<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 19:06:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 19:06:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشیا: لینڈسلائیڈنگ سے ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094548/</link>
      <description>&lt;p&gt;انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے گاؤں میں گزشتہ روز ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے  نتیجے میں مزید 6 افراد کی لاشیں نکالے جانے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی جبکہ 20 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کے مطابق سال 2018 کا آخری سورج غروب ہونے سے قبل ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں جاوا کے ضلع سوکابومی کے گاؤں سرناریسمی میں 30 گھر ملبے منوں مٹی تلے دب گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان سوتوپو پوروو نوگروہو نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 60 افراد  کے گھر بھی تباہ ہوئے جنہیں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c2b8353cf20e.jpg"  alt="&amp;mdash; فوٹو : اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;— فوٹو : اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ  روز حکام  نے  ٹریکٹر اور دیگر آلات لانے کی کوشش کی تھی تاہم  بارش کی وجہ سے سیکڑوں پولیس اہلکاروں اور سپاہیوں نےہاتھوں اور بیلچوں کی مد سے ملبہ ہٹایا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوتوپو پوروو نوگروہو نے کہا کہ ’ آلات کی کمی، خراب موسم  نے ہماری امدادی کوششوں میں رکاوٹ ڈالیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں : &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094255"&gt;انڈونیشیا: سونامی کے بعد آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی میں آپریشن ڈویژن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ 2 کھدائی کرنے والی مشینوں کی مدد سے تباہ حال علاقے تک رسائی حاصل کی 6 لاشیں 4 میٹر گہرائی سے ملیں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے 4 زخمی افراد کو بھی ملبے سے نکلا جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، جو ہسپتال میں ہلاک ہوگیا جبکہ 20 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c2b836ba0e61.jpg"  alt="&amp;mdash; فوٹو : اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;— فوٹو : اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ منگل کو اندھیرا پھیلنے اور شدید بارشوں کی وجہ سے لاپتہ افراد کی تلاش روک دی گئی تاہم امدادی آپریشن کا آغاز بدھ کو علی الصبح کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حالیہ چند دنوں میں موسمی بارشوں کی وجہ سے انڈونیشیا میں درجنوں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب آئے ہیں، یہ لینڈسلائیڈنگ سالِ نو کی تقریبات کے دوران ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل 22 دسمبر کو انڈونیشیا کے آبنائے سندا کے ساحلی علاقے میں انک کراکاٹو  آتش فشاں پھٹنے کے بعد آنے والے سونامی کے نتیجے میں کم از کم 4 سو 37 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں : &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088454"&gt;انڈونیشیا: سونامی سے مزید ایک ہزار ہلاکتوں کا خدشہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سونامی کے نتیجے میں 33 ہزار 7 سو سے زائد افراد بے گھر ہوئے  جبکہ 16 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو اکثر تباہ کن زلزلوں، سیلاب اور سونامی کی زد میں رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ستمبر 2018 میں جزیرہ سلاویسی کے شہر پالو میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے سبب ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ 26 دسمبر 2004 کو دنیا میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا زلزلہ انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آیا تھا جس سے جنم لینے والی سونامی کی خطرناک لہریں بحر ہند کے ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو بہا لے گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے گاؤں میں گزشتہ روز ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے  نتیجے میں مزید 6 افراد کی لاشیں نکالے جانے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 15 ہوگئی جبکہ 20 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔</p>

<p>امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس ( اے پی) کے مطابق سال 2018 کا آخری سورج غروب ہونے سے قبل ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ میں جاوا کے ضلع سوکابومی کے گاؤں سرناریسمی میں 30 گھر ملبے منوں مٹی تلے دب گئے تھے۔</p>

<p>نیشنل ڈیزاسٹر ایجنسی کے ترجمان سوتوپو پوروو نوگروہو نے بتایا کہ لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے 60 افراد  کے گھر بھی تباہ ہوئے جنہیں عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c2b8353cf20e.jpg"  alt="&mdash; فوٹو : اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">— فوٹو : اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>گزشتہ  روز حکام  نے  ٹریکٹر اور دیگر آلات لانے کی کوشش کی تھی تاہم  بارش کی وجہ سے سیکڑوں پولیس اہلکاروں اور سپاہیوں نےہاتھوں اور بیلچوں کی مد سے ملبہ ہٹایا تھا۔</p>

<p>سوتوپو پوروو نوگروہو نے کہا کہ ’ آلات کی کمی، خراب موسم  نے ہماری امدادی کوششوں میں رکاوٹ ڈالیں‘۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں : <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094255">انڈونیشیا: سونامی کے بعد آتش فشاں پھٹنے کا خطرہ بڑھ گیا</a></strong></p>

<p>نیشنل سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی میں آپریشن ڈویژن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’ 2 کھدائی کرنے والی مشینوں کی مدد سے تباہ حال علاقے تک رسائی حاصل کی 6 لاشیں 4 میٹر گہرائی سے ملیں‘۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے 4 زخمی افراد کو بھی ملبے سے نکلا جن میں ایک بچہ بھی شامل تھا، جو ہسپتال میں ہلاک ہوگیا جبکہ 20 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c2b836ba0e61.jpg"  alt="&mdash; فوٹو : اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">— فوٹو : اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ منگل کو اندھیرا پھیلنے اور شدید بارشوں کی وجہ سے لاپتہ افراد کی تلاش روک دی گئی تاہم امدادی آپریشن کا آغاز بدھ کو علی الصبح کیا جائے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ حالیہ چند دنوں میں موسمی بارشوں کی وجہ سے انڈونیشیا میں درجنوں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب آئے ہیں، یہ لینڈسلائیڈنگ سالِ نو کی تقریبات کے دوران ہوئی تھی۔</p>

<p>اس سے قبل 22 دسمبر کو انڈونیشیا کے آبنائے سندا کے ساحلی علاقے میں انک کراکاٹو  آتش فشاں پھٹنے کے بعد آنے والے سونامی کے نتیجے میں کم از کم 4 سو 37 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں : <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088454">انڈونیشیا: سونامی سے مزید ایک ہزار ہلاکتوں کا خدشہ</a></strong></p>

<p>سونامی کے نتیجے میں 33 ہزار 7 سو سے زائد افراد بے گھر ہوئے  جبکہ 16 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔</p>

<p>انڈونیشیا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو اکثر تباہ کن زلزلوں، سیلاب اور سونامی کی زد میں رہتے ہیں۔</p>

<p>اس سے قبل ستمبر 2018 میں جزیرہ سلاویسی کے شہر پالو میں آنے والے زلزلے اور سونامی کے سبب ہزاروں افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>

<p>یاد رہے کہ 26 دسمبر 2004 کو دنیا میں ریکارڈ کیا گیا سب سے بڑا زلزلہ انڈونیشیا کے ساحل کے قریب آیا تھا جس سے جنم لینے والی سونامی کی خطرناک لہریں بحر ہند کے ساحلی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو بہا لے گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094548</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Jan 2019 20:15:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c2b7ac46fb48.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c2b7ac46fb48.jpg"/>
        <media:title>انڈونیشیا میں سال کا آخری سورج  غروب ہونے سے قبل لینڈسلائیڈنگ میں 30 گھر مٹی تلے دب گئے— فوٹو : اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
