<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:08:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:08:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تحریک انصاف کے زیرِ استعمال 18 خفیہ بینک اکاؤنٹس کا انکشاف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095103/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک بھر میں 18 خفیہ  بینک اکاؤنٹس استعمال کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے شیڈول بینکوں سے حاصل کی جانے والی معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں جس میں یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کے ملک کے مختلف شہروں میں کل 26 بینک اکاؤنٹس ہیں لیکن الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی معلومات میں صرف 8 کے بارے میں بتایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیگر 18بینک اکاؤنٹس جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کے زمرے میں آتے ہیں کیوں کہ پی ٹی آئی نے انہیں قانون کے تحت الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082702"&gt;بینکوں کو تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ کے ساتھ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے صداقت اور درستگی کا سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا جو جمع کروانا ہر جماعت کے سربراہ کے لیے قانونی طور پر لازم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ معلومات منظر عام پر آنے سے اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان غیر قانونی اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان کی منی ٹریل وزیراعظم عمران خان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل سمیت پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے قانونی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں کیوں کہ وہ ان اکاؤنٹس کے مرکزی یا شریک دستخط کنندہ بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جن میں سے 2 کراچی جبکہ ایک ایک پشاور اور کوئٹہ میں موجود ہے ، کی تفصیلات ڈائریکٹر جنرل برائے قانون کی سربراہی میں گزشتہ برس اکتوبر میں ہونےوالے ای سی پی کی جانچ پڑتال کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078801"&gt;پی ٹی آئی کا غیر ملکی فنڈنگ کیس کی اسکروٹنی خفیہ رکھنے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ جولائی 2018 میں پی ٹی آئی کے بینک ریکارڈ اور اسٹیٹمنٹ کی لیے کی جانے والی درخواست کی تمام تر کوششوں کے خاتمے کے بعد الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک سے پارٹی کے بینک اسٹیٹمنٹس فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام شیڈول بینکوں کے صدور کو 13-2009 کی مدت کے دوران پی ٹی آئی کی تمام بینک اسٹیٹمنٹس ای سی پی میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دلچسپ بات یہ کہ الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کی موجودگی میں جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کا انکشاف سامنے آنے کے بعد سے تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کررہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073051"&gt;‘غیر ملکی فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی تاخیری حربوں سے باز آئے’&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی ایک جھلک اسکروٹنی کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے طے شدہ اجلاس میں دیکھنے کو ملی جس میں تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چناچہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر، بدر اقبال چوہدری کی سربراہی میں موجود ان کی قانونی ٹیم، الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل برائے قانون اور ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ کے 2 سینئر آڈیٹرز پر مشتمل اجلاس پی ٹی آئی نمائندوں کا ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد اسے ملتوی کردیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں جب اکبر ایس بابر سے بات کی گئی تو انہوں نے اس سارے معاملے کو فنڈنگ کا بہت بڑا فراڈ قرار دیا اور کہا کہ اس کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے فرانزک آڈٹ کی تفصیلات کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاہم انہوں نے پی ٹی آئی کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کے انکشاف کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1059669"&gt;اثاثوں اور غیر ملکی فنڈنگ: پی ٹی آئی سے دو ہفتے میں جواب طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب تحریک انصاف مسلسل جانچ پڑتال کمیٹی کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی کوششیں کررہی ہیں اور اس مقصد کے لیے ای سی پی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں جب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری مالیات اظہر طارق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم  نے اپنے تمام مرکزی اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کروادی ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ای سی پی میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے حصول کے لیے بھی درخواست دی  تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ اس سلسلے میں تمام بینکوں سے براہِ راست رابطہ کریں، ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ بینک اکاؤنٹس پارٹی کے صوبائی دفاتر کے ہوں اور ہوسکتا ہے کچھ اکاؤنٹس فعال بھی نہ ہوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069787"&gt;غیر ملکی فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کے سیکریٹری فنانس طلب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ ای سی پی جانچ پڑتال کمیٹی اپنے اختیارات سے تجاوز کررہی ہے کیوں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ان کی بس یہ ذمہ داری ہے کہ وہ درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے جمع کروائی گئی تفصیلات کی تصدیق کریں جو ابھی تک نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 10 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: اسٹیٹ بینک پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے الیکشن کمیشن پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائی گئی رپورٹ میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) ملک بھر میں 18 خفیہ  بینک اکاؤنٹس استعمال کررہی ہے۔</p>

<p>اسٹیٹ بینک نے شیڈول بینکوں سے حاصل کی جانے والی معلومات الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں جس میں یہ بات سامنے آئی کہ پی ٹی آئی کے ملک کے مختلف شہروں میں کل 26 بینک اکاؤنٹس ہیں لیکن الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی معلومات میں صرف 8 کے بارے میں بتایا گیا۔</p>

<p>دیگر 18بینک اکاؤنٹس جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کے زمرے میں آتے ہیں کیوں کہ پی ٹی آئی نے انہیں قانون کے تحت الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں ظاہر نہیں کیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082702">بینکوں کو تحریک انصاف کی غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ کے ساتھ پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے صداقت اور درستگی کا سرٹیفکیٹ بھی موجود تھا جو جمع کروانا ہر جماعت کے سربراہ کے لیے قانونی طور پر لازم ہوتا ہے۔</p>

<p>مذکورہ معلومات منظر عام پر آنے سے اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ ان غیر قانونی اکاؤنٹس کی تفصیلات اور ان کی منی ٹریل وزیراعظم عمران خان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل سمیت پی ٹی آئی کے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے قانونی خطرے کا باعث بن سکتی ہیں کیوں کہ وہ ان اکاؤنٹس کے مرکزی یا شریک دستخط کنندہ بھی ہیں۔</p>

<p>ذرائع نے بتایا کہ ان بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات جن میں سے 2 کراچی جبکہ ایک ایک پشاور اور کوئٹہ میں موجود ہے ، کی تفصیلات ڈائریکٹر جنرل برائے قانون کی سربراہی میں گزشتہ برس اکتوبر میں ہونےوالے ای سی پی کی جانچ پڑتال کمیٹی کے اجلاس میں سامنے آئیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078801">پی ٹی آئی کا غیر ملکی فنڈنگ کیس کی اسکروٹنی خفیہ رکھنے کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ جولائی 2018 میں پی ٹی آئی کے بینک ریکارڈ اور اسٹیٹمنٹ کی لیے کی جانے والی درخواست کی تمام تر کوششوں کے خاتمے کے بعد الیکشن کمیشن نے اسٹیٹ بینک سے پارٹی کے بینک اسٹیٹمنٹس فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔</p>

<p>جس کے بعد اسٹیٹ بینک کی جانب سے تمام شیڈول بینکوں کے صدور کو 13-2009 کی مدت کے دوران پی ٹی آئی کی تمام بینک اسٹیٹمنٹس ای سی پی میں جمع کروانے کی ہدایت کی گئی تھی۔</p>

<p>دلچسپ بات یہ کہ الیکشن کمیشن کی جانچ پڑتال کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی کے نمائندوں کی موجودگی میں جعلی یا غیر قانونی اکاؤنٹس کا انکشاف سامنے آنے کے بعد سے تحریک انصاف الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کررہی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1073051">‘غیر ملکی فنڈنگ کیس میں پی ٹی آئی تاخیری حربوں سے باز آئے’</a></strong></p>

<p>اس کی ایک جھلک اسکروٹنی کمیٹی کے بدھ کو ہونے والے طے شدہ اجلاس میں دیکھنے کو ملی جس میں تحریک انصاف کا کوئی نمائندہ شریک نہیں ہوا۔</p>

<p>چناچہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اور درخواست گزار اکبر ایس بابر، بدر اقبال چوہدری کی سربراہی میں موجود ان کی قانونی ٹیم، الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل برائے قانون اور ڈیفنس اسٹیبلشمنٹ کے 2 سینئر آڈیٹرز پر مشتمل اجلاس پی ٹی آئی نمائندوں کا ڈیڑھ گھنٹے تک انتظار کرنے کے بعد اسے ملتوی کردیا گیا۔</p>

<p>اس بارے میں جب اکبر ایس بابر سے بات کی گئی تو انہوں نے اس سارے معاملے کو فنڈنگ کا بہت بڑا فراڈ قرار دیا اور کہا کہ اس کا صحیح اندازہ لگانے کے لیے فرانزک آڈٹ کی تفصیلات کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاہم انہوں نے پی ٹی آئی کے خفیہ بینک اکاؤنٹس کے انکشاف کے حوالے سے معلومات فراہم کرنے سے انکار کیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1059669">اثاثوں اور غیر ملکی فنڈنگ: پی ٹی آئی سے دو ہفتے میں جواب طلب</a></strong></p>

<p>دوسری جانب تحریک انصاف مسلسل جانچ پڑتال کمیٹی کی کارروائی کو خفیہ رکھنے کی کوششیں کررہی ہیں اور اس مقصد کے لیے ای سی پی اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر ہے۔</p>

<p>اس بارے میں جب پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری مالیات اظہر طارق سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ہم  نے اپنے تمام مرکزی اکاؤنٹس کی تفصیلات جمع کروادی ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ای سی پی میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے حصول کے لیے بھی درخواست دی  تھی۔</p>

<p>لیکن گورنر اسٹیٹ بینک کی جانب سے کہا گیا کہ اس سلسلے میں تمام بینکوں سے براہِ راست رابطہ کریں، ان کا کہنا تھا کہ ہوسکتا ہے کچھ بینک اکاؤنٹس پارٹی کے صوبائی دفاتر کے ہوں اور ہوسکتا ہے کچھ اکاؤنٹس فعال بھی نہ ہوں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069787">غیر ملکی فنڈنگ کیس: پی ٹی آئی کے سیکریٹری فنانس طلب</a></strong></p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ ای سی پی جانچ پڑتال کمیٹی اپنے اختیارات سے تجاوز کررہی ہے کیوں کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ان کی بس یہ ذمہ داری ہے کہ وہ درخواست گزار اکبر ایس بابر کی جانب سے جمع کروائی گئی تفصیلات کی تصدیق کریں جو ابھی تک نہیں کی گئی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 10 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095103</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Jan 2019 08:10:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c36ca1948d1c.jpg?r=1413569455" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c36ca1948d1c.jpg?r=1121415050"/>
        <media:title>—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
