<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Balochistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 12:28:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 12:28:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بلوچستان: کوئلے کی کان میں دھماکا، 3 کان کن جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1095921/</link>
      <description>&lt;p&gt;بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرجانے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 3 کان کن جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مائنز چیف انسپکٹر شفقت فیاض کا کہنا تھا کہ دھماکے کو کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی 3 کان کن ملبے میں پھنسے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شفقت فیاض کا کہنا تھا کہ 6 کان کن 1700 فٹ کی گہرائی میں کام کررہے تھے کہ میتھین گیس کے دھماکے کے نتیجے میں کان کا ایک حصہ تباہ ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے 3 افراد کی لاشیں نکالیں جن کی شناخت محمد عمر، عبدالمنان اور عبدالغنی کے نام سے ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094237"&gt;بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے 3 کان کن جاں بحق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مائنز لیبر یونین کے عہدیدار عبدالحکیم کا کہنا تھا کہ ’ کان کن اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،اب تک حکومت میں سے کوئی بھی یہاں نہیں پہنچا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی لیبر فیڈریشن کے صدر خیر محمد کاکڑ نے بھی شکایت کی کہ مائنز ڈپارٹمنٹ سے ایک بھی فرد ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے مائنز انسپکٹر کو 3 مرتبہ فون کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم چیف انسپکٹر مائنز کا کہنا ہے کہ چمالانگ کے علاقے سے ریسکیو ٹیم طلب کی گئی تھی جو متاثرہ کان میں پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ’ہماری ہرممکن کوشش ہے کہ کان میں پھنسے ہوئے افراد کو فوری طور پر باہر نکالا جائے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084877"&gt;کوئٹہ: کوئلے کی کان میں دھماکا، 14 کان کن پھنس گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ کانوں میں کام کرنے والوں کے لیے مخدوش حالات ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں آئے روز کان کن مختلف حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 18 برس میں بلوچستان میں ایسے حادثات میں ایک ہزار سے زائد کان کن جاں بحق ہوچکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں ماہ کے آغاز میں دکی ہی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرجانے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 4 کان کن جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ برس دسمبر میں دکی کے علاقے چمالانگ ہی 2 مختلف حادثات &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094237"&gt;&lt;strong&gt;3 کان کن جاں بحق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;25 نومبر کو بھی دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث 3 کان کن جاں بحق اور 2 بے ہوش ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں 15 ستمبر کو دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث 2 کان کن جاں بحق اور 2 بےہوش ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان کی ڈھائی ہزار کانوں میں کم از کم 20 ہزار افراد کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بلوچستان کے ضلع دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرجانے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 3 کان کن جاں بحق ہوگئے۔</p>

<p>مائنز چیف انسپکٹر شفقت فیاض کا کہنا تھا کہ دھماکے کو کئی گھنٹے گزرنے کے بعد بھی 3 کان کن ملبے میں پھنسے ہوئے تھے۔</p>

<p>شفقت فیاض کا کہنا تھا کہ 6 کان کن 1700 فٹ کی گہرائی میں کام کررہے تھے کہ میتھین گیس کے دھماکے کے نتیجے میں کان کا ایک حصہ تباہ ہوگیا۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے 3 افراد کی لاشیں نکالیں جن کی شناخت محمد عمر، عبدالمنان اور عبدالغنی کے نام سے ہوئی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094237">بلوچستان: کوئلے کی کان میں گیس بھرنے سے 3 کان کن جاں بحق</a></strong></p>

<p>مائنز لیبر یونین کے عہدیدار عبدالحکیم کا کہنا تھا کہ ’ کان کن اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں،اب تک حکومت میں سے کوئی بھی یہاں نہیں پہنچا‘۔</p>

<p>مقامی لیبر فیڈریشن کے صدر خیر محمد کاکڑ نے بھی شکایت کی کہ مائنز ڈپارٹمنٹ سے ایک بھی فرد ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے نہیں آیا۔</p>

<p>انہوں نے دعویٰ کیا کہ میں نے مائنز انسپکٹر کو 3 مرتبہ فون کیا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔</p>

<p>تاہم چیف انسپکٹر مائنز کا کہنا ہے کہ چمالانگ کے علاقے سے ریسکیو ٹیم طلب کی گئی تھی جو متاثرہ کان میں پھنسے ہوئے افراد کو باہر نکالے گی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ’ہماری ہرممکن کوشش ہے کہ کان میں پھنسے ہوئے افراد کو فوری طور پر باہر نکالا جائے‘۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1084877">کوئٹہ: کوئلے کی کان میں دھماکا، 14 کان کن پھنس گئے</a></strong> </p>

<p>خیال رہے کہ کانوں میں کام کرنے والوں کے لیے مخدوش حالات ہونے کی وجہ سے بلوچستان میں آئے روز کان کن مختلف حادثات میں جاں بحق ہوتے ہیں۔</p>

<p>مائنز اینڈ منرلز ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 18 برس میں بلوچستان میں ایسے حادثات میں ایک ہزار سے زائد کان کن جاں بحق ہوچکے۔</p>

<p>رواں ماہ کے آغاز میں دکی ہی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرجانے سے ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 4 کان کن جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>

<p>گزشتہ برس دسمبر میں دکی کے علاقے چمالانگ ہی 2 مختلف حادثات <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094237"><strong>3 کان کن جاں بحق</strong></a> اور 4 زخمی ہوگئے تھے۔</p>

<p>25 نومبر کو بھی دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث 3 کان کن جاں بحق اور 2 بے ہوش ہوگئے تھے۔</p>

<p>قبل ازیں 15 ستمبر کو دکی میں کوئلے کی کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث 2 کان کن جاں بحق اور 2 بےہوش ہو گئے تھے۔</p>

<p>حکومتی ذرائع کے مطابق بلوچستان کی ڈھائی ہزار کانوں میں کم از کم 20 ہزار افراد کام کررہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1095921</guid>
      <pubDate>Mon, 21 Jan 2019 20:23:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکسید علی شاہ)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c45d96d6954b.png?r=1448440079" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c45d96d6954b.png?r=1570775435"/>
        <media:title>دھماکے کو کئی گھنٹے ہونے کے بعد بھی 3 افراد کان میں پھنسے ہوئے ہیں — فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
