<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Afghanistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:06:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:06:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان: مسلح افراد نے ریڈیو اسٹیشن میں گھس کر 2 صحافی قتل کردیئے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1096957/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;افغانستان کے شمالی صوبے تاخر میں نامعلوم مسلح افراد نے نجی ریڈیو اسٹیشن میں گھس کر 2 صحافیوں کو قتل کردیا۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی خبررساں ادارے اےا یف پی کے مطابق کہ مسلح افراد نجی ریڈیو ’ہم صدا‘ میں داخل ہوئے اور 20 سالہ ہم عمر نوجوانوں پر فائرنگ کردی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077993"&gt;دنیا بھر کے صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صوبائی ترجمان جاوید ہجری نے بتایا کہ ’حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’بروز منگل شام 6 بجے دو نامعلوم مسلح افراد ریڈیو اسٹیشن کے دفتر میں داخلے ہوئے اور دو رپورٹرز پر فائرنگ کردی جو لائیو پروگرام کررہے تھے تاہم دنوں رپورٹرز موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ افغانستان میں رواں برس صحافیوں پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1077876' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5ae70e3c860.png"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ طالبان نے افغان سیٹیزن صحافی جاوید نوری کو ان کی کار سے بابر نکال کر قتل کردیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرکے مطابق سال 2018 افغانستان میں صحافیوں کے لیے بدترین سال رہا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کابل میں امریکی سفیر جان باس نے ’صحافیوں کے قتل پر افسوس اور گہرے رنج کا اظہار کیا‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’یہ وقت ہے جب صحافیوں کے خلاف جرائم کا خاتمہ ضروری ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واقعے کو ’سنگین جرم‘ قرار دیا اور افغان حکام پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایں تاکہ بہتر انداز میں فرائض انجام دے سکیں‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091489"&gt;’5 برسوں میں 26 صحافی قتل، کسی ایک قاتل کو بھی سزا نہیں ہوئی‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب جنوبی ایشیا گروپ کے محقق زمان سلطانی نے کہا کہ ’مذکورہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں صحافیوں کے لیے حالات ساز گار نہیں ہیں‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے اور انصاف دیا جائے‘۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>افغانستان کے شمالی صوبے تاخر میں نامعلوم مسلح افراد نے نجی ریڈیو اسٹیشن میں گھس کر 2 صحافیوں کو قتل کردیا۔</strong> </p>

<p>فرانسیسی خبررساں ادارے اےا یف پی کے مطابق کہ مسلح افراد نجی ریڈیو ’ہم صدا‘ میں داخل ہوئے اور 20 سالہ ہم عمر نوجوانوں پر فائرنگ کردی۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1077993">دنیا بھر کے صحافی اپنی جان خطرے میں ڈال کر کام کرنے پر مجبور</a></strong> </p>

<p>صوبائی ترجمان جاوید ہجری نے بتایا کہ ’حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی تاہم تحقیقات کا عمل جاری ہے‘۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’بروز منگل شام 6 بجے دو نامعلوم مسلح افراد ریڈیو اسٹیشن کے دفتر میں داخلے ہوئے اور دو رپورٹرز پر فائرنگ کردی جو لائیو پروگرام کررہے تھے تاہم دنوں رپورٹرز موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ </p>

<p>واضح رہے کہ افغانستان میں رواں برس صحافیوں پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1077876' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5ae70e3c860.png"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>گزشتہ ماہ طالبان نے افغان سیٹیزن صحافی جاوید نوری کو ان کی کار سے بابر نکال کر قتل کردیا تھا۔ </p>

<p>رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرکے مطابق سال 2018 افغانستان میں صحافیوں کے لیے بدترین سال رہا۔ </p>

<p>کابل میں امریکی سفیر جان باس نے ’صحافیوں کے قتل پر افسوس اور گہرے رنج کا اظہار کیا‘۔ </p>

<p>انہوں نے ٹوئٹ کیا کہ ’یہ وقت ہے جب صحافیوں کے خلاف جرائم کا خاتمہ ضروری ہے‘۔</p>

<p>دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل نے واقعے کو ’سنگین جرم‘ قرار دیا اور افغان حکام پر زور دیا کہ وہ صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنایں تاکہ بہتر انداز میں فرائض انجام دے سکیں‘۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091489">’5 برسوں میں 26 صحافی قتل، کسی ایک قاتل کو بھی سزا نہیں ہوئی‘</a></strong> </p>

<p>دوسری جانب جنوبی ایشیا گروپ کے محقق زمان سلطانی نے کہا کہ ’مذکورہ واقعہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ افغانستان میں صحافیوں کے لیے حالات ساز گار نہیں ہیں‘۔ </p>

<p>انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’ذمہ داران کی نشاندہی کی جائے اور انصاف دیا جائے‘۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1096957</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Feb 2019 19:26:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5af2b07a4f2.jpg?r=1987712257" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c5af2b07a4f2.jpg?r=683772924"/>
        <media:title>افغانستان میں رواں برس صحافیوں پر حملے کا دوسرا واقعہ ہے— فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
