<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 07:18:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 07:18:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارتی مواد ہماری تہذیب خراب کررہا ہے،اسےدکھانے کی اجازت نہیں دیں گے، چیف جسٹس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095046/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم ٹیلی ویژن چینلز کو بھارتی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے یہ ہماری تہذیب کو خراب کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی ٹی وی چینلز پر غیرملکی مواد دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089992"&gt;پاکستان میں بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران سماعت پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر غیر ملکی مواد دکھانے پر پابندی لگائی گئی لیکن ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ نے بتایا کہ فلمیزیا چینل 65 فیصد اور بعض اوقات 80 فیصد غیر ملکی مواد دکھاتا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر عدالتی معاون ظفر کلانوری نے بتایا کہ فلمیزیا نیوز چینل نہیں تفریحی چینل ہے اور یہ کوئی پروپگینڈا نہیں کرتا، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہماری تہذیب کو تو خراب کررہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان براڈکاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وکیل فیصل صدیقی نہیں آئے، ان کو سنے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتے، جس کے بعد عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ پیمرا نے 19 اکتوبر 2016 کو ٹی وی چینلز پر بھارتی ڈراموں کی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1045439"&gt;&lt;strong&gt;نشریات پر پابندی عائد کر دی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا کا یہ فیصلہ انڈین فلم ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستانی فنکاروں پر بھارت میں کام کرنے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا تھا، اس کے علاوہ بھارت چینل 'زی زندگی' نے بھی پاکستان کے تمام ڈراموں کی نمائش بھارت میں روکنے کا اعلان کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1061450"&gt;ہندوستانی مواد پر پابندی سے متعلق پیمرا اعلامیہ کالعدم قرار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں جولائی 2017 میں لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میں بھارتی فلمیں، ڈرامے اور آڈیو ویڈیو مواد دکھانے کی اجازت دیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے جاری کیا گیا بھارتی مواد پر پابندی کا &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1061450"&gt;&lt;strong&gt;اعلامیہ کالعدم قرار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معاملے کی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ 'اگر بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی فلموں اور ڈراموں کی بھارت میں نشریات پر پابندی کا کوئی نوٹیفیکیشن موجود ہے تو عدالت کو اس سلسلے میں آگاہ کیا جائے، اگر بھارتی فلموں سے ہماری ثقافت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو پیمرا نے اپنے تحریری جواب میں اس کا تذکرہ کیوں نہیں کیا، پیمرا کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا تھا کہ 'دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ہم کب تک بلاجواز پابندیاں عائد کرتے رہیں گے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے الگ پاکستانی ٹی وی چینلز پر &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089979"&gt;&lt;strong&gt;بھارتی مواد دکھانے پر پابندی عائد&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کردی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم ٹیلی ویژن چینلز کو بھارتی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے یہ ہماری تہذیب کو خراب کر رہے ہیں۔</p>

<p>سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نجی ٹی وی چینلز پر غیرملکی مواد دکھانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔</p>

<p>واضح رہے کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلوں کے خلاف عدالت عظمیٰ میں درخواست دائر کی گئی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089992">پاکستان میں بھارتی مواد دکھانے پر مکمل پابندی عائد</a></strong></p>

<p>دوران سماعت پیمرا کے وکیل نے بتایا کہ عدالتی حکم پر غیر ملکی مواد دکھانے پر پابندی لگائی گئی لیکن ہائیکورٹ نے حکم امتناع جاری کردیا۔</p>

<p>پیمرا کے چیئرمین سلیم بیگ نے بتایا کہ فلمیزیا چینل 65 فیصد اور بعض اوقات 80 فیصد غیر ملکی مواد دکھاتا ہے، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم ٹی وی چینلز پر بھارتی مواد دکھانے کی اجازت نہیں دیں گے۔</p>

<p>اس پر عدالتی معاون ظفر کلانوری نے بتایا کہ فلمیزیا نیوز چینل نہیں تفریحی چینل ہے اور یہ کوئی پروپگینڈا نہیں کرتا، اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہماری تہذیب کو تو خراب کررہا ہے۔</p>

<p>سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ پاکستان براڈکاسٹر ایسوسی ایشن (پی بی اے) کے وکیل فیصل صدیقی نہیں آئے، ان کو سنے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتے، جس کے بعد عدالت نے مذکورہ کیس کی سماعت فروری کے پہلے ہفتے تک ملتوی کردی۔</p>

<p>یاد رہے کہ پیمرا نے 19 اکتوبر 2016 کو ٹی وی چینلز پر بھارتی ڈراموں کی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1045439"><strong>نشریات پر پابندی عائد کر دی</strong></a> تھی۔</p>

<p>پیمرا کا یہ فیصلہ انڈین فلم ایسوسی ایشن کی جانب سے پاکستانی فنکاروں پر بھارت میں کام کرنے پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا تھا، اس کے علاوہ بھارت چینل 'زی زندگی' نے بھی پاکستان کے تمام ڈراموں کی نمائش بھارت میں روکنے کا اعلان کردیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1061450">ہندوستانی مواد پر پابندی سے متعلق پیمرا اعلامیہ کالعدم قرار</a></strong></p>

<p>بعد ازاں جولائی 2017 میں لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان میں بھارتی فلمیں، ڈرامے اور آڈیو ویڈیو مواد دکھانے کی اجازت دیتے ہوئے پاکستان الیکٹرانک میڈیا اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے جاری کیا گیا بھارتی مواد پر پابندی کا <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1061450"><strong>اعلامیہ کالعدم قرار</strong></a> دے دیا تھا۔</p>

<p>معاملے کی سماعت کے دوران اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ 'اگر بھارتی حکومت کی جانب سے پاکستانی فلموں اور ڈراموں کی بھارت میں نشریات پر پابندی کا کوئی نوٹیفیکیشن موجود ہے تو عدالت کو اس سلسلے میں آگاہ کیا جائے، اگر بھارتی فلموں سے ہماری ثقافت متاثر ہو رہی ہے اور نوجوانوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں تو پیمرا نے اپنے تحریری جواب میں اس کا تذکرہ کیوں نہیں کیا، پیمرا کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کی ضرورت ہے'۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا تھا کہ 'دنیا گلوبل ولیج بن چکی ہے ہم کب تک بلاجواز پابندیاں عائد کرتے رہیں گے'۔</p>

<p>اس کے بعد اکتوبر 2018 میں سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے سے الگ پاکستانی ٹی وی چینلز پر <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089979"><strong>بھارتی مواد دکھانے پر پابندی عائد</strong></a> کردی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095046</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Jan 2019 17:39:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c35c1ced481c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c35c1ced481c.jpg"/>
        <media:title>پی بی اے کے وکیل کو سنے بغیر فیصلہ نہیں کرسکتے—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
