<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 07:15:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 07:15:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کی عدالتی فیصلے کےخلاف نظرثانی اپیل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1096348/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس کے فیصلے کے خلاف سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے نظرثانی اپیل دائر کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل کے توسط سے دائر کی گئی اس اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) بینکنگ عدالت میں حتمی چالان داخل کرانے میں ناکام رہی جبکہ ایف آئی اے تمام اداروں کی مدد کے باوجود کوئی قابل جرم شواہد تلاش نہیں کرسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ چاہتے تھے کہ معاملہ صاف اور شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچے اور اسے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے اور تحریری جواب دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کی درخواست کے مطابق ایف آئی اے کی استدعا پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی، تاہم جے آئی ٹی ہمارے خلاف براہ راست شواہد تلاش نہیں کرسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095604"&gt;بلاول، مراد علی شاہ کے نام 'ای سی ایل' سے نکال دیئے جائیں، سپریم کورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے درخواست میں الزام لگایا کہ جے آئی ٹی نے ہمارے مؤقف کو شامل کیے بغیر رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی، یہ رپورٹ مفروضات اور شکوک و شبہات پر مبنی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست کے مطابق جے آئی ٹی نے بھی معاملے کی مزید تحقیقات کی سفارش کی جبکہ عدالت عظمیٰ نے تسلیم کیا کہ جے آئی ٹی قابل قبول شواہد نہیں لاسکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام جے آئی ٹی سے نکالنے کے زبانی حکم کو فیصلے کا حصہ نہیں بنایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ آصف زرداری کو ساری زندگی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مقدمے کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور نے اپنی درخواست میں کہا کہ قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی نہیں بنائی جاسکتی جبکہ سپریم کورٹ کے حکم سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوگا، لہٰذا عدالت عظمیٰ اپنے 7 جنوری کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 7 جنوری 2019 کو اپنے مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجتے ہوئے معاملے کی ازسر نو تحقیقات کی ہدایت دی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ سے نکالنے کا حکم بھی دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بعد ازاں 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاوٹنس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ  سے فی الحال نکال دیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل تھا جس کو جسٹس اعجازالاحسن نے تحریر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096007"&gt;جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کے خلاف تحقیقات کیلئے نیب ٹیم تشکیل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں رکھنے سے اُن کے کام میں مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس اعجازالاحسن نے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ بلاول بھٹو ذرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے تاہم بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے خلاف تحقیقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نیب مراد علی شاہ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر کے خلاف تحقیقات جاری رکھے اور دونوں کے خلاف شواہد آئیں تو نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='5cfe36cb91b17'&gt;کیس کا پس منظر&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روپے بتائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;7 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہت فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094827"&gt;'جعلی اکاؤنٹ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو فیصلہ سمجھ لیا گیا ہے'&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں 3 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سے سے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جعلی اکاؤنٹس کیس کے فیصلے کے خلاف سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی ہمشیرہ فریال تالپور نے نظرثانی اپیل دائر کردی۔</p>

<p>عدالت عظمیٰ میں آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکیل کے توسط سے دائر کی گئی اس اپیل میں مؤقف اپنایا گیا کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) بینکنگ عدالت میں حتمی چالان داخل کرانے میں ناکام رہی جبکہ ایف آئی اے تمام اداروں کی مدد کے باوجود کوئی قابل جرم شواہد تلاش نہیں کرسکی۔</p>

<p>درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ چاہتے تھے کہ معاملہ صاف اور شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچے اور اسے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش ہوئے اور تحریری جواب دیا۔</p>

<p>سابق صدر اور ان کی ہمشیرہ کی درخواست کے مطابق ایف آئی اے کی استدعا پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی تشکیل دی، تاہم جے آئی ٹی ہمارے خلاف براہ راست شواہد تلاش نہیں کرسکی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095604">بلاول، مراد علی شاہ کے نام 'ای سی ایل' سے نکال دیئے جائیں، سپریم کورٹ</a></strong></p>

<p>انہوں نے درخواست میں الزام لگایا کہ جے آئی ٹی نے ہمارے مؤقف کو شامل کیے بغیر رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی، یہ رپورٹ مفروضات اور شکوک و شبہات پر مبنی تھی۔</p>

<p>درخواست کے مطابق جے آئی ٹی نے بھی معاملے کی مزید تحقیقات کی سفارش کی جبکہ عدالت عظمیٰ نے تسلیم کیا کہ جے آئی ٹی قابل قبول شواہد نہیں لاسکی۔</p>

<p>درخواست میں کہا گیا کہ عدالت عظمیٰ نے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام جے آئی ٹی سے نکالنے کے زبانی حکم کو فیصلے کا حصہ نہیں بنایا۔</p>

<p>عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ آصف زرداری کو ساری زندگی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا جبکہ مقدمے کو کراچی سے اسلام آباد منتقل کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں تھا۔</p>

<p>سابق صدر آصف زرداری اور فریال تالپور نے اپنی درخواست میں کہا کہ قانون کی عدم موجودگی میں مختلف اداروں پر مشتمل جے آئی ٹی نہیں بنائی جاسکتی جبکہ سپریم کورٹ کے حکم سے شفاف ٹرائل کا حق متاثر ہوگا، لہٰذا عدالت عظمیٰ اپنے 7 جنوری کے فیصلے پر نظرثانی کرے۔</p>

<p>خیال رہے کہ 7 جنوری 2019 کو اپنے مختصر فیصلے میں سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کی تحقیقات قومی احتساب بیورو (نیب) کو بھیجتے ہوئے معاملے کی ازسر نو تحقیقات کی ہدایت دی تھی، عدالت نے اپنے فیصلے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ سے نکالنے کا حکم بھی دیا تھا۔</p>

<p>تاہم بعد ازاں 16 جنوری کو سپریم کورٹ نے جعلی بینک اکاوٹنس کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ  سے فی الحال نکال دیا جائے۔</p>

<p>جعلی بینک اکاؤنٹس کیس کا فیصلہ 25 صفحات پر مشتمل تھا جس کو جسٹس اعجازالاحسن نے تحریر کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096007">جعلی اکاؤنٹس کیس: آصف زرداری، فریال تالپور کے خلاف تحقیقات کیلئے نیب ٹیم تشکیل</a></strong></p>

<p>سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل میں رکھنے سے اُن کے کام میں مسائل پیدا ہوں گے کیونکہ ان کی نقل و حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوگی۔</p>

<p>جسٹس اعجازالاحسن نے تحریری فیصلے میں کہا تھا کہ بلاول بھٹو ذرداری اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے تاہم بلاول بھٹو زرداری اور مراد علی شاہ کے خلاف تحقیقات میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔</p>

<p>فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نیب مراد علی شاہ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر کے خلاف تحقیقات جاری رکھے اور دونوں کے خلاف شواہد آئیں تو نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔</p>

<h3 id='5cfe36cb91b17'>کیس کا پس منظر</h3>

<p>خیال رہے کہ 2015 کے جعلی اکاؤنٹس اور فرضی لین دین کے مقدمے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور ان کے کاروباری شراکت داروں سے تحقیقات کی جارہی ہیں۔</p>

<p>یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ، سندھ بینک اور سمٹ بینک میں موجود ان 29 بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم کی لاگت ابتدائی طور پر 35ارب روپے بتائی گئی تھی۔</p>

<p>اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد ماہ اگست میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔</p>

<p>7 ستمبر کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔</p>

<p>اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی بہت فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1094827">'جعلی اکاؤنٹ کیس میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کو فیصلہ سمجھ لیا گیا ہے'</a></strong></p>

<p>آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمی میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔</p>

<p>علاوہ ازیں 3 رکنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اڈیالہ جیل میں حسین لوائی اور عبدالغنی مجید سے سے ڈیڑھ گھنٹے سے زائد تفتیش کی تھی۔</p>

<p>بعد ازاں اس کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔</p>

<p>تاہم 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے پر سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کیا تھا اور معاملے پر نظرثانی کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد عدالت نے اپنے ایک فیصلے میں بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1096348</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Jun 2019 15:54:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حسیب بھٹیویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/01/5c4eaa2cdd6a0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/01/5c4eaa2cdd6a0.jpg"/>
        <media:title>وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نام جے آئی ٹی سے نکالنے کے زبانی حکم کو فیصلے کا حصہ نہیں بنایا گیا—فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
