<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:13:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:13:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: انتخابات میں 'بی جے پی' کو شکست دینے کیلئے سیاسی جماعتوں کا اتحاد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095301/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی ریاست اترپردیش میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پارلیمانی انتخابات میں شکست دینے کے لیے 2 مقامی حریف سیاسی جماعتوں باہو جان سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اپنے ’غیر معمولی اتحاد‘ کا اعلان کر دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اترپردیش کے شمالی حصے میں دونوں سیاسی جماعتوں کو مقامی سطح پر مقبولیت حاصل ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092047"&gt;کوئی نریندر مودی کے والد کا نام نہیں جانتا، کانگریس رہنما&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ’دونوں حریف جماعتوں نے اپنے سیاسی اختلافات نظر انداز کرکے متحد ہونے کا فیصلہ کیا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ اترپردیش 22 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی والی ریاست ہے، جہاں سے لوک سبھا کی 80 نشستیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارت میں اپریل یا مئی میں عام انتخابات منعقد ہوں گے جس میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بڑے مارجن سے شکست کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکلیش یادیو نے کہا کہ اتحاد کے ذریعے بی جے پی کے خلاف ’فیصلہ کن سیاست‘ ہوگی جیسا کہ 2014 کے انتخابات میں ہوئی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082935"&gt;نریندر مودی کیلئے ’پپو‘ کون؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’بی جے پی کی سیاست بھارت کو تقیسم کر رہی ہے اور اقلیتوں اور طبقات میں نفرت اور خوف پروان چڑھ رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان سدھاشو تریودی نے دونوں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو غیر اہم قرار دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہم مطمئن ہیں، اگر تمام سیاسی جماعتیں بھی متحد ہوجائیں تب بھی ہم ہی کامیاب ہوں گے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090283"&gt;نریندر مودی نے 29 ارب روپے کے ’متنازع مجسمے‘ کا افتتاح کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ نریندر مودی نے پارٹی ورکرز کے کنونشن میں اس الزام کو مسترد کیا تھا کہ ’ان کی سیاست سے غریب کو نقصان پہنچا‘۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی ریاست اترپردیش میں وزیراعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو پارلیمانی انتخابات میں شکست دینے کے لیے 2 مقامی حریف سیاسی جماعتوں باہو جان سماج پارٹی (بی ایس پی) اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے اپنے ’غیر معمولی اتحاد‘ کا اعلان کر دیا۔ </p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق اترپردیش کے شمالی حصے میں دونوں سیاسی جماعتوں کو مقامی سطح پر مقبولیت حاصل ہے۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092047">کوئی نریندر مودی کے والد کا نام نہیں جانتا، کانگریس رہنما</a></strong> </p>

<p>اس حوالے سے مزید بتایا گیا کہ ’دونوں حریف جماعتوں نے اپنے سیاسی اختلافات نظر انداز کرکے متحد ہونے کا فیصلہ کیا‘۔ </p>

<p>واضح رہے کہ اترپردیش 22 کروڑ نفوس پر مشتمل آبادی والی ریاست ہے، جہاں سے لوک سبھا کی 80 نشستیں ہیں۔</p>

<p>بھارت میں اپریل یا مئی میں عام انتخابات منعقد ہوں گے جس میں نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی کی بڑے مارجن سے شکست کا امکان ہے۔</p>

<p>سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکلیش یادیو نے کہا کہ اتحاد کے ذریعے بی جے پی کے خلاف ’فیصلہ کن سیاست‘ ہوگی جیسا کہ 2014 کے انتخابات میں ہوئی تھی۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1082935">نریندر مودی کیلئے ’پپو‘ کون؟</a></strong> </p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’بی جے پی کی سیاست بھارت کو تقیسم کر رہی ہے اور اقلیتوں اور طبقات میں نفرت اور خوف پروان چڑھ رہا ہے‘۔</p>

<p>دوسری جانب بی جے پی کے ترجمان سدھاشو تریودی نے دونوں سیاسی جماعتوں کے اتحاد کو غیر اہم قرار دیا۔ </p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’ہم مطمئن ہیں، اگر تمام سیاسی جماعتیں بھی متحد ہوجائیں تب بھی ہم ہی کامیاب ہوں گے‘۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1090283">نریندر مودی نے 29 ارب روپے کے ’متنازع مجسمے‘ کا افتتاح کردیا</a></strong> </p>

<p>واضح رہے کہ نریندر مودی نے پارٹی ورکرز کے کنونشن میں اس الزام کو مسترد کیا تھا کہ ’ان کی سیاست سے غریب کو نقصان پہنچا‘۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095301</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Jan 2019 10:30:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c39ffd54eadf.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c39ffd54eadf.jpg"/>
        <media:title>اترپردیش کے شمالی حصے میں دونوں سیاسی جماعتوں کو مقبولیت حاصل ہے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
