<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 11:23:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 11:23:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سانحہ ساہیوال: 2 موٹرسائیکل سواروں نے گاڑی پر فائرنگ کی، ملزمان کا دعویٰ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1096606/</link>
      <description>&lt;p&gt;ساہیول قتل واقعے میں 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر زیر حراست محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 6 اہلکاروں نے 19 جنوری کو قادر آباد کے قریب 4 لوگوں پر فائرنگ کے الزامات کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملزمان نے واقعے پر بنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو بتایا ہے کہ محمد خلیل اور اس کے اہلخانہ اور اس کے دوست زیشان پر 2 موٹرسائیکل سوار جو ان کی گاڑی کے قریب موجود تھے، نے فائرنگ کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ یوسف والا پولیس نے 6 سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095784"&gt;ساہیوال: سی ٹی ڈی کی کارروائی، کار سوار خواتین سمیت 4 'مبینہ دہشت گرد' ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب مقتول خلیل کے بھائی جلیل شناخت کے لیے سینٹرل جیل نہیں پہنچے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے شناخت کے مرحلے کے لیے جلیل کے طلبی کے سمن حاصل کیے تھے تاہم انہوں نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جلیل نے ڈان کو بتایا کہ انہیں سی ٹی ڈی کی تحقیقات پر اعتبار نہیں اور جوڈیشل کمیشن کو اس معاملے پر تحقیقات کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096413"&gt;سانحہ ساہیوال: سینیٹ کمیٹی اور ورثا کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی ٹی ڈی کے سب انسپیکٹر صفدر حسین، ناصر نواز، احسن خان، محمد رضوان، سیف اللہ عابد اور حسنین اکبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے معاملے کو پیچیدہ بنانے کے لیے الزامات کو مسترد کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں یکم فروری 2019 کو شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ساہیول قتل واقعے میں 7 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر زیر حراست محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے 6 اہلکاروں نے 19 جنوری کو قادر آباد کے قریب 4 لوگوں پر فائرنگ کے الزامات کو مسترد کردیا۔</p>

<p>ملزمان نے واقعے پر بنی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو بتایا ہے کہ محمد خلیل اور اس کے اہلخانہ اور اس کے دوست زیشان پر 2 موٹرسائیکل سوار جو ان کی گاڑی کے قریب موجود تھے، نے فائرنگ کی۔</p>

<p>واضح رہے کہ یوسف والا پولیس نے 6 سی ٹی ڈی اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کے دفعہ 302 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ کے دفعہ 7 کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095784">ساہیوال: سی ٹی ڈی کی کارروائی، کار سوار خواتین سمیت 4 'مبینہ دہشت گرد' ہلاک</a></strong> </p>

<p>دوسری جانب مقتول خلیل کے بھائی جلیل شناخت کے لیے سینٹرل جیل نہیں پہنچے۔</p>

<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس نے شناخت کے مرحلے کے لیے جلیل کے طلبی کے سمن حاصل کیے تھے تاہم انہوں نے اسے وصول کرنے سے انکار کردیا ہے۔</p>

<p>جلیل نے ڈان کو بتایا کہ انہیں سی ٹی ڈی کی تحقیقات پر اعتبار نہیں اور جوڈیشل کمیشن کو اس معاملے پر تحقیقات کرنی چاہیے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096413">سانحہ ساہیوال: سینیٹ کمیٹی اور ورثا کا جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ</a></strong> </p>

<p>سی ٹی ڈی کے سب انسپیکٹر صفدر حسین، ناصر نواز، احسن خان، محمد رضوان، سیف اللہ عابد اور حسنین اکبر کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔</p>

<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے معاملے کو پیچیدہ بنانے کے لیے الزامات کو مسترد کیا ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر ڈان اخبار میں یکم فروری 2019 کو شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1096606</guid>
      <pubDate>Fri, 01 Feb 2019 10:03:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c53d2803952d.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c53d2803952d.png"/>
        <media:title>ان کی گاڑی کے قریب موجود دو موٹر سائیکل سواروں نے فائرنگ کی تھی، ملزمان — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
