<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:32:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:32:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’آئی این جی اوز کی رجسٹریشن قومی ضروریات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کی گئی‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095624/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ ملک میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کی سرگرمیوں کا دائرہ کار قومی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے طے کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی این جی اوز کی رجسٹریشن کے مسئلے  پر غیر ملکی سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی سرگرمیاں جو پاکستان کی ملکی ترقی کی ترجیحات میں مدد کریں گی‘ ان کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں آئی این جی اوز کی جانب سے غربت کے خاتمے، صحت عامہ، ہنر مندانہ تعلیم اور تربیت، سائنس اور ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، ڈزاسٹر مینجمنٹ، کھیل اور ثقافت کے شعبے میں کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089893"&gt;غیر ملکی سفیروں کا این جی اوز کی رجسٹریشن میں نرمی کرنے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہےکہ حکومت نے 2015 میں آئی این جی اوز کی رجسٹریشن کے لیے متعارف کرائی گئی پالیسی کے تحت نئی رجسٹریشن کا آغاز کیا تھا جس میں کل 141 آئی این جی اوز  نے نئی رجسٹریشن کے لیے درخواستیں جمع کروائیں، ان میں 74 درخواستیں منظور جبکہ 41 مسترد کردی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چونکہ نئی پالیسی کے تحت آئی این جی اوز کی سرگرمیوں پر بھی قدغن لگائی گئی ہے لہٰذا کچھ تنظیموں بالخصوص جمہوریت، نظامِ حکمرانی، قانون کی حکمرانی اور سیکیورٹی مسائل پر کام کرنے والی تنظیموں کو اپنا کام روکنا پڑا تھا، جس پر عطیات دہندگان یورپی ممالک نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور غیر شفاف قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس بارے میں سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کی منسوخی اس سلسلے میں قائم کیے گئے میعارات کے عین مطابق ہے اور آئی این جی اوز کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا تھا، مزید یہ کہ 74 آئی این جی اوز اب بھی ملک میں کام
کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091395"&gt;بین الاقوامی این جی اوز کی رجسٹریشن میں قوانین پر عمل کیا گیا، دفتر خارجہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم انہوں نے حکومتی وعدے کا اعادہ کیا کہ آئی این جی اوز کے لیے باہمی مفادات پر، مشتمل فریم ورک، جو قانون کی حکمرانی کے تابع اور قومی سطح پر متعین ترقی کی ترجیحات کے مطابق ہو، پر عمل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080234"&gt;پالیسی فرم ورک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; پاکستان کے قومی تناظر، حالات و واقعات، ضرورت اور ترجیحات کو دیکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا، اس سلسلے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عطیات دینے والے ممالک حکومت کے ساتھ آئی این جی اوز کے شعبے کو درپیش تحفظات کے حل کے لیے رابطے میں رہیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب عطیات دہندگان ممالک نے اس بات پر اصرار کیا کہ نئی پالیسی پاکستان کے ’انسانی ترقی کے شراکت دار‘ کی حیثیت کو نقصان پہنچائے گی، اس لیے وہ آئی این جی اوز کے معاملے پر مزید تعاون اور انتظام کا مطالبہ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 17 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے کہا ہے کہ ملک میں بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (آئی این جی اوز) کی سرگرمیوں کا دائرہ کار قومی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے طے کیا گیا۔</p>

<p>آئی این جی اوز کی رجسٹریشن کے مسئلے  پر غیر ملکی سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی سرگرمیاں جو پاکستان کی ملکی ترقی کی ترجیحات میں مدد کریں گی‘ ان کی نشاندہی کرلی گئی ہے۔</p>

<p>اس سلسلے میں آئی این جی اوز کی جانب سے غربت کے خاتمے، صحت عامہ، ہنر مندانہ تعلیم اور تربیت، سائنس اور ٹیکنالوجی، ماحولیاتی تحفظ، ڈزاسٹر مینجمنٹ، کھیل اور ثقافت کے شعبے میں کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089893">غیر ملکی سفیروں کا این جی اوز کی رجسٹریشن میں نرمی کرنے کا مطالبہ</a></strong></p>

<p>واضح رہےکہ حکومت نے 2015 میں آئی این جی اوز کی رجسٹریشن کے لیے متعارف کرائی گئی پالیسی کے تحت نئی رجسٹریشن کا آغاز کیا تھا جس میں کل 141 آئی این جی اوز  نے نئی رجسٹریشن کے لیے درخواستیں جمع کروائیں، ان میں 74 درخواستیں منظور جبکہ 41 مسترد کردی گئیں۔</p>

<p>چونکہ نئی پالیسی کے تحت آئی این جی اوز کی سرگرمیوں پر بھی قدغن لگائی گئی ہے لہٰذا کچھ تنظیموں بالخصوص جمہوریت، نظامِ حکمرانی، قانون کی حکمرانی اور سیکیورٹی مسائل پر کام کرنے والی تنظیموں کو اپنا کام روکنا پڑا تھا، جس پر عطیات دہندگان یورپی ممالک نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا اور غیر شفاف قرار دیا تھا۔</p>

<p>اس بارے میں سیکریٹری خارجہ کا کہنا تھا کہ رجسٹریشن کی منسوخی اس سلسلے میں قائم کیے گئے میعارات کے عین مطابق ہے اور آئی این جی اوز کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا گیا تھا، مزید یہ کہ 74 آئی این جی اوز اب بھی ملک میں کام
کررہی ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091395">بین الاقوامی این جی اوز کی رجسٹریشن میں قوانین پر عمل کیا گیا، دفتر خارجہ</a></strong> </p>

<p>تاہم انہوں نے حکومتی وعدے کا اعادہ کیا کہ آئی این جی اوز کے لیے باہمی مفادات پر، مشتمل فریم ورک، جو قانون کی حکمرانی کے تابع اور قومی سطح پر متعین ترقی کی ترجیحات کے مطابق ہو، پر عمل کیا جائے گا۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1080234">پالیسی فرم ورک</a></strong> پاکستان کے قومی تناظر، حالات و واقعات، ضرورت اور ترجیحات کو دیکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا، اس سلسلے میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ عطیات دینے والے ممالک حکومت کے ساتھ آئی این جی اوز کے شعبے کو درپیش تحفظات کے حل کے لیے رابطے میں رہیں گے۔</p>

<p>دوسری جانب عطیات دہندگان ممالک نے اس بات پر اصرار کیا کہ نئی پالیسی پاکستان کے ’انسانی ترقی کے شراکت دار‘ کی حیثیت کو نقصان پہنچائے گی، اس لیے وہ آئی این جی اوز کے معاملے پر مزید تعاون اور انتظام کا مطالبہ کررہے ہیں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 17 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095624</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Jan 2019 10:03:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c3ffe99d4f11.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c3ffe99d4f11.jpg"/>
        <media:title>سیکریٹری خارجہ سے عطیات دہندگان ممالک کے سفیروں سے ملاقات کی—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
