<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:23:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:23:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جعلی اکاؤنٹس کیس تحقیقات کیلئے نیب راولپنڈی کے سپرد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095865/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں 3 دن مشاورت کے بعد جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس کو تحقیقات کے لیے نیب راولپنڈی کے دفتر بھیج دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان منگی، سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی دیگر اعلیٰ قیادت اور ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف اس کیس کی نگرانی کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ عرفان منگی پاناما پیپرز کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094281"&gt;جعلی اکاؤنٹس کیس: ای سی ایل میں شامل 172 افراد کی فہرست جاری&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے فیصلے میں نیب کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ملزمان کے خلاف کراچی کے بجائے راولپنڈی یا اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر نیب شکایت پر انکوائری کا آغاز کرے گا اور اگر کچھ معتبر ثبوت ملتے ہیں تو اس انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کردیا جائے گا، اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا جائے یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس خصوصی کیس سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ نیب انکوائری پر نہیں جائے گا لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی جانب سے کی گئی انکوائری کی بنیاد پر نیب تحقیقات کا آغاز کرے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ 172 افراد کے جعلی بینک انکاؤنٹس ہیں اور یہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، ان افراد میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس معاملے پر عدالت عظمیٰ کے دیے گئے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری، فریال تالپور اور ملک ریاض سمیت 170 سے زائد ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر رہیں گے، ساتھ ہی عدالت نے نیب کو کہا تھا کہ وہ اپنی تحقیقات 2 ماہ میں مکمل کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جو لوگ کرپشن میں مجرم پائے گئے ان کے پاس 2 آپشن ہوں گے، آیا وہ ریفرنس کا سامنا کریں یا پلی بارگین کے لیے پیش کش کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094443"&gt;چیف جسٹس کا سیاستدانوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب عدالت عظمیٰ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی نے ملزمان کے خلاف 16 ریفرنسز کی سفارش کی تھی، اب یہ نیب پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح ان کے ساتھ پیش آتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیب کی تحقیقات کے دوران ملزم کی جانب سے یہ بھی بتانا ہوگا کہ کس طرح کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی اراضی میں اضافہ کیا گیا اور کیسے سرکاری زمین ان کے حوالے کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات 2015 میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے شروع کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 21 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال نے سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں 3 دن مشاورت کے بعد جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کیس کو تحقیقات کے لیے نیب راولپنڈی کے دفتر بھیج دیا۔</strong></p>

<p>نیب راولپنڈی کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) عرفان منگی، سابق صدر آصف علی زرداری، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی دیگر اعلیٰ قیادت اور ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ملک ریاض کے خلاف اس کیس کی نگرانی کریں گے۔</p>

<p>خیال رہے کہ عرفان منگی پاناما پیپرز کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف بننے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے رکن بھی رہ چکے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094281">جعلی اکاؤنٹس کیس: ای سی ایل میں شامل 172 افراد کی فہرست جاری</a></strong></p>

<p>واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اپنے فیصلے میں نیب کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ ملزمان کے خلاف کراچی کے بجائے راولپنڈی یا اسلام آباد کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کریں۔</p>

<p>ابتدائی طور پر نیب شکایت پر انکوائری کا آغاز کرے گا اور اگر کچھ معتبر ثبوت ملتے ہیں تو اس انکوائری کو تحقیقات میں تبدیل کردیا جائے گا، اس کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا جائے یا نہیں۔</p>

<p>اس خصوصی کیس سے متعلق وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا تھا کہ نیب انکوائری پر نہیں جائے گا لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی کی جانب سے کی گئی انکوائری کی بنیاد پر نیب تحقیقات کا آغاز کرے گا۔</p>

<p>جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں الزام لگایا تھا کہ 172 افراد کے جعلی بینک انکاؤنٹس ہیں اور یہ منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں، ان افراد میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض بھی شامل ہیں۔</p>

<p>اس معاملے پر عدالت عظمیٰ کے دیے گئے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ آصف علی زرداری، فریال تالپور اور ملک ریاض سمیت 170 سے زائد ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) پر رہیں گے، ساتھ ہی عدالت نے نیب کو کہا تھا کہ وہ اپنی تحقیقات 2 ماہ میں مکمل کرے۔</p>

<p>یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جو لوگ کرپشن میں مجرم پائے گئے ان کے پاس 2 آپشن ہوں گے، آیا وہ ریفرنس کا سامنا کریں یا پلی بارگین کے لیے پیش کش کریں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094443">چیف جسٹس کا سیاستدانوں کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے پر نظرثانی کا حکم</a></strong></p>

<p>دوسری جانب عدالت عظمیٰ کی جانب سے بنائی گئی جے آئی ٹی نے ملزمان کے خلاف 16 ریفرنسز کی سفارش کی تھی، اب یہ نیب پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح ان کے ساتھ پیش آتا ہے۔</p>

<p>نیب کی تحقیقات کے دوران ملزم کی جانب سے یہ بھی بتانا ہوگا کہ کس طرح کراچی میں بحریہ ٹاؤن کی اراضی میں اضافہ کیا گیا اور کیسے سرکاری زمین ان کے حوالے کی گئی۔</p>

<p>خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا جاتا ہے کہ جعلی اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات 2015 میں اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے شروع کی گئی۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 21 جنوری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095865</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jan 2019 13:42:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c454c0b9d875.jpg?r=1204390747" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c454c0b9d875.jpg?r=938634575"/>
        <media:title>عرفان منگی پاناما پیپرز کیس میں نواز شریف کے خلاف بننے والی جے آئی ٹی کے رکن بھی رہ چکے ہیں—فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
