے توانائی کو بتایا گیا کہ بجلی کی متعدد تقسیم کار کمپنیوں کے تقریباً 20 ہزار ملازمین کے خلاف بجلی چوری میں اعانت فراہم کرنے کے خلاف مقدمات درج کیے جاچکے ہیں۔</p>

<p>کمیٹی کا اجلاس سینیٹر فدا محمد کی سربراہی میں منعقد ہوا جس میں توانائی کے خصوصی سیکریٹری حسن نثار جامی نے بتایا کہ وزارت توانائی کی جانب سے ان ملازمین کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں تاخیر بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی سست روی کے باعث ہورہی ہے۔</p>

<p>کمیٹی اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ گزشتہ 6 ماہ کے عرصے میں بجلی کے نادہندگان سے 15 کروڑ روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1072645">بجلی کے ناقص ترسیلی نظام سے قومی خزانے کو 213 ارب کا نقصان</a></strong></p>

<p>اس سلسلے میں بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حکام نے کمیٹی کو وزارت توانائی کی دی گئیں ہدایات پر عملدرآمد میں پیش آنے والی دشواریوں سے آگاہ کیا۔</p>

<p>لاہور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (لیسکو) کا کہنا تھا کہ ایک مقامی اسٹیل مل کے مالک کے خلاف بجلی چوری پر مقدمہ درج کیا گیا لیکن مالک کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ سے لیے جانے والے اسٹے آرڈر کی مدت ختم ہونے کے باوجود پنجاب پولیس اب بھی مالک کو گرفتار کرنے اور اس کے خلاف کارروائی میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کررہی ہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ اجلاس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ وزارت توانائی اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ایک جامع منصوبہ مرتب کررہی ہیں تا کہ بجلی چوری کے واقعات میں کمی آسکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089975">پنجاب: بجلی اور گیس چوری کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیوں کا آغاز</a></strong></p>

<p>تاہم اجلاس میں جب اراکین نے یہ پوچھا کہ بجلی کے جن فیڈرز سے بے تحاشہ بجلی چوری کی جارہی ہے وہاں 12 گھنٹے سے زائد بجلی کیوں فراہم کی جارہی ہے تو حکام نے بتایا کہ پالیسی فیصلے وفاقی کابینہ بناتی ہے لیکن اراکین نے مزید تفصیلات پر زور دیا تو یہ انکشاف سامنے آیا کہ وزارت توانائی اس بارے میں سمری کابینہ کو ارسال ہی نہیں کرسکی۔</p>

<p>جس پر کمیٹی نے وزارت توانائی کو کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے سمری ارسال کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جہاں فیڈرز سے سب سے زیادہ بجلی چوری کی جارہی ہے وہاں صرف 2 گھنٹے بجلی فراہم کی جائے۔</p>

<p>اس موقع پر سینیٹر نعمان وزیر نے مطالبہ کیا کہ بجلی چوری کی روک تھام  کے لیے تشکیل دیا جانے والا منصوبہ حقیقت پسندانہ اور صارفین کے لیے  مالی طور پر قابلِ عمل  ہو۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091478">خسارے سے نمٹنے کیلئے بجلی چوروں اور نادہندگان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ</a></strong></p>

<p>اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کمپنی (پیسکو) کو 3 ہزار کلومیٹر پر محیط اسمارٹ کیبل کے لیے سروے کی اجازت دے دی گئی ہے جبکہ لیسکو اور اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کارپوریشن (آئیسکو) کی جانب اسمارٹ کیبلز اور ڈیجیٹل میٹرز لگا دیے گئے ہیں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 28 دسمبر 2018 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094269</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Dec 2018 10:56:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2018/12/5c25b8986f4b2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2018/12/5c25b8986f4b2.jpg"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
