<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:42:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:42:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرتارپور معاہدے کو حتمی شکل دینے کیلئے پاکستان، بھارت وفود کے دوروں پر رضامند
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1097043/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: کرتارپور معاہدے پر مذاکرات کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان اور بھارت نے اپنے حکام کے دوروں پر رضامندی کا اظہار کردیا ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی وفد 13 مارچ کو نئی دہلی روانہ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1462507/pakistan-india-agree-on-team-visits-to-reach-kartarpur-deal"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’کرتار پور صاحب کے ذریعے سفر کرنے والے زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بات چیت کرنے اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ہم پاکستانی وفد کو 13 مارچ 2019 کو بھارت میں خوش آمدید کہیں گے، اس کے بعد ہماری دوسری ملاقات پاکستان میں ہوسکتی ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/1093525950111727616"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ ٹوئٹ ان کے پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر محمد فیصل کے ٹوئٹ کے آدھے گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے بھارت کو پاکستان کی پیشکش کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’بہتری کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے پاکستان نے بھارت کو 13 مارچ کو پاکستانی وفد کے دورے کی پیشکش کی ہے جس کے بعد بھارتی وفد بھی 28 مارچ کو پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ کرتارپور معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دی جاسکے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1093513250942210049"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے امید کی کہ بھارت، اسلام آباد کی پیشکس پر مثبت رد عمل دے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے کرتارپور کوریڈور معاہدے کا مسودہ بھارت کو پیش کرتے ہوئے ان کے وفد کو دستاویزات پر مذاکرات کرنے کے لیے مدعو کیا تھا جو کرتارپور صاحب میں قائم گردوارا میں بھارتی سکھ زائرین کی بغیر ویزا رسائی کے کام کی نگرانی کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کوریڈور کو رواں سال سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی 550ویں سالگرہ کے موقع پر سکھ زائرین کے لیے کھولے جانے کا منصوبہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بھارت نے اس پیشکش کو قبول کرنے کے بجائے ملاقات پر زور دیا تھا اور پاکستانی حکام کو کہا تھا کہ آیا وہ 26 فروری یا 7 مارچ کو نئی دہلی کے دورہ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: کرتارپور معاہدے پر مذاکرات کرنے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان اور بھارت نے اپنے حکام کے دوروں پر رضامندی کا اظہار کردیا ہے اور اس سلسلے میں پاکستانی وفد 13 مارچ کو نئی دہلی روانہ ہوگا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1462507/pakistan-india-agree-on-team-visits-to-reach-kartarpur-deal"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’کرتار پور صاحب کے ذریعے سفر کرنے والے زائرین کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے بات چیت کرنے اور معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ہم پاکستانی وفد کو 13 مارچ 2019 کو بھارت میں خوش آمدید کہیں گے، اس کے بعد ہماری دوسری ملاقات پاکستان میں ہوسکتی ہے‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/MEAIndia/status/1093525950111727616"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>واضح رہے کہ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ ٹوئٹ ان کے پاکستانی ہم منصب ڈاکٹر محمد فیصل کے ٹوئٹ کے آدھے گھنٹے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے بھارت کو پاکستان کی پیشکش کے حوالے سے آگاہ کیا تھا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’بہتری کی جانب قدم بڑھاتے ہوئے پاکستان نے بھارت کو 13 مارچ کو پاکستانی وفد کے دورے کی پیشکش کی ہے جس کے بعد بھارتی وفد بھی 28 مارچ کو پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ کرتارپور معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دی جاسکے‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/ForeignOfficePk/status/1093513250942210049"></a>
            </blockquote>
            </div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے امید کی کہ بھارت، اسلام آباد کی پیشکس پر مثبت رد عمل دے گا۔</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاکستان نے کرتارپور کوریڈور معاہدے کا مسودہ بھارت کو پیش کرتے ہوئے ان کے وفد کو دستاویزات پر مذاکرات کرنے کے لیے مدعو کیا تھا جو کرتارپور صاحب میں قائم گردوارا میں بھارتی سکھ زائرین کی بغیر ویزا رسائی کے کام کی نگرانی کریں گے۔</p>

<p>اس کوریڈور کو رواں سال سکھ مذہب کے بانی بابا گرو نانک کی 550ویں سالگرہ کے موقع پر سکھ زائرین کے لیے کھولے جانے کا منصوبہ ہے۔</p>

<p>تاہم بھارت نے اس پیشکش کو قبول کرنے کے بجائے ملاقات پر زور دیا تھا اور پاکستانی حکام کو کہا تھا کہ آیا وہ 26 فروری یا 7 مارچ کو نئی دہلی کے دورہ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1097043</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Feb 2019 09:20:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5cfb20a3be9.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c5cfb20a3be9.jpg"/>
        <media:title>سکھ زائرین ننکانہ صاحب میں کرتار پور گردوارہ میں لنگر کا اہتمام کر رہے ہیں — فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
