<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:24:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:24:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیئرمین ایس ای سی پی فرار نہیں ہوئے، چھٹیوں پر بیرونِ ملک گئے، دستاویز
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094494/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) کے قائم مقام چیئرمین طاہر محمود ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن ڈان کو حاصل ہونے والی دستاویزات کی نقول سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طاہر محمود بیرونِ ملک جانے کے لیے 12 دن کی رخصت لے کر گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دستاویزات میں یہ صاف واضح ہے کہ طاہر محمود کی چھٹیوں کی درخواست وزیراعظم کے دفتر سے 19 دسمبر کو منظور کی گئی جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں 24 دسمبر سے 4 جنوری تک آرام اور سیرو تفریح کے لیے دبئی اور سعودی عرب جانے کے لیے چھٹیاں دی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094466/"&gt;سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی چاہتے ہیں،گورنر راج نہیں، وزیر اطلاعات&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ وزیر اطلاعات نے طاہر محمود سے متعلق بات پریس کانفرنس کے دوران کئی اہم شخصیات کے ملک سے فرار ہونے کی افواہوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب قائم مقام چیئرمین ایس ای سی پی طاہر محمود نے بیرونِ ملک سے وزارت خزانہ کو خط ارسال کیا جس میں انہوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں ان پر لگائے گئے الزام کو مسترد کرتے ہوئے حقائق کے منافی قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے 3 بینکوں کو تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے ان بینکوں کا انضمام کیا تھا جس میں ’مائی بینک‘، اطلس بینک‘ اور 'عارف حبیب بینک' شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094281/"&gt;جعلی اکاؤنٹس کیس: ای سی ایل میں شامل 172 افراد کی فہرست جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ اس انضمام کی منظوری اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے کمپنیز اینڈ ٹیک اوور آرڈیننس کی دفعہ 3 (جی) کے تحت دی گئی اس کے لیے بینک کو ایس ای سی پی کی اجازت درکار نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ 3 (جی) کے تحت عدالت یا متعلقہ فورم کی منظوری کے بعد ہوئے انضمام کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر یکم جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) کے قائم مقام چیئرمین طاہر محمود ملک سے فرار ہوگئے ہیں۔</p>

<p>لیکن ڈان کو حاصل ہونے والی دستاویزات کی نقول سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ طاہر محمود بیرونِ ملک جانے کے لیے 12 دن کی رخصت لے کر گئے ہیں۔</p>

<p>دستاویزات میں یہ صاف واضح ہے کہ طاہر محمود کی چھٹیوں کی درخواست وزیراعظم کے دفتر سے 19 دسمبر کو منظور کی گئی جس میں یہ بھی لکھا ہے کہ انہیں 24 دسمبر سے 4 جنوری تک آرام اور سیرو تفریح کے لیے دبئی اور سعودی عرب جانے کے لیے چھٹیاں دی جارہی ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094466/">سندھ میں وزیراعلیٰ کی تبدیلی چاہتے ہیں،گورنر راج نہیں، وزیر اطلاعات</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ وزیر اطلاعات نے طاہر محمود سے متعلق بات پریس کانفرنس کے دوران کئی اہم شخصیات کے ملک سے فرار ہونے کی افواہوں کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی تھی۔</p>

<p>دوسری جانب قائم مقام چیئرمین ایس ای سی پی طاہر محمود نے بیرونِ ملک سے وزارت خزانہ کو خط ارسال کیا جس میں انہوں نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ میں ان پر لگائے گئے الزام کو مسترد کرتے ہوئے حقائق کے منافی قرار دیا۔</p>

<p>اپنے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے 3 بینکوں کو تباہی سے محفوظ رکھنے کے لیے ان بینکوں کا انضمام کیا تھا جس میں ’مائی بینک‘، اطلس بینک‘ اور 'عارف حبیب بینک' شامل ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094281/">جعلی اکاؤنٹس کیس: ای سی ایل میں شامل 172 افراد کی فہرست جاری</a></strong> </p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ اس انضمام کی منظوری اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے کمپنیز اینڈ ٹیک اوور آرڈیننس کی دفعہ 3 (جی) کے تحت دی گئی اس کے لیے بینک کو ایس ای سی پی کی اجازت درکار نہیں ہوتی۔</p>

<p>انہوں نے کہا مذکورہ آرڈیننس کی دفعہ 3 (جی) کے تحت عدالت یا متعلقہ فورم کی منظوری کے بعد ہوئے انضمام کو مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر یکم جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094494</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Jan 2019 12:55:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c2ad73f26d6f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c2ad73f26d6f.jpg?0.5265062629129784"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
