<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:02:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:02:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دنیا بھر میں 5 برس میں دورانِ ہجرت 30 ہزار سے زائد افراد جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095249/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر میں 2014 سے 2018 تک 5 برسوں میں ہونے والی بے ترتیب ہجرت کے دوران کم ازکم 30 ہزار 510 مہاجرین جاں بحق اور لاپتہ ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنینشل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ برسوں میں ہونے والی ان ہلاکتوں کا سبب کشتی ڈوبنے اورکھلے آسمان میں سردی اور گرمی سے متاثر ہونے سمیت دیگر کئی مسائل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی او ایم کی جانب سے مسنگ مائیگرینٹ پراجیکٹ کے تحت حاصل کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق 19 ہزار افراد بحیرہ روم، ریو گرینڈ اور خلیج بنگال سمیت دیگر سمندری راستوں میں ڈوبنے سے جاں بحق اور لاپتہ ہوگئے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق ان پانچ برسوں میں کم ازکم 14 ہزار 795 مرد، خواتین اور بچوں کی اموات شمالی افریقہ اور اٹلی کے درمیان سمندری راستے بحیرہ روم میں ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="http://"&gt;پناہ گزینوں کی دو کشتیاں ڈوبنے سے 100سےزائد افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاپتہ ہونے والے مہاجرین کے پراجیکٹ کے اندازے کے مطابق کم ازکم 17 ہزار 644 اموات سمندروں میں ہوئی جو ایک اندازے کے مطابق 1912 میں ڈوبنے والے جہاز ٹائی ٹینک میں ہونے والی اموات سے 10 گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی او ایم کے گلوبل ڈیٹا اینالسز سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرینک لیکزکو کا کہنا تھا کہ ‘بے ترتیب ہجرت اس طرح کے سفر کرنے والوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے اس لیے قانونی اور محفوظ راستوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس طرف آنے والے افراد کی تعداد کو کم کیا جائے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘زیادہ تر توجہ بحیرہ روم پر دی جاتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں مختلف راستوں میں مہاجرین کی اموات ہوتی ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068772"&gt;لیبیا کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی، 31 ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کے حوالے سے سرکاری معلومات کی عدم فراہمی کے باعث موجودہ اعداد وشمار کو کم سے کم تصور کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2018 کے دوران افریقہ سے آنے والے مہاجرین کی ہلاکتوں کی تعداد 6 ہزار 629 تھی جو علاقائی لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، ان میں سے تقریباً 4 ہزار اموات شمالی افریقہ میں ہوئیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایشیا میں مہاجرین کی ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 900 سے زائد تھی جن میں شمال مشرقی ایشیا سے 2 ہزار 191 اور خلیجی ممالک سے 531 مہاجرین شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1046302"&gt;لیبیا: مہاجرین کی کشتی الٹ گئی، 100 سے زائد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا میں گزشتہ 5 برس میں کم ازکم 2 ہزار 959 مہاجرین جاں بحق ہوئے جن میں سے 60 فیصد (1871) افراد امریکا اور میکسیکو کی سرحد میں دم توڑ گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی او ایم کا کہنا تھا کہ لاطینی امریکا اور کیربیئن کے درمیان  ایک ہزار سے زائد مہاجرین جاں بحق ہوئے تاہم حقیقی اعداد وشمار کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ مہاجرین دور دراز علاقوں میں دریاؤں اور جنگلات سے گزر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر میں 2014 سے 2018 تک 5 برسوں میں ہونے والی بے ترتیب ہجرت کے دوران کم ازکم 30 ہزار 510 مہاجرین جاں بحق اور لاپتہ ہوگئے۔</p>

<p>سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے ادارے انٹرنینشل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ برسوں میں ہونے والی ان ہلاکتوں کا سبب کشتی ڈوبنے اورکھلے آسمان میں سردی اور گرمی سے متاثر ہونے سمیت دیگر کئی مسائل ہیں۔</p>

<p>آئی او ایم کی جانب سے مسنگ مائیگرینٹ پراجیکٹ کے تحت حاصل کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق 19 ہزار افراد بحیرہ روم، ریو گرینڈ اور خلیج بنگال سمیت دیگر سمندری راستوں میں ڈوبنے سے جاں بحق اور لاپتہ ہوگئے۔  </p>

<p>رپورٹ کے مطابق ان پانچ برسوں میں کم ازکم 14 ہزار 795 مرد، خواتین اور بچوں کی اموات شمالی افریقہ اور اٹلی کے درمیان سمندری راستے بحیرہ روم میں ہوئیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="http://">پناہ گزینوں کی دو کشتیاں ڈوبنے سے 100سےزائد افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>لاپتہ ہونے والے مہاجرین کے پراجیکٹ کے اندازے کے مطابق کم ازکم 17 ہزار 644 اموات سمندروں میں ہوئی جو ایک اندازے کے مطابق 1912 میں ڈوبنے والے جہاز ٹائی ٹینک میں ہونے والی اموات سے 10 گنا زیادہ ہے۔</p>

<p>آئی او ایم کے گلوبل ڈیٹا اینالسز سینٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فرینک لیکزکو کا کہنا تھا کہ ‘بے ترتیب ہجرت اس طرح کے سفر کرنے والوں کے لیے خطرناک ہوتی ہے اس لیے قانونی اور محفوظ راستوں کی اشد ضرورت ہے تاکہ اس طرف آنے والے افراد کی تعداد کو کم کیا جائے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘زیادہ تر توجہ بحیرہ روم پر دی جاتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں مختلف راستوں میں مہاجرین کی اموات ہوتی ہیں’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1068772">لیبیا کے ساحل پر تارکینِ وطن کی کشتی ڈوب گئی، 31 ہلاک</a></strong></p>

<p>اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کے حوالے سے سرکاری معلومات کی عدم فراہمی کے باعث موجودہ اعداد وشمار کو کم سے کم تصور کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>رپورٹ کے مطابق 2014 سے 2018 کے دوران افریقہ سے آنے والے مہاجرین کی ہلاکتوں کی تعداد 6 ہزار 629 تھی جو علاقائی لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، ان میں سے تقریباً 4 ہزار اموات شمالی افریقہ میں ہوئیں۔ </p>

<p>ایشیا میں مہاجرین کی ہلاکتوں کی تعداد 2 ہزار 900 سے زائد تھی جن میں شمال مشرقی ایشیا سے 2 ہزار 191 اور خلیجی ممالک سے 531 مہاجرین شامل ہیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1046302">لیبیا: مہاجرین کی کشتی الٹ گئی، 100 سے زائد ہلاک</a></strong></p>

<p>امریکا میں گزشتہ 5 برس میں کم ازکم 2 ہزار 959 مہاجرین جاں بحق ہوئے جن میں سے 60 فیصد (1871) افراد امریکا اور میکسیکو کی سرحد میں دم توڑ گئے۔</p>

<p>آئی او ایم کا کہنا تھا کہ لاطینی امریکا اور کیربیئن کے درمیان  ایک ہزار سے زائد مہاجرین جاں بحق ہوئے تاہم حقیقی اعداد وشمار کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ مہاجرین دور دراز علاقوں میں دریاؤں اور جنگلات سے گزر رہے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095249</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Jan 2019 01:11:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c38f5922f12c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c38f5922f12c.jpg"/>
        <media:title>—فائل/فوٹو:ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
