<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 26 Jun 2026 06:00:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 26 Jun 2026 06:00:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کینیا: الشباب کا ہوٹل پر دہشت گرد حملہ، 5 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095539/</link>
      <description>&lt;p&gt;کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک پرتعیش ہوٹل اور آفس کمپلیکس پر الشباب کے حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حملے کا آغاز اس وقت ہوا جب 101کمروں کے ہوٹل، ایک ریسٹورنٹ اور متعدد دفاتر پر مشتمل ڈوسٹ ڈی 2 کمپلیکس میں ایک زوردار دھماکا ہوا جس کی آواز پانچ کلو میٹر دور تک واضح طور پر سنی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیا کی پولیس کے سربراہ جوزف بوئنٹ نے بتایا کہ یہ ایک منظم حملہ تھا جس کے تحت پرتعیش ہوٹل میں خودکش حملہ بھی کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ یہ حملہ دوپہر تین بجے منظم انداز میں کیا گیا جب ایک بینک کی پارکنگ میں کھڑی تین گاڑیوں کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ڈوسٹ ہوٹل کی لابی میں ایک خودکش دھماکا ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3e15a04d8ef.jpg"  alt="پولیس اہلکار ہوٹل میں پھنسی افراد کو باہر نکال رہے ہیں&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پولیس اہلکار ہوٹل میں پھنسی افراد کو باہر نکال رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے فوٹو گرافر کے مطابق اس نے ریسٹورنٹ کی بالکونی میں پانچ الشیں پڑی ہوئی دیکھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والے ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے کم از کم 14افراد کی لاشیں دیکھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2013 میں نیروبی کے شاپنگ مال پر حملہ کرنے والے القاعدہ سے منسلک عالمی دہشت گرد تنظیم الشباب نے اس حملے کی بھی ذمے داری قبول کر لی ہے جس میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہلے دھماکے بعد بھی وقتاً فوقتاً دھماکے ہوتے رہے جس کے بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی چار گھنٹے تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی کمپلیکس میں کام کرنے والے سائمن کرمپ نے بتایا کہ متعدد دھماکوں کے بعد لوگ شدید خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے خود کو دفتر کے اندر بند کر لیا، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور مختلف سمتوں سے گولیاں چل رہی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بعد میں لوگوں کو عمارتوں سے نکالنا شروع کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3e1e45af86a.jpg"  alt="حملہ آورروں نے پارکنگ میں کھڑی تین گاڑیوں کو دھماکے سے اڑا دیا&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;حملہ آورروں نے پارکنگ میں کھڑی تین گاڑیوں کو دھماکے سے اڑا دیا— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کینیا پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ابھی بھی کچھ دہشت گرد عمارت کے اندر موجود ہیں اور ہمارے افسران انہیں مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ہم اسے سب سے بڑے حملے سے تعبیر کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے دستوں سمیت شہر بھر سے پولیس کو موقع پر طلب کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دہشت گرد تننظیم الشباب اس سے قبل بھی کینیا میں بڑے حملے کر چکی ہے اور 2013 میں شاپنگ مال پر کیے گئے حملے میں کم ازکم 67افراد ہلاک ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپریل 2015 میں الشباب نے مشرقی کینیا کے شہر گریسا میں یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 148 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ایک پرتعیش ہوٹل اور آفس کمپلیکس پر الشباب کے حملے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔</p>

<p>اس حملے کا آغاز اس وقت ہوا جب 101کمروں کے ہوٹل، ایک ریسٹورنٹ اور متعدد دفاتر پر مشتمل ڈوسٹ ڈی 2 کمپلیکس میں ایک زوردار دھماکا ہوا جس کی آواز پانچ کلو میٹر دور تک واضح طور پر سنی گئی۔</p>

<p>کینیا کی پولیس کے سربراہ جوزف بوئنٹ نے بتایا کہ یہ ایک منظم حملہ تھا جس کے تحت پرتعیش ہوٹل میں خودکش حملہ بھی کیا گیا۔</p>

<p>انہوں نے اپنے بیان میں بتایا کہ یہ حملہ دوپہر تین بجے منظم انداز میں کیا گیا جب ایک بینک کی پارکنگ میں کھڑی تین گاڑیوں کو دھماکے سے نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ڈوسٹ ہوٹل کی لابی میں ایک خودکش دھماکا ہوا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3e15a04d8ef.jpg"  alt="پولیس اہلکار ہوٹل میں پھنسی افراد کو باہر نکال رہے ہیں&mdash; فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پولیس اہلکار ہوٹل میں پھنسی افراد کو باہر نکال رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے فوٹو گرافر کے مطابق اس نے ریسٹورنٹ کی بالکونی میں پانچ الشیں پڑی ہوئی دیکھیں۔</p>

<p>جائے وقوعہ پر سب سے پہلے پہنچنے والے ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس نے کم از کم 14افراد کی لاشیں دیکھی ہیں۔</p>

<p>2013 میں نیروبی کے شاپنگ مال پر حملہ کرنے والے القاعدہ سے منسلک عالمی دہشت گرد تنظیم الشباب نے اس حملے کی بھی ذمے داری قبول کر لی ہے جس میں مزید ہلاکتوں کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔</p>

<p>پہلے دھماکے بعد بھی وقتاً فوقتاً دھماکے ہوتے رہے جس کے بعد پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی چار گھنٹے تک جاری رہا۔</p>

<p>مقامی کمپلیکس میں کام کرنے والے سائمن کرمپ نے بتایا کہ متعدد دھماکوں کے بعد لوگ شدید خوفزدہ ہو گئے اور انہوں نے خود کو دفتر کے اندر بند کر لیا، ہمیں پتہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اور مختلف سمتوں سے گولیاں چل رہی تھیں۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ پولیس نے بعد میں لوگوں کو عمارتوں سے نکالنا شروع کردیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c3e1e45af86a.jpg"  alt="حملہ آورروں نے پارکنگ میں کھڑی تین گاڑیوں کو دھماکے سے اڑا دیا&mdash; فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">حملہ آورروں نے پارکنگ میں کھڑی تین گاڑیوں کو دھماکے سے اڑا دیا— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کینیا پولیس کے سربراہ نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ابھی بھی کچھ دہشت گرد عمارت کے اندر موجود ہیں اور ہمارے افسران انہیں مارنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>

<p>پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ ہم اسے سب سے بڑے حملے سے تعبیر کر رہے ہیں اور اسی وجہ سے انسداد دہشت گردی کے دستوں سمیت شہر بھر سے پولیس کو موقع پر طلب کر لیا گیا ہے۔</p>

<p>دہشت گرد تننظیم الشباب اس سے قبل بھی کینیا میں بڑے حملے کر چکی ہے اور 2013 میں شاپنگ مال پر کیے گئے حملے میں کم ازکم 67افراد ہلاک ہو گئے تھے۔</p>

<p>اپریل 2015 میں الشباب نے مشرقی کینیا کے شہر گریسا میں یونیورسٹی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں 148 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095539</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Jan 2019 00:17:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c3e30996ec7b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c3e30996ec7b.jpg"/>
        <media:title>دہشت گرد حملے میں زخمی خاتون کو ریسکیو اہلکار ہسپتال منتقل کر رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c3e30a7eecd0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c3e30a7eecd0.jpg"/>
        <media:title>حملے کے بعد ہوٹل کے باہر ایک گاڑی میں آگ لگی ہوئی ہے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
