<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 21:00:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 21:00:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’گلاب‘ جس کی خوشبو گمنامی کے سفر میں کہیں کھو گئی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095864/</link>
      <description>&lt;p&gt;’اپنا نام قبر کے کتبوں پر لکھوانے کے بجائے لوگوں کے دلوں پر رقم کریں۔ آپ کی یادیں لوگوں کے ذہنوں اور ان داستانوں میں زندہ رہنی چاہییں جو آپ کے بارے میں لوگ ایک دوسرے کو سنائیں‘: شینن الڈر &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1964ء میں اپنے آغاز سے آج تک، پاکستان ٹیلی ویژن نے بہت سے ایسے باصلاحیت فنکاروں کو جنم دیا جن کے بے مثال فنی مظاہروں نے ہمارے دلوں میں ان کے نام نقش کردیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان کی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب رات 8 تا 9 شہر سنسان ہوجایا کرتے، سڑکوں اور گلیوں میں ہُو کا عالم ہوتا کیونکہ یہ وقت پی ٹی وی اردو ڈراموں کا ہوتا۔ یہ دور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا سنہرا دور تھا، جس میں بننے والے تقریباً تمام ہی ڈراموں کو اگر پاکستانی فنون لطیفہ کا اثاثہ کہا جائے تو یہ ہرگز غلط نہیں ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے باصلاحیت فنکاروں میں سے ایک نام گلاب چانڈیو کا تھا، جو کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں۔ 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کرنے والے گلاب چانڈیو نے متعدد اردو اور سندھی ڈراموں میں اپنی ورسٹائل اداکاری کے جوہر دکھائے۔ بطور مرکزی کردار ان کے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز سندھی ڈرامہ ’بیو شخصُ سے ہوا جس میں ان کے مقابل سکینہ سموں نے کام کیا۔ گلاب چانڈیو نے ناصرف ٹیلی ویژن بلکہ تھیٹر اور فیچر فلمز میں بھی اپنے فن کا جادو جگایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e144201.jpg"  alt="گلاب چانڈیو نے 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلاب چانڈیو نے 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گلاب چانڈیو کو انکی ماہرانہ اداکاری اور منفرد مکالمہ بازی کی وجہ سے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں خاص مقام حاصل رہا۔ ویسے تو انہوں نے اپنے کیرئیر میں چھوٹے بڑے تمام ہی کردار نبھائے، لیکن ان کی مقبولیت منفی کرداروں کی وجہ سے ہوئی۔ ’ماروی‘، ’چاند گرہن‘، ’نوری جام تماچی‘، ’ساگر کا موتی‘، ’غلام گردش‘ اور ’بیوفائیاں‘ وہ معروف ڈرامے تھے جو چانڈیو صاحب کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلم ’دشمن‘ اور ’سرگم‘ میں بھی کام کیا۔ سرگم فلم میں انہوں نے اداکار ندیم، زیبا بختیار اور عدنان سمیع کے مقابل کام کیا۔  ان کی اس فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں 2016ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی ایوارڈ دیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویسے تو گلاب چانڈیو ہر اداکار کے ساتھ بہترین تعلق قائم کرلیا کرتے تھے، مگر محمد شفیع کے ساتھ ان کی جوڑی خاص اہمیت رکھتی تھی. معروف ڈرامہ 'چاند گرہن' جاگیردارانہ نظام اور غریب طبقے کے استحصال پر مبنی ایک سیریل تھی جس میں چانڈیو صاحب نے بازارِ حسن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا کردار ادا کیا۔ ان کا کردار منفی نوعیت کا تھا جو لالچی اور موقع پرست انسان ہے۔ چانڈیو صاحب نے اس کردار کو اس خوبی سے نبھایا کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اور ڈرامہ سیریل نوری جام تماچی میں انہوں نے جابر جاگیردار کا کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری کمال کی تھی۔ ایک اچھے فنکار کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ اس کا ادا کیا کردار ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھر دے اور چانڈیو صاحب اس فن میں کمال یکتا تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e175854.jpg"  alt="گلاب چانڈیو اپنے بیٹے کے ہمراہ&amp;mdash;تصویر انسٹاگرام" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلاب چانڈیو اپنے بیٹے کے ہمراہ—تصویر انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گلاب چانڈیو کا تعلق نوابشاہ سے تھا۔ 1976ء میں تلاش معاش انہیں ایک مختصر عرصہ کے لیے کراچی لے آئی۔ لیکن کچھ عرصہ کراچی میں قسمت آزمائی کے بعد وہ واپس نوابشاہ آگئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غلاب چانڈیو کا ان کا تعلق ان افراد سے تھا جو 70ء کی دہائی کے آخر میں ہونے والی سیاسی کشمکش کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ نوابشاہ پہنچ کر انہوں نے سیاسی ایکٹوازم میں حصہ لیا اور بھٹو حکومت کی برطرفی اور مارشل لا کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے۔ اسی دوران کچھ عرصہ جیل کی ہوا بھی کھائی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن نواب شاہ واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی طبیعت دوبارہ کراچی کی جانب مائل ہوئی، لیکن اس بار انہوں نے کچھ اور کرنے کے بجائے اداکاری کے شعبہ میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، اور سچ کہیے تو کیا خوب فیصلہ کیا۔ اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرتے تو آج شاید پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری فن کے خوبصورت جوہر سے محروم ہی رہ جاتی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ شاید 70ء کی دہائی کی سیاسی کشمکش ہی وہ محرکات تھے جس کے نتیجے میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی اور نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ ان کے بقول سیاست اور شوبز میں زیادہ فرق نہیں تھا، مگر پھر بھی جتنا نام انہوں نے اداکاری کے شعبے میں کمایا تھا سیاست میں وہ مقام حاصل نہیں کرسکے۔ بہرحال اپنے دل میں غریب طبقہ کے لیے بہتری کی خواہش نے ان کے دل میں سیاست کا جوش ختم نہ ہونے دیا۔ سال 2016ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی اور باوجود اپنی گرتی ہوئی صحت کے انہوں نے عمران خان کی قیادت میں آزادی مارچ میں حصہ بھی لیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e141198.jpg"  alt="70ء کی دہائی میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;70ء کی دہائی میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e138eee.jpg"  alt="گلاب چانڈیو نے نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;گلاب چانڈیو نے نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گلاب چانڈیو ایک قد آور شخصیت اور فن کے حامل انسان تھے۔ ایک اداکار کو اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے اور عام طور پر وہ جس قسم کے کردار زیادہ ادا کرتا ہے اسی کے مطابق شائقین اس کی شخصیت کو حقیقی زندگی میں بھی فرض کرلیتے ہیں۔ چانڈیو صاحب کے حوالے سے بھی لوگوں کا کچھ ایسا ہی تاثر تھا کہ جیسے وہ کوئی منفی اور ولن ٹائپ انسان ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ انتہائی منکسر المزاج اور انسان دوست شخصیت تھے۔ وہ ان کرداروں سے بالکل مختلف انسان تھے جو ان کی پہچان بنے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '&gt;&lt;blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/BK3b_rbhHP6/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_medium=loading" data-instgrm-version="12" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"&gt;&lt;div style="padding:16px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/BK3b_rbhHP6/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_medium=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"&gt; &lt;div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 19% 0;"&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"&gt;&lt;svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"&gt;&lt;g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"&gt;&lt;g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"&gt;&lt;g&gt;&lt;path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"&gt;&lt;/path&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/g&gt;&lt;/svg&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding-top: 8px;"&gt; &lt;div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"&gt; View this post on Instagram&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="padding: 12.5% 0;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"&gt;&lt;div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: 8px;"&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;div style="margin-left: auto;"&gt; &lt;div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"&gt;&lt;/div&gt; &lt;div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;&lt;/a&gt; &lt;p style=" margin:8px 0 0 0; padding:0 4px;"&gt; &lt;a href="https://www.instagram.com/p/BK3b_rbhHP6/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_medium=loading" style=" color:#000; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none; word-wrap:break-word;" target="_blank"&gt;When ibraham sleeps next to his Grandfather. &amp;#10084;&amp;#65039; always ready to eat slanty! &amp;#128513;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt; &lt;p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;"&gt;A post shared by &lt;a href="https://www.instagram.com/alichandiyoofficial/?utm_source=ig_embed&amp;amp;utm_medium=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px;" target="_blank"&gt; Ali Chandiyo&lt;/a&gt; (@alichandiyoofficial) on &lt;time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2016-09-27T16:33:02+00:00"&gt;Sep 27, 2016 at 9:33am PDT&lt;/time&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;&lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گلاب چانڈیو کا ان کا شمار انڈسٹری کے ان ناموں میں ہوتا تھا جو اپنے ساتھیوں اور جونئیرز کی مدد اور حمایت کے لیے ہر وقت موجود ہوتے تھے۔ ان کا فنی سفر، ان کی جدوجہد اور ان کی شخصیت ان تمام نئے آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو شوبز میں اپنا نام کمانا چاہتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیکن تلخ حقیقت ایک یہ بھی ہے کہ شوبز کی دنیا بھی عجب نرالی دنیا ہے۔ یہاں چڑھتے سورج کو سلام کیا جاتا ہے اور جو فنکار بدلتے رجحانات کے مطابق خود کو ڈھال نہ سکے، نظر اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق انہیں کچھ اس طرح فراموش کردیا جاتا ہے جیسے ان کا کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا یہ انمول ستارہ طویل علالت کے بعد دل شکستگی اور گمنامی کی حالت میں 61 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملا اور اپنے پیچھے چھوڑ گیا اپنے فن کی وہ لازوال یادیں جو تا حشر ان کے چاہنے والوں کے دل میں تازہ رہیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’اپنا نام قبر کے کتبوں پر لکھوانے کے بجائے لوگوں کے دلوں پر رقم کریں۔ آپ کی یادیں لوگوں کے ذہنوں اور ان داستانوں میں زندہ رہنی چاہییں جو آپ کے بارے میں لوگ ایک دوسرے کو سنائیں‘: شینن الڈر </p>

<p>1964ء میں اپنے آغاز سے آج تک، پاکستان ٹیلی ویژن نے بہت سے ایسے باصلاحیت فنکاروں کو جنم دیا جن کے بے مثال فنی مظاہروں نے ہمارے دلوں میں ان کے نام نقش کردیے۔ </p>

<p>پاکستان کی تاریخ میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب رات 8 تا 9 شہر سنسان ہوجایا کرتے، سڑکوں اور گلیوں میں ہُو کا عالم ہوتا کیونکہ یہ وقت پی ٹی وی اردو ڈراموں کا ہوتا۔ یہ دور پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا سنہرا دور تھا، جس میں بننے والے تقریباً تمام ہی ڈراموں کو اگر پاکستانی فنون لطیفہ کا اثاثہ کہا جائے تو یہ ہرگز غلط نہیں ہوگا۔ </p>

<p>پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے باصلاحیت فنکاروں میں سے ایک نام گلاب چانڈیو کا تھا، جو کسی بھی تعارف کے محتاج نہیں۔ 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کرنے والے گلاب چانڈیو نے متعدد اردو اور سندھی ڈراموں میں اپنی ورسٹائل اداکاری کے جوہر دکھائے۔ بطور مرکزی کردار ان کے فنی سفر کا باقاعدہ آغاز سندھی ڈرامہ ’بیو شخصُ سے ہوا جس میں ان کے مقابل سکینہ سموں نے کام کیا۔ گلاب چانڈیو نے ناصرف ٹیلی ویژن بلکہ تھیٹر اور فیچر فلمز میں بھی اپنے فن کا جادو جگایا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e144201.jpg"  alt="گلاب چانڈیو نے 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلاب چانڈیو نے 80ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>گلاب چانڈیو کو انکی ماہرانہ اداکاری اور منفرد مکالمہ بازی کی وجہ سے پاکستان ڈرامہ انڈسٹری میں خاص مقام حاصل رہا۔ ویسے تو انہوں نے اپنے کیرئیر میں چھوٹے بڑے تمام ہی کردار نبھائے، لیکن ان کی مقبولیت منفی کرداروں کی وجہ سے ہوئی۔ ’ماروی‘، ’چاند گرہن‘، ’نوری جام تماچی‘، ’ساگر کا موتی‘، ’غلام گردش‘ اور ’بیوفائیاں‘ وہ معروف ڈرامے تھے جو چانڈیو صاحب کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے فلم ’دشمن‘ اور ’سرگم‘ میں بھی کام کیا۔ سرگم فلم میں انہوں نے اداکار ندیم، زیبا بختیار اور عدنان سمیع کے مقابل کام کیا۔  ان کی اس فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں 2016ء میں صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی ایوارڈ دیا گیا۔ </p>

<p>ویسے تو گلاب چانڈیو ہر اداکار کے ساتھ بہترین تعلق قائم کرلیا کرتے تھے، مگر محمد شفیع کے ساتھ ان کی جوڑی خاص اہمیت رکھتی تھی. معروف ڈرامہ 'چاند گرہن' جاگیردارانہ نظام اور غریب طبقے کے استحصال پر مبنی ایک سیریل تھی جس میں چانڈیو صاحب نے بازارِ حسن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا کردار ادا کیا۔ ان کا کردار منفی نوعیت کا تھا جو لالچی اور موقع پرست انسان ہے۔ چانڈیو صاحب نے اس کردار کو اس خوبی سے نبھایا کہ اس پر سچ کا گمان ہونے لگا۔ </p>

<p>ایک اور ڈرامہ سیریل نوری جام تماچی میں انہوں نے جابر جاگیردار کا کردار ادا کیا۔ اس ڈرامے میں بھی ان کی اداکاری کمال کی تھی۔ ایک اچھے فنکار کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ اس کا ادا کیا کردار ڈرامے میں حقیقت کا رنگ بھر دے اور چانڈیو صاحب اس فن میں کمال یکتا تھے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e175854.jpg"  alt="گلاب چانڈیو اپنے بیٹے کے ہمراہ&mdash;تصویر انسٹاگرام" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلاب چانڈیو اپنے بیٹے کے ہمراہ—تصویر انسٹاگرام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>گلاب چانڈیو کا تعلق نوابشاہ سے تھا۔ 1976ء میں تلاش معاش انہیں ایک مختصر عرصہ کے لیے کراچی لے آئی۔ لیکن کچھ عرصہ کراچی میں قسمت آزمائی کے بعد وہ واپس نوابشاہ آگئے۔ </p>

<p>غلاب چانڈیو کا ان کا تعلق ان افراد سے تھا جو 70ء کی دہائی کے آخر میں ہونے والی سیاسی کشمکش کے ہاتھوں متاثر ہوئے۔ نوابشاہ پہنچ کر انہوں نے سیاسی ایکٹوازم میں حصہ لیا اور بھٹو حکومت کی برطرفی اور مارشل لا کے خلاف مظاہروں میں شامل رہے۔ اسی دوران کچھ عرصہ جیل کی ہوا بھی کھائی۔ </p>

<p>لیکن نواب شاہ واپسی کے کچھ عرصہ بعد ہی طبیعت دوبارہ کراچی کی جانب مائل ہوئی، لیکن اس بار انہوں نے کچھ اور کرنے کے بجائے اداکاری کے شعبہ میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا، اور سچ کہیے تو کیا خوب فیصلہ کیا۔ اگر وہ یہ فیصلہ نہ کرتے تو آج شاید پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری فن کے خوبصورت جوہر سے محروم ہی رہ جاتی۔ </p>

<p>یہ شاید 70ء کی دہائی کی سیاسی کشمکش ہی وہ محرکات تھے جس کے نتیجے میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی اور نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے۔ </p>

<p>اگرچہ ان کے بقول سیاست اور شوبز میں زیادہ فرق نہیں تھا، مگر پھر بھی جتنا نام انہوں نے اداکاری کے شعبے میں کمایا تھا سیاست میں وہ مقام حاصل نہیں کرسکے۔ بہرحال اپنے دل میں غریب طبقہ کے لیے بہتری کی خواہش نے ان کے دل میں سیاست کا جوش ختم نہ ہونے دیا۔ سال 2016ء میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت اختیار کی اور باوجود اپنی گرتی ہوئی صحت کے انہوں نے عمران خان کی قیادت میں آزادی مارچ میں حصہ بھی لیا۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e141198.jpg"  alt="70ء کی دہائی میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">70ء کی دہائی میں اداکاری کے علاوہ گلاب چانڈیو نے سیاست میں بھی قدم جمانے کی کوشش کی—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/01/5c4554e138eee.jpg"  alt="گلاب چانڈیو نے نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے&mdash;اسکرین شاٹ" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">گلاب چانڈیو نے نوابشاہ اور کراچی سے جنرل الیکشن میں حصّہ لیا، لیکن دونوں مرتبہ ہی ناکام رہے—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>گلاب چانڈیو ایک قد آور شخصیت اور فن کے حامل انسان تھے۔ ایک اداکار کو اپنے کردار سے پہچانا جاتا ہے اور عام طور پر وہ جس قسم کے کردار زیادہ ادا کرتا ہے اسی کے مطابق شائقین اس کی شخصیت کو حقیقی زندگی میں بھی فرض کرلیتے ہیں۔ چانڈیو صاحب کے حوالے سے بھی لوگوں کا کچھ ایسا ہی تاثر تھا کہ جیسے وہ کوئی منفی اور ولن ٹائپ انسان ہیں، حالانکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ انتہائی منکسر المزاج اور انسان دوست شخصیت تھے۔ وہ ان کرداروں سے بالکل مختلف انسان تھے جو ان کی پہچان بنے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--instagram  '><blockquote class="instagram-media" data-instgrm-captioned data-instgrm-permalink="https://www.instagram.com/p/BK3b_rbhHP6/?utm_source=ig_embed&amp;utm_medium=loading" data-instgrm-version="12" style=" background:#FFF; border:0; border-radius:3px; box-shadow:0 0 1px 0 rgba(0,0,0,0.5),0 1px 10px 0 rgba(0,0,0,0.15); margin: 1px; max-width:658px; min-width:326px; padding:0; width:99.375%; width:-webkit-calc(100% - 2px); width:calc(100% - 2px);"><div style="padding:16px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/BK3b_rbhHP6/?utm_source=ig_embed&amp;utm_medium=loading" style=" background:#FFFFFF; line-height:0; padding:0 0; text-align:center; text-decoration:none; width:100%;" target="_blank"> <div style=" display: flex; flex-direction: row; align-items: center;"> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 40px; margin-right: 14px; width: 40px;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: column; flex-grow: 1; justify-content: center;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; margin-bottom: 6px; width: 100px;"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 4px; flex-grow: 0; height: 14px; width: 60px;"></div></div></div><div style="padding: 19% 0;"></div><div style="display:block; height:50px; margin:0 auto 12px; width:50px;"><svg width="50px" height="50px" viewBox="0 0 60 60" version="1.1" xmlns="https://www.w3.org/2000/svg" xmlns:xlink="https://www.w3.org/1999/xlink"><g stroke="none" stroke-width="1" fill="none" fill-rule="evenodd"><g transform="translate(-511.000000, -20.000000)" fill="#000000"><g><path d="M556.869,30.41 C554.814,30.41 553.148,32.076 553.148,34.131 C553.148,36.186 554.814,37.852 556.869,37.852 C558.924,37.852 560.59,36.186 560.59,34.131 C560.59,32.076 558.924,30.41 556.869,30.41 M541,60.657 C535.114,60.657 530.342,55.887 530.342,50 C530.342,44.114 535.114,39.342 541,39.342 C546.887,39.342 551.658,44.114 551.658,50 C551.658,55.887 546.887,60.657 541,60.657 M541,33.886 C532.1,33.886 524.886,41.1 524.886,50 C524.886,58.899 532.1,66.113 541,66.113 C549.9,66.113 557.115,58.899 557.115,50 C557.115,41.1 549.9,33.886 541,33.886 M565.378,62.101 C565.244,65.022 564.756,66.606 564.346,67.663 C563.803,69.06 563.154,70.057 562.106,71.106 C561.058,72.155 560.06,72.803 558.662,73.347 C557.607,73.757 556.021,74.244 553.102,74.378 C549.944,74.521 548.997,74.552 541,74.552 C533.003,74.552 532.056,74.521 528.898,74.378 C525.979,74.244 524.393,73.757 523.338,73.347 C521.94,72.803 520.942,72.155 519.894,71.106 C518.846,70.057 518.197,69.06 517.654,67.663 C517.244,66.606 516.755,65.022 516.623,62.101 C516.479,58.943 516.448,57.996 516.448,50 C516.448,42.003 516.479,41.056 516.623,37.899 C516.755,34.978 517.244,33.391 517.654,32.338 C518.197,30.938 518.846,29.942 519.894,28.894 C520.942,27.846 521.94,27.196 523.338,26.654 C524.393,26.244 525.979,25.756 528.898,25.623 C532.057,25.479 533.004,25.448 541,25.448 C548.997,25.448 549.943,25.479 553.102,25.623 C556.021,25.756 557.607,26.244 558.662,26.654 C560.06,27.196 561.058,27.846 562.106,28.894 C563.154,29.942 563.803,30.938 564.346,32.338 C564.756,33.391 565.244,34.978 565.378,37.899 C565.522,41.056 565.552,42.003 565.552,50 C565.552,57.996 565.522,58.943 565.378,62.101 M570.82,37.631 C570.674,34.438 570.167,32.258 569.425,30.349 C568.659,28.377 567.633,26.702 565.965,25.035 C564.297,23.368 562.623,22.342 560.652,21.575 C558.743,20.834 556.562,20.326 553.369,20.18 C550.169,20.033 549.148,20 541,20 C532.853,20 531.831,20.033 528.631,20.18 C525.438,20.326 523.257,20.834 521.349,21.575 C519.376,22.342 517.703,23.368 516.035,25.035 C514.368,26.702 513.342,28.377 512.574,30.349 C511.834,32.258 511.326,34.438 511.181,37.631 C511.035,40.831 511,41.851 511,50 C511,58.147 511.035,59.17 511.181,62.369 C511.326,65.562 511.834,67.743 512.574,69.651 C513.342,71.625 514.368,73.296 516.035,74.965 C517.703,76.634 519.376,77.658 521.349,78.425 C523.257,79.167 525.438,79.673 528.631,79.82 C531.831,79.965 532.853,80.001 541,80.001 C549.148,80.001 550.169,79.965 553.369,79.82 C556.562,79.673 558.743,79.167 560.652,78.425 C562.623,77.658 564.297,76.634 565.965,74.965 C567.633,73.296 568.659,71.625 569.425,69.651 C570.167,67.743 570.674,65.562 570.82,62.369 C570.966,59.17 571,58.147 571,50 C571,41.851 570.966,40.831 570.82,37.631"></path></g></g></g></svg></div><div style="padding-top: 8px;"> <div style=" color:#3897f0; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:550; line-height:18px;"> View this post on Instagram</div></div><div style="padding: 12.5% 0;"></div> <div style="display: flex; flex-direction: row; margin-bottom: 14px; align-items: center;"><div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(0px) translateY(7px);"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; height: 12.5px; transform: rotate(-45deg) translateX(3px) translateY(1px); width: 12.5px; flex-grow: 0; margin-right: 14px; margin-left: 2px;"></div> <div style="background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; height: 12.5px; width: 12.5px; transform: translateX(9px) translateY(-18px);"></div></div><div style="margin-left: 8px;"> <div style=" background-color: #F4F4F4; border-radius: 50%; flex-grow: 0; height: 20px; width: 20px;"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 2px solid transparent; border-left: 6px solid #f4f4f4; border-bottom: 2px solid transparent; transform: translateX(16px) translateY(-4px) rotate(30deg)"></div></div><div style="margin-left: auto;"> <div style=" width: 0px; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-right: 8px solid transparent; transform: translateY(16px);"></div> <div style=" background-color: #F4F4F4; flex-grow: 0; height: 12px; width: 16px; transform: translateY(-4px);"></div> <div style=" width: 0; height: 0; border-top: 8px solid #F4F4F4; border-left: 8px solid transparent; transform: translateY(-4px) translateX(8px);"></div></div></div></a> <p style=" margin:8px 0 0 0; padding:0 4px;"> <a href="https://www.instagram.com/p/BK3b_rbhHP6/?utm_source=ig_embed&amp;utm_medium=loading" style=" color:#000; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px; text-decoration:none; word-wrap:break-word;" target="_blank">When ibraham sleeps next to his Grandfather. &#10084;&#65039; always ready to eat slanty! &#128513;</a></p> <p style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px; margin-bottom:0; margin-top:8px; overflow:hidden; padding:8px 0 7px; text-align:center; text-overflow:ellipsis; white-space:nowrap;">A post shared by <a href="https://www.instagram.com/alichandiyoofficial/?utm_source=ig_embed&amp;utm_medium=loading" style=" color:#c9c8cd; font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; font-style:normal; font-weight:normal; line-height:17px;" target="_blank"> Ali Chandiyo</a> (@alichandiyoofficial) on <time style=" font-family:Arial,sans-serif; font-size:14px; line-height:17px;" datetime="2016-09-27T16:33:02+00:00">Sep 27, 2016 at 9:33am PDT</time></p></div></blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>گلاب چانڈیو کا ان کا شمار انڈسٹری کے ان ناموں میں ہوتا تھا جو اپنے ساتھیوں اور جونئیرز کی مدد اور حمایت کے لیے ہر وقت موجود ہوتے تھے۔ ان کا فنی سفر، ان کی جدوجہد اور ان کی شخصیت ان تمام نئے آنے والوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو شوبز میں اپنا نام کمانا چاہتے ہیں۔ </p>

<p>لیکن تلخ حقیقت ایک یہ بھی ہے کہ شوبز کی دنیا بھی عجب نرالی دنیا ہے۔ یہاں چڑھتے سورج کو سلام کیا جاتا ہے اور جو فنکار بدلتے رجحانات کے مطابق خود کو ڈھال نہ سکے، نظر اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق انہیں کچھ اس طرح فراموش کردیا جاتا ہے جیسے ان کا کوئی وجود ہے ہی نہیں۔ </p>

<p>پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا یہ انمول ستارہ طویل علالت کے بعد دل شکستگی اور گمنامی کی حالت میں 61 سال کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملا اور اپنے پیچھے چھوڑ گیا اپنے فن کی وہ لازوال یادیں جو تا حشر ان کے چاہنے والوں کے دل میں تازہ رہیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095864</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jan 2019 13:29:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ناہید اسرار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c4554e138eee.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c4554e138eee.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
