<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 19:25:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 19:25:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئرلینڈ کی پارلیمنٹ میں اسرائیلی مصنوعات پر پابندی کا بل منظور
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1096220/</link>
      <description>&lt;p&gt;آئرلینڈ کے ایوان زیریں نے فلسطین میں قائم غیر قانونی اسرائیلی کارخانوں کی مصنوعات کی درآمد اور خدمات حاصل کرنے پر  پابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الجزیرہ کی &lt;a href="https://www.aljazeera.com/news/2019/01/irish-parliament-votes-favour-bill-ban-settlement-goods-190125080743863.html"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آئرلینڈ کے ایوان زیریں میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ری پبلک پارٹی (فیانا فیل) کے سینیٹر نیال کولنز نے بل پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئرلینڈ کے ایوان زیریں میں اس بل کے حق میں 78 جبکہ مخالفت میں صرف 45 ووٹ پڑے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں دسمبر میں آئرلینڈ کے ایوان بالا نے امریکا، یورپی طاقتوں اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود اس بل کے حق میں فیصلہ سنا دیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078904"&gt;اقوام متحدہ کا غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کے حق میں ووٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایوان بالا میں آزاد سینیٹر فرانسس بلیک نے بل پیش کیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں تجاوزات کے حوالے سے اسرائیلی مصنوعات کی درآمد یا فروخت پر پابندی عائد کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بل کی منظوری کے بعد سینیٹر فرانسس نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘آئرلینڈ ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے ساتھ کھڑا ہوگا اور ہم تاریخ رقم کرنے کے لیے ایک قدم کے فاصلے پر ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/frances_black/status/1088426988258426880"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ یہ بل اب مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد قانون کی شکل اختیار کرلے گا جہاں اس کا جائزہ لیا جائے گا اور مناسب ترامیم کی جائیں گی، تاہم بل کو پارلیمنٹ میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں اور آزاد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069196"&gt;'بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینا ناقابل قبول ہے'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر یہ بل قانون بن گیا تو آئرلینڈ، اسرائیل کے اقدامات کو جرائم قرار دینے والا یورپی یونین کا پہلا ملک ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فلسطینی نیشنل انیشیٹو پارٹی کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ برغوتی کا کہنا تھا کہ ‘بی ڈی ایس موومنٹ پر پابندیاں، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور بائیکاٹ کے لیے یہ ایک عظیم فتح ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں مستقبل قریب میں دیگر یورپی ممالک سے بھی اسی طرح کے بل کی منظوری کی توقع ہوگی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی ڈی ایس تحریک فلسطین میں اسرائیل کے غیرقانونی قبضے، سرحد پر دیوار کی تعمیر کے خلاف اور فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی شہریوں کے برابر حقوق دینے اور فلسطین مہاجرین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081523"&gt;اسرائیل مخالف مہم چلانے والی یہودی کارکن کی یروشلم داخلے پر پابندی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی ڈی ایس کی بنیاد 9 جولائی 2005 کو اس وقت رکھی گئی جب فلسطین کی سول سوسائٹی کے تقریباً 170 گروپوں نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے مظالم کو اجاگر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اسرائیل کے وزارت خارجہ نے آئرلینڈ کے سفیر الیسن کیلی سے ایوان سے بل کی منظوری پر شدید احتجاج کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان کےمطابق ان کا کہنا تھا کہ ‘آئرلینڈ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کی مذمت کرنا’ شرم ناک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘آئرلینڈ کی پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی پر اسرائیل شدید غم اور غصے میں ہے’۔  &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آئرلینڈ کے ایوان زیریں نے فلسطین میں قائم غیر قانونی اسرائیلی کارخانوں کی مصنوعات کی درآمد اور خدمات حاصل کرنے پر  پابندی کا بل کثرت رائے سے منظور کرلیا۔</p>

<p>الجزیرہ کی <a href="https://www.aljazeera.com/news/2019/01/irish-parliament-votes-favour-bill-ban-settlement-goods-190125080743863.html"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آئرلینڈ کے ایوان زیریں میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت ری پبلک پارٹی (فیانا فیل) کے سینیٹر نیال کولنز نے بل پیش کیا جس کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔</p>

<p>آئرلینڈ کے ایوان زیریں میں اس بل کے حق میں 78 جبکہ مخالفت میں صرف 45 ووٹ پڑے۔</p>

<p>قبل ازیں دسمبر میں آئرلینڈ کے ایوان بالا نے امریکا، یورپی طاقتوں اور اسرائیل کی مخالفت کے باوجود اس بل کے حق میں فیصلہ سنا دیا تھا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1078904">اقوام متحدہ کا غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کے حق میں ووٹ</a></strong></p>

<p>ایوان بالا میں آزاد سینیٹر فرانسس بلیک نے بل پیش کیا تھا جس کا مقصد مقبوضہ مغربی کنارے میں تجاوزات کے حوالے سے اسرائیلی مصنوعات کی درآمد یا فروخت پر پابندی عائد کرنا تھا۔</p>

<p>بل کی منظوری کے بعد سینیٹر فرانسس نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘آئرلینڈ ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق کے ساتھ کھڑا ہوگا اور ہم تاریخ رقم کرنے کے لیے ایک قدم کے فاصلے پر ہیں’۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/frances_black/status/1088426988258426880"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ یہ بل اب مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد قانون کی شکل اختیار کرلے گا جہاں اس کا جائزہ لیا جائے گا اور مناسب ترامیم کی جائیں گی، تاہم بل کو پارلیمنٹ میں موجود تمام اپوزیشن جماعتوں اور آزاد اراکین کی حمایت حاصل ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1069196">'بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالخلافہ قرار دینا ناقابل قبول ہے'</a></strong></p>

<p>اگر یہ بل قانون بن گیا تو آئرلینڈ، اسرائیل کے اقدامات کو جرائم قرار دینے والا یورپی یونین کا پہلا ملک ہوگا۔</p>

<p>فلسطینی نیشنل انیشیٹو پارٹی کے سیکریٹری جنرل مصطفیٰ برغوتی کا کہنا تھا کہ ‘بی ڈی ایس موومنٹ پر پابندیاں، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی اور بائیکاٹ کے لیے یہ ایک عظیم فتح ہے’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمیں مستقبل قریب میں دیگر یورپی ممالک سے بھی اسی طرح کے بل کی منظوری کی توقع ہوگی’۔</p>

<p>بی ڈی ایس تحریک فلسطین میں اسرائیل کے غیرقانونی قبضے، سرحد پر دیوار کی تعمیر کے خلاف اور فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی شہریوں کے برابر حقوق دینے اور فلسطین مہاجرین کے حقوق کے لیے جدوجہد کررہی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1081523">اسرائیل مخالف مہم چلانے والی یہودی کارکن کی یروشلم داخلے پر پابندی</a></strong></p>

<p>بی ڈی ایس کی بنیاد 9 جولائی 2005 کو اس وقت رکھی گئی جب فلسطین کی سول سوسائٹی کے تقریباً 170 گروپوں نے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے مظالم کو اجاگر کیا تھا۔</p>

<p>دوسری جانب اسرائیل کے وزارت خارجہ نے آئرلینڈ کے سفیر الیسن کیلی سے ایوان سے بل کی منظوری پر شدید احتجاج کیا۔</p>

<p>اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ایک بیان کےمطابق ان کا کہنا تھا کہ ‘آئرلینڈ کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست کی مذمت کرنا’ شرم ناک ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘آئرلینڈ کی پارلیمنٹ میں ہونے والی قانون سازی پر اسرائیل شدید غم اور غصے میں ہے’۔  </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1096220</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Jan 2019 01:30:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c4b4d6128ba3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="460" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c4b4d6128ba3.jpg"/>
        <media:title>ایوان  زیریں میں 78 اراکین نے حق میں ووٹ دے دیا—فوٹو: بشکریہ الجزیرہ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
