<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 08:19:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 08:19:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کمبھ میلے میں مخنث سادھو کی سربراہی میں عبادات
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095002/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہندو مذہب کے اہم ترین اور مقدس ترین مذہبی میلوں میں شمار ہونے والے سب سے بڑے میلے ’کمبھ میلے‘ کی رسومات میں پہلی بار مخنث سادھوؤں کی سربراہی میں لوگوں نے عبادات کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ کمبھ میلہ ہر چند سالوں بعد ہندوؤں کے لیے مقدس اہمیت رکھنے والے دریائے گنگا کنارے آباد 4 مختلف شہروں میں منعقد ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسے ہندوؤں کے سب سے بڑے میلے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جب کہ اسے دنیا کے چند بڑے میلوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میلے میں ہندو افراد 13 مختلف تنظیموں یا قافلوں کی صورت میں شرکت کرتے ہیں، تاہم اگر کوئی ان تنظیموں کے علاوہ بھی اس مذہبی میلے میں شرکت کرنا چاہے تو اسے نہیں روکا جاتا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c348029859b1.jpg"  alt="ہندو ازم میں مخنث افراد کا ذکر ملتا ہے، سادھو&amp;mdash;فوٹو: کنر اکھاڑا فیس بک" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ہندو ازم میں مخنث افراد کا ذکر ملتا ہے، سادھو—فوٹو: کنر اکھاڑا فیس بک&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میلے میں مرد و خواتین کی 13 مختلف تنظیموں کو ’اکھاڑا‘ کا نام دیا جاتا ہے، تاہم اب پہلی بار اس میلے میں 14 ویں اکھاڑے کے ذریعے بھی لوگ شامل ہوئے اور اس اکھاڑے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی سربراہی کرنے والے سادھو یا مذہبی پیشوا مخنث افراد تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا نے &lt;a href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/allahabad/kinnar-akhara-steals-show-on-debut/articleshow/67412411.cms?utm_source=twitter.com&amp;amp;utm_medium=social&amp;amp;utm_campaign=TOIDesktop"&gt;&lt;strong&gt;اپنی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; رپورٹ میں بتایا کہ مخنث سادھوؤں اور مذہبی پیشواؤں کی سربراہی میں ’کنر اکھاڑا‘ کے ذریعے درجنوں لوگ ریاست اتر پردیش کے شہر الہ آباد سے کمبھ میلے کی رسومات میں شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c347fdbd99e0.jpg"  alt="لوگوں نے مخنث مذہبی پیشواؤں کا بھرپور استقبال کیا&amp;mdash;فوٹو: بی بی سی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لوگوں نے مخنث مذہبی پیشواؤں کا بھرپور استقبال کیا—فوٹو: بی بی سی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اگرچہ کمبھ میلے کا باقاعدہ آغاز 15 جنوری کو ہوگا اور یہ رواں برس 4 مارچ تک جاری رہے گا، تاہم اس میلے کے آغاز سے قبل ہونے والی مذہبی رسومات میں مخنث سادھوؤں کی سربراہی میں لوگوں نے عبادات کیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ لوگوں نے مخنث سادھوؤں کا جوش سے خیر مقدم کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے ارد گرد بھیڑ جمع ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر بات کرتے ہوئے &lt;a href="https://www.facebook.com/kinnarakhara/"&gt;&lt;strong&gt;’کنر اکھاڑا‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے سربراہ اور مخنث سادھو لکشمی نارائن ترپاتھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جدوجہد سے کئی کامیابیاں حاصل کیں اور اب سماجی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے اور کمبھ میلے میں شرکت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3480d365424.jpg"  alt="میرا پریدا مخنث سادھو تنظیم کی رکن ہیں&amp;mdash;فوٹو: کنر اکھاڑا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;میرا پریدا مخنث سادھو تنظیم کی رکن ہیں—فوٹو: کنر اکھاڑا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کنر اکھاڑا کے ایک اور مخنث رہنما کا کہنا تھا کہ ہندو مذہبی روایات میں مخنث افراد اور مذہبی پیشواؤں کی تاریخ ملتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جب مرد و خواتین کے 13 اکھاڑے موجود ہیں تو مخنث افراد کا اکھاڑا کیوں نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مخنث افراد کے اس اکھاڑے پر ستمبر 2018 میں آل انڈیا اکھاڑا کونسل یا اکھل بھارتیا اکھاڑا پریشد (اے بی اے پی)نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تیسری جنس کے افراد کو رکنیت نہیں دے سکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹائمز آف انڈیا نے اپنی &lt;a href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/allahabad/allahabad-kinnar-akhara-denied-parishad-recognition/articleshow/65642793.cms"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا تھا کہ اے بی اے پی نے اگرچہ مخنث افراد کو رکنیت دینے سے انکار کردیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مخنث افراد کمبھ میلے میں شرکت کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3481365b17c.jpg"  alt="بھارت میں 20 لاکھ سے زائد مخنث افراد ہیں&amp;mdash;فوٹو: کنر اکھاڑا" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;بھارت میں 20 لاکھ سے زائد مخنث افراد ہیں—فوٹو: کنر اکھاڑا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہندو مذہب کے اہم ترین اور مقدس ترین مذہبی میلوں میں شمار ہونے والے سب سے بڑے میلے ’کمبھ میلے‘ کی رسومات میں پہلی بار مخنث سادھوؤں کی سربراہی میں لوگوں نے عبادات کیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ کمبھ میلہ ہر چند سالوں بعد ہندوؤں کے لیے مقدس اہمیت رکھنے والے دریائے گنگا کنارے آباد 4 مختلف شہروں میں منعقد ہوتا ہے۔</p>

<p>اسے ہندوؤں کے سب سے بڑے میلے کا اعزاز بھی حاصل ہے، جب کہ اسے دنیا کے چند بڑے میلوں میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔</p>

<p>اس میلے میں ہندو افراد 13 مختلف تنظیموں یا قافلوں کی صورت میں شرکت کرتے ہیں، تاہم اگر کوئی ان تنظیموں کے علاوہ بھی اس مذہبی میلے میں شرکت کرنا چاہے تو اسے نہیں روکا جاتا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c348029859b1.jpg"  alt="ہندو ازم میں مخنث افراد کا ذکر ملتا ہے، سادھو&mdash;فوٹو: کنر اکھاڑا فیس بک" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ہندو ازم میں مخنث افراد کا ذکر ملتا ہے، سادھو—فوٹو: کنر اکھاڑا فیس بک</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس میلے میں مرد و خواتین کی 13 مختلف تنظیموں کو ’اکھاڑا‘ کا نام دیا جاتا ہے، تاہم اب پہلی بار اس میلے میں 14 ویں اکھاڑے کے ذریعے بھی لوگ شامل ہوئے اور اس اکھاڑے کی خاص بات یہ تھی کہ اس کی سربراہی کرنے والے سادھو یا مذہبی پیشوا مخنث افراد تھے۔</p>

<p>ٹائمز آف انڈیا نے <a href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/allahabad/kinnar-akhara-steals-show-on-debut/articleshow/67412411.cms?utm_source=twitter.com&amp;utm_medium=social&amp;utm_campaign=TOIDesktop"><strong>اپنی</strong></a> رپورٹ میں بتایا کہ مخنث سادھوؤں اور مذہبی پیشواؤں کی سربراہی میں ’کنر اکھاڑا‘ کے ذریعے درجنوں لوگ ریاست اتر پردیش کے شہر الہ آباد سے کمبھ میلے کی رسومات میں شریک ہوئے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c347fdbd99e0.jpg"  alt="لوگوں نے مخنث مذہبی پیشواؤں کا بھرپور استقبال کیا&mdash;فوٹو: بی بی سی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لوگوں نے مخنث مذہبی پیشواؤں کا بھرپور استقبال کیا—فوٹو: بی بی سی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>رپورٹ کے مطابق اگرچہ کمبھ میلے کا باقاعدہ آغاز 15 جنوری کو ہوگا اور یہ رواں برس 4 مارچ تک جاری رہے گا، تاہم اس میلے کے آغاز سے قبل ہونے والی مذہبی رسومات میں مخنث سادھوؤں کی سربراہی میں لوگوں نے عبادات کیں۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ لوگوں نے مخنث سادھوؤں کا جوش سے خیر مقدم کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے ارد گرد بھیڑ جمع ہوگئی۔</p>

<p>اس موقع پر بات کرتے ہوئے <a href="https://www.facebook.com/kinnarakhara/"><strong>’کنر اکھاڑا‘</strong></a> کے سربراہ اور مخنث سادھو لکشمی نارائن ترپاتھی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی جدوجہد سے کئی کامیابیاں حاصل کیں اور اب سماجی سطح پر مزید کامیابیاں حاصل کرنے کا وقت آگیا ہے اور کمبھ میلے میں شرکت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3480d365424.jpg"  alt="میرا پریدا مخنث سادھو تنظیم کی رکن ہیں&mdash;فوٹو: کنر اکھاڑا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">میرا پریدا مخنث سادھو تنظیم کی رکن ہیں—فوٹو: کنر اکھاڑا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کنر اکھاڑا کے ایک اور مخنث رہنما کا کہنا تھا کہ ہندو مذہبی روایات میں مخنث افراد اور مذہبی پیشواؤں کی تاریخ ملتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ جب مرد و خواتین کے 13 اکھاڑے موجود ہیں تو مخنث افراد کا اکھاڑا کیوں نہیں ہو سکتا۔</p>

<p>خیال رہے کہ مخنث افراد کے اس اکھاڑے پر ستمبر 2018 میں آل انڈیا اکھاڑا کونسل یا اکھل بھارتیا اکھاڑا پریشد (اے بی اے پی)نے اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ تیسری جنس کے افراد کو رکنیت نہیں دے سکتے۔</p>

<p>ٹائمز آف انڈیا نے اپنی <a href="https://timesofindia.indiatimes.com/city/allahabad/allahabad-kinnar-akhara-denied-parishad-recognition/articleshow/65642793.cms"><strong>رپورٹ</strong></a> میں بتایا تھا کہ اے بی اے پی نے اگرچہ مخنث افراد کو رکنیت دینے سے انکار کردیا تھا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ مخنث افراد کمبھ میلے میں شرکت کر سکتے ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3481365b17c.jpg"  alt="بھارت میں 20 لاکھ سے زائد مخنث افراد ہیں&mdash;فوٹو: کنر اکھاڑا" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">بھارت میں 20 لاکھ سے زائد مخنث افراد ہیں—فوٹو: کنر اکھاڑا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095002</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Jan 2019 16:29:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c347f8267f61.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c347f8267f61.jpg?0.06647332328542288"/>
        <media:title>کمبھ میلے کا آغاز 15 جنوری سے ہوگا جو 4 مارچ تک جاری رہے گا—فوٹو: بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
