<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:11:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:11:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان انجینئرنگ کونسل کا اپنے اکاؤنٹس تک رسائی دینے سے انکار ، آڈٹ رپورٹ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1094915/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد:  وفاقی حکومت کے محکموں کے اکاؤنٹس کے حوالے سے آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ برائے سال 18-2017 میں کہا گیا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ( پی ای سی) نے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے سے انکار کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 169 اور 170کے تحت فرائض کی انجام دہی کے لیے 2013 میں سپریم کورٹ کے فیصلے  میں آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صرف مجاز نہیں البتہ انہیں وفاقی اور صوبائی حکومت مرتب کردہ ریکارڈ تک رسائی کی اجازت ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ آڈیٹر جنرل کو وفاق اور صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام تمام شعبہ جات کے خفیہ قرار دیے گئے ریکارڈ تک رسائی کی بھی اجازت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077028"&gt;وفاقی حکومت کے کھاتوں میں 82 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح آڈیٹر جنرل کے آرڈیننس 2001 برائے کارکردگی،اختیارات اورشرائط و ضوابط  میں بھی یہ بات موجود ہے کہ کسی بھی شعبہ کا مجاز افسر آڈٹ انسپیکشن کے لیے ہر طرح سے تعاون کرنے کا ذمہ دار ہوگا اور درخواست پر مکمل معلومات بھی فراہم کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل کے ایک عہدیدار کے مطابق یہی قانون اس ادارے اور شخص پر لاگو ہوگا جو آڈیٹر جنرل کو متعلقہ اکاؤنٹس کے معائنےاور اس تک رسائی میں رکاوٹ ڈالے گا اور اس کا یہ عمل خلافِ ضابطہ حرکت میں شمار ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باوجود اس کے کہ پی ای سی  نے اے جی پی کی درخواست پر اپنے اکاؤنٹس تک رسائی دینے سے انکار کیا اور اسکے بجائے اس بات پر اصرار کیا کہ مذکورہ معاملہ قانونی رائے کے لیے گورننگ باڈی کے سامنے رکھا جائے گا جس کے بعد لیے گئے فیصلے سے آگاہ کردیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068405"&gt;آڈیٹر جنرل کا 51 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے مالی معاملات پر تحفظات کا اظہار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پی ای سی انجینئرنگ کے پیشے کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی اور اسے تمام قومی، اقتصادی اور سماجی دائرہ کار میں تیز رفتار اور مستحکم نمو کے حصول کے لیے کلیدی متحرک قوت قراردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ برائے سال 17-2018 میں کہاگیا کہ یہ معاملہ سیکریٹری برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سامنے اٹھایا گیا جنہوں نے پی ای سی کو آڈٹ ٹیم کے ساتھ تعاون کرنے اور آڈٹ کے لیے تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی جو اس سے قبل انتظامیہ نے فراہم نہیں کی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’محکمہ پی ای سی کی انتظامیہ کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا گیا جو 2001 آرڈیننس کی دفعہ کو چیلنج کرتا ہے جس کے تحت فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے پر خلاف ضابطہ کارروائی ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089117"&gt;سپریم کورٹ کا مزاروں پر چندے کے فرانزک آڈٹ کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ای سی وفاق کے زیر انتظام قائم کیا گیا  لہٰذا یہ آڈیٹر جنرل پاکستان کے آڈٹ کے دائرہ کار میں آتاہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 7 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد:  وفاقی حکومت کے محکموں کے اکاؤنٹس کے حوالے سے آڈیٹر جنرل پاکستان (اے جی پی) کی رپورٹ برائے سال 18-2017 میں کہا گیا کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل ( پی ای سی) نے اپنے اکاؤنٹس کا آڈٹ کروانے سے انکار کیا تھا۔</p>

<p>واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 169 اور 170کے تحت فرائض کی انجام دہی کے لیے 2013 میں سپریم کورٹ کے فیصلے  میں آڈیٹر جنرل کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ صرف مجاز نہیں البتہ انہیں وفاقی اور صوبائی حکومت مرتب کردہ ریکارڈ تک رسائی کی اجازت ہوگی۔</p>

<p>اس کے علاوہ آڈیٹر جنرل کو وفاق اور صوبائی حکومتوں کے زیر انتظام تمام شعبہ جات کے خفیہ قرار دیے گئے ریکارڈ تک رسائی کی بھی اجازت ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077028">وفاقی حکومت کے کھاتوں میں 82 کھرب روپے سے زائد کی بے ضابطگیوں کا انکشاف</a></strong></p>

<p>اسی طرح آڈیٹر جنرل کے آرڈیننس 2001 برائے کارکردگی،اختیارات اورشرائط و ضوابط  میں بھی یہ بات موجود ہے کہ کسی بھی شعبہ کا مجاز افسر آڈٹ انسپیکشن کے لیے ہر طرح سے تعاون کرنے کا ذمہ دار ہوگا اور درخواست پر مکمل معلومات بھی فراہم کرے گا۔</p>

<p>آڈیٹر جنرل کے ایک عہدیدار کے مطابق یہی قانون اس ادارے اور شخص پر لاگو ہوگا جو آڈیٹر جنرل کو متعلقہ اکاؤنٹس کے معائنےاور اس تک رسائی میں رکاوٹ ڈالے گا اور اس کا یہ عمل خلافِ ضابطہ حرکت میں شمار ہوگا۔</p>

<p>باوجود اس کے کہ پی ای سی  نے اے جی پی کی درخواست پر اپنے اکاؤنٹس تک رسائی دینے سے انکار کیا اور اسکے بجائے اس بات پر اصرار کیا کہ مذکورہ معاملہ قانونی رائے کے لیے گورننگ باڈی کے سامنے رکھا جائے گا جس کے بعد لیے گئے فیصلے سے آگاہ کردیا جائے گا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068405">آڈیٹر جنرل کا 51 پبلک سیکٹر کمپنیوں کے مالی معاملات پر تحفظات کا اظہار</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ پی ای سی انجینئرنگ کے پیشے کو ریگولیٹ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی اور اسے تمام قومی، اقتصادی اور سماجی دائرہ کار میں تیز رفتار اور مستحکم نمو کے حصول کے لیے کلیدی متحرک قوت قراردیا تھا۔</p>

<p>رپورٹ برائے سال 17-2018 میں کہاگیا کہ یہ معاملہ سیکریٹری برائے سائنس اور ٹیکنالوجی کے سامنے اٹھایا گیا جنہوں نے پی ای سی کو آڈٹ ٹیم کے ساتھ تعاون کرنے اور آڈٹ کے لیے تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی جو اس سے قبل انتظامیہ نے فراہم نہیں کی تھیں۔</p>

<p>رپورٹ میں مزید کہنا تھا کہ ’محکمہ پی ای سی کی انتظامیہ کے فیصلے کو سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کے تناظر میں دیکھا گیا جو 2001 آرڈیننس کی دفعہ کو چیلنج کرتا ہے جس کے تحت فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے پر خلاف ضابطہ کارروائی ہوسکتی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089117">سپریم کورٹ کا مزاروں پر چندے کے فرانزک آڈٹ کا حکم</a></strong></p>

<p>رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ای سی وفاق کے زیر انتظام قائم کیا گیا  لہٰذا یہ آڈیٹر جنرل پاکستان کے آڈٹ کے دائرہ کار میں آتاہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 7 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1094915</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Jan 2019 12:58:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمال شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c33064c7b439.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c33064c7b439.jpg"/>
        <media:title>دفتر آڈیٹر جنرل پاکستان—بشکریہ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
