<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:26:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:26:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار ترک کیا جائے‘
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1097045/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالہ کیا ہے کہ آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا طریقہ کا ترک کر کے اس کا فیصلہ ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کے تناظر میں کیا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقہ جات کا اجلاس سینیٹر عثمان کاکڑ کی زیر صدارت ہوا جس میں کہا گیا کہ حکومت کو آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم روک دینی چاہیے کیوں کہ ملک کی 71 فیصد آبادی پسماندہ علاقوں میں رہائش پذید ہے جنہیں بجٹ میں صرف 20 فیصد حصہ مل پاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ اجلاس پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والی وزارت صنعت و پیداوار کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی فعالیت پر غور اور نظرِ ثانی کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں کمیٹی نے آئندہ بجٹ میں ان علاقوں کے لیے زیادہ رقم مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063792"&gt;پاکستان ’آبی وسائل کی قلت‘ کے شکار 15 ممالک میں شامل&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر عثمان کاکڑ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ثقافت کا گڑھ اور معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود قبائلی علاقے (سابق فاٹا) اور پاٹا، سندھ کے اندرونی علاقے، پنجاب (بڑے شہروں کے علاوہ) اور بلوچستان کم ترقی یافتہ علاقے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ’یہ افسوس کا مقام ہے، ہمیں آبادی کی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم کا یہ طریقہ کار تبدیل کرنا چاہیے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1096630/' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5d06a195ac8.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس وقت قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبوں کے درمیان قابلِ تقسیم ٹیکسز کے طریقہ کار میں 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں، 10.3 فیصد پسماندگی اور 2.7 فیصد کا فیصلہ آبادی سے ہٹ کر کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایک سینیٹر کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ کثیر آبادی والے علاقوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ ملک اور دنیا کے ہر علاقے کی اپنی اہمیت اور خوصیت ہے جسے فروغ دیا جاسکتا ہے ار وزارت صنعت و پیداوار اس مقصد کے لیے تندہی سے کام کررہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئلے کی کان کنی اور توانائی کے پلانٹ کی تنصیب سے تھرپارکر کا علاقہ مستقبل قریب میں مکمل تبدیل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس موقع پر کمیٹی کو ’ایک ہنر ایک نگر (اہن)‘ جیسے پروگرامز کے ذریعے خیبر سے کراچی تک پسماندہ علاقوں میں صنعتوں کے فروغ سے آگاہ کیا گیا، جس میں مقامی ہنرمندوں کے کام کو فروغ مل رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمیٹی اراکین نے آہن کی خدمات کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے کام میں آنے والی تمام مشکلات دور کی جائیں، اس پر سینیٹر راحیلہ مگسی نے پیشکش کی کہ آہن ٹنڈو الہیار میں موجود ان کے باغ میں مفت میلے کا اہتمام کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096967"&gt;این ایف سی اجلاس: 18ویں ترمیم کے تحت وسائل کی تقسیم پر اتفاق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ چھوٹے علاقوں میں کچھ صنعتوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے، مثال کے طور پر مالاکنڈ ڈویژن میں قائم استیل ملز جو ماحولیاتی تنظیموں کی مداخلت کی بنا پر بند کردی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہ اس قسم کے صنعتوں کو قیام سے قبل عدم اعتراض کا تصدیق نامہ حاصل کریں اور ماحول کا تحفظ یقینی بنائیں، انہوں نے کہا کہ اس قسم کی صنعتوں کی بندش سے نہ صرف سرمایہ کاروں و نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ بہت سے لوگ روزگار سے بھی محروم ہورہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھرپارکر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر گیان چند نے کہا کہ وہاں موجود دستکاروں کو فروغ دینے کے لیے پالیسی بنائی جانی چاہیے، تھر میں کوئلے کی کان کنی کے منصوبوں کے لیے پورے علاقے کو خالی کروالیا گیا اور اب وہاں کوئی گاؤں نہیں جسے بجلی میسر ہو حالانکہ وہاں قائم منصوبوں کو بجلی کی فراہمی جاری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ خبر 8 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں سے مطالہ کیا ہے کہ آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم کا طریقہ کا ترک کر کے اس کا فیصلہ ترقی یافتہ اور پسماندہ علاقوں کے تناظر میں کیا جائے۔</p>

<p>قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقہ جات کا اجلاس سینیٹر عثمان کاکڑ کی زیر صدارت ہوا جس میں کہا گیا کہ حکومت کو آبادی کی بنیاد پر وسائل کی تقسیم روک دینی چاہیے کیوں کہ ملک کی 71 فیصد آبادی پسماندہ علاقوں میں رہائش پذید ہے جنہیں بجٹ میں صرف 20 فیصد حصہ مل پاتا ہے۔</p>

<p>مذکورہ اجلاس پسماندہ علاقوں میں کام کرنے والی وزارت صنعت و پیداوار کی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کی فعالیت پر غور اور نظرِ ثانی کرنے کے لیے بلایا گیا تھا، جس میں کمیٹی نے آئندہ بجٹ میں ان علاقوں کے لیے زیادہ رقم مختص کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1063792">پاکستان ’آبی وسائل کی قلت‘ کے شکار 15 ممالک میں شامل</a></strong></p>

<p>سینیٹر عثمان کاکڑ نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ثقافت کا گڑھ اور معدنی وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود قبائلی علاقے (سابق فاٹا) اور پاٹا، سندھ کے اندرونی علاقے، پنجاب (بڑے شہروں کے علاوہ) اور بلوچستان کم ترقی یافتہ علاقے ہیں۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ’یہ افسوس کا مقام ہے، ہمیں آبادی کی بنیاد پر فنڈز کی تقسیم کا یہ طریقہ کار تبدیل کرنا چاہیے‘۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1096630/' ><img src="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5d06a195ac8.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ اس وقت قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت صوبوں کے درمیان قابلِ تقسیم ٹیکسز کے طریقہ کار میں 82 فیصد آبادی کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں، 10.3 فیصد پسماندگی اور 2.7 فیصد کا فیصلہ آبادی سے ہٹ کر کیا جاتا ہے۔</p>

<p>اس سلسلے میں ایک سینیٹر کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کا سب سے بڑا حصہ کثیر آبادی والے علاقوں کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔</p>

<p>وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار عبدالرزاق داؤد کا کہنا تھا کہ ملک اور دنیا کے ہر علاقے کی اپنی اہمیت اور خوصیت ہے جسے فروغ دیا جاسکتا ہے ار وزارت صنعت و پیداوار اس مقصد کے لیے تندہی سے کام کررہی ہے۔</p>

<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئلے کی کان کنی اور توانائی کے پلانٹ کی تنصیب سے تھرپارکر کا علاقہ مستقبل قریب میں مکمل تبدیل ہوجائے گا۔</p>

<p>اس موقع پر کمیٹی کو ’ایک ہنر ایک نگر (اہن)‘ جیسے پروگرامز کے ذریعے خیبر سے کراچی تک پسماندہ علاقوں میں صنعتوں کے فروغ سے آگاہ کیا گیا، جس میں مقامی ہنرمندوں کے کام کو فروغ مل رہا ہے۔</p>

<p>کمیٹی اراکین نے آہن کی خدمات کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ اس کے کام میں آنے والی تمام مشکلات دور کی جائیں، اس پر سینیٹر راحیلہ مگسی نے پیشکش کی کہ آہن ٹنڈو الہیار میں موجود ان کے باغ میں مفت میلے کا اہتمام کرسکتی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1096967">این ایف سی اجلاس: 18ویں ترمیم کے تحت وسائل کی تقسیم پر اتفاق</a></strong></p>

<p>اس حوالے سے سینیٹر فدا محمد نے کہا کہ چھوٹے علاقوں میں کچھ صنعتوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے، مثال کے طور پر مالاکنڈ ڈویژن میں قائم استیل ملز جو ماحولیاتی تنظیموں کی مداخلت کی بنا پر بند کردی گئیں۔</p>

<p>انہوں نے کہ اس قسم کے صنعتوں کو قیام سے قبل عدم اعتراض کا تصدیق نامہ حاصل کریں اور ماحول کا تحفظ یقینی بنائیں، انہوں نے کہا کہ اس قسم کی صنعتوں کی بندش سے نہ صرف سرمایہ کاروں و نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ بہت سے لوگ روزگار سے بھی محروم ہورہے ہیں۔</p>

<p>تھرپارکر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر گیان چند نے کہا کہ وہاں موجود دستکاروں کو فروغ دینے کے لیے پالیسی بنائی جانی چاہیے، تھر میں کوئلے کی کان کنی کے منصوبوں کے لیے پورے علاقے کو خالی کروالیا گیا اور اب وہاں کوئی گاؤں نہیں جسے بجلی میسر ہو حالانکہ وہاں قائم منصوبوں کو بجلی کی فراہمی جاری ہے۔</p>

<hr />

<p><strong>یہ خبر 8 فروری 2019 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1097045</guid>
      <pubDate>Fri, 08 Feb 2019 09:44:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5d0842c8443.jpg?r=351221395" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c5d0842c8443.jpg?r=291868435"/>
        <media:title>سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے پسماندہ علاقہ جات کا اجلاس سینیٹر عثمان کاکڑ کی زیر صدارت ہوا—فوٹو بشکریہ سینیٹ ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
