<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Kashmir</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:57:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:57:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں پھنسی خاتون کی پاکستان سے مدد کی اپیل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1096738/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مظفرآباد: بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں پھنسی آزاد کشمیر کی رہائشی خاتون نے اپنی شادی ختم ہونے کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی جلد واپسی کے لیے کوششیں کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے 27سالہ کبریٰ گیلانی کی والدہ پروین گیلانی نے کہا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی نام نہاد حکومت میری بیٹی اور ان جیسی دیگر خواتین سے کہہ رہی ہے کہ انہیں نہ صرف شہریت دی جائے گی بلکہ وہ اپنے آبائی علاقے آزاد کشمیر بھی جانے کے لیے آزاد ہوں گی لیکن کئی سالوں سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں صرف دھوکا دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں مظفرآباد اور اسلام آباد میں موجود حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے یہ کام کریں تاکہ میں اپنی بیٹی کے ہمراہ واپس آ سکوں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کبریٰ گیلانی نے مارچ 2010 میں 19سال کی عمر میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے کوکرناگ کے رہائشی محمد الطاف رتھڑ سے شادی کی تھی ۔ الطاف رتھڑ ان سیکڑوں ہزاروں کشمیریوں میں سے تھے جنہوں نے 90 کی دہائی میں لائن کنٹرول پار کر کے آزاد کشمیر میں پناہ لی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کشمیر میں عمر عبداللہ حکومت کی جانب سے سابق فائٹرز اور ان کے اہلخانہ کی بحالی کی ’نام نہاد پالیسی‘ کے اعلان کے بعد 2014 میں یہ جوڑا نیپال کے ذریعے وہیں منتقل ہو گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c560fd1aaa8f.jpg"  alt="کبریٰ گیلانی 2014 میں شوہر کے ہمراہ بھارت کے زیر انتظام منتقل ہوئی تھیں&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;کبریٰ گیلانی 2014 میں شوہر کے ہمراہ بھارت کے زیر انتظام منتقل ہوئی تھیں— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;البتہ شادی کے آٹھ سال بعد الطاف نے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے عاری ہونے کا الزام لگا کر کبریٰ کو 30نومبر کو طلاق دے دی تھی اور اس کے بعد سے وہ اپنے گزر بسر کے لیے دوسروں کے گھروں میں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کی مشکل زندگی کی یہ داستاں اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ ماہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں حکام نہ ہی انہیں مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں اور نہ ہی اپنے اہل خانہ سے دوبارہ ملنے کے لیے پاکستان واپسی کی اجازت دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لائن آف کنٹرول کے پار سے آنے والی اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے انہیں نیا نیا پاسپورٹ جاری کردیا ہے کیونکہ اگست 2018 میں ان کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود جب وہ لائن کنٹرول پر دوبارہ گئیں تو انہیں بھارتی حکام نے مبینہ طور پر ’نامکمل دستاویزات‘ کی بنیاد پر واپس بھیج دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہفتے کو کبریٰ سمیت ایسی تمام خواتین نے سری نگر کے ریزیڈنسی روڈ پر احتجاج کیا تھا اور دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ انسانی بنیادوں پر ان کی پاکستان واپسی کا انتظام کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر ڈان اخبار میں 3 فروری 2019 کو شائع ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مظفرآباد: بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں پھنسی آزاد کشمیر کی رہائشی خاتون نے اپنی شادی ختم ہونے کے بعد آزاد کشمیر اور پاکستان کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی جلد واپسی کے لیے کوششیں کریں۔</strong></p>

<p>ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے 27سالہ کبریٰ گیلانی کی والدہ پروین گیلانی نے کہا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر کی نام نہاد حکومت میری بیٹی اور ان جیسی دیگر خواتین سے کہہ رہی ہے کہ انہیں نہ صرف شہریت دی جائے گی بلکہ وہ اپنے آبائی علاقے آزاد کشمیر بھی جانے کے لیے آزاد ہوں گی لیکن کئی سالوں سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں صرف دھوکا دیا گیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ میں مظفرآباد اور اسلام آباد میں موجود حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہوں کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے یہ کام کریں تاکہ میں اپنی بیٹی کے ہمراہ واپس آ سکوں۔</p>

<p>کبریٰ گیلانی نے مارچ 2010 میں 19سال کی عمر میں بھارت کے زیر تسلط کشمیر کے علاقے کوکرناگ کے رہائشی محمد الطاف رتھڑ سے شادی کی تھی ۔ الطاف رتھڑ ان سیکڑوں ہزاروں کشمیریوں میں سے تھے جنہوں نے 90 کی دہائی میں لائن کنٹرول پار کر کے آزاد کشمیر میں پناہ لی تھی۔</p>

<p>کشمیر میں عمر عبداللہ حکومت کی جانب سے سابق فائٹرز اور ان کے اہلخانہ کی بحالی کی ’نام نہاد پالیسی‘ کے اعلان کے بعد 2014 میں یہ جوڑا نیپال کے ذریعے وہیں منتقل ہو گیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c560fd1aaa8f.jpg"  alt="کبریٰ گیلانی 2014 میں شوہر کے ہمراہ بھارت کے زیر انتظام منتقل ہوئی تھیں&mdash; فوٹو: اے ایف پی" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">کبریٰ گیلانی 2014 میں شوہر کے ہمراہ بھارت کے زیر انتظام منتقل ہوئی تھیں— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>البتہ شادی کے آٹھ سال بعد الطاف نے اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت سے عاری ہونے کا الزام لگا کر کبریٰ کو 30نومبر کو طلاق دے دی تھی اور اس کے بعد سے وہ اپنے گزر بسر کے لیے دوسروں کے گھروں میں ملازمت کرنے پر مجبور ہیں۔</p>

<p>ان کی مشکل زندگی کی یہ داستاں اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ ماہ انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پیغام پوسٹ کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں حکام نہ ہی انہیں مستقل رہائش کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہیں اور نہ ہی اپنے اہل خانہ سے دوبارہ ملنے کے لیے پاکستان واپسی کی اجازت دے رہے ہیں۔</p>

<p>لائن آف کنٹرول کے پار سے آنے والی اطلاعات کے مطابق نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے انہیں نیا نیا پاسپورٹ جاری کردیا ہے کیونکہ اگست 2018 میں ان کے پاسپورٹ کی مدت ختم ہو گئی تھی لیکن اس کے باوجود جب وہ لائن کنٹرول پر دوبارہ گئیں تو انہیں بھارتی حکام نے مبینہ طور پر ’نامکمل دستاویزات‘ کی بنیاد پر واپس بھیج دیا تھا۔</p>

<p>ہفتے کو کبریٰ سمیت ایسی تمام خواتین نے سری نگر کے ریزیڈنسی روڈ پر احتجاج کیا تھا اور دونوں ممالک کی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ انسانی بنیادوں پر ان کی پاکستان واپسی کا انتظام کریں۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر ڈان اخبار میں 3 فروری 2019 کو شائع ہوئی</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1096738</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Feb 2019 15:28:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c56a372a2776.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="729">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c56a372a2776.jpg"/>
        <media:title>بھارت کے زیرتسلط کشمیر میں پھنسی پاکستانی خواتین سری نگر میں احتجاج کر رہی ہیں—
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
