<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 21:49:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 21:49:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف آئی اے نے صحافی رضوان رضی کو ریاستی اداروں کے خلاف ‘ٹویٹس’ پر گرفتار کرلیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1097175/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی چینل 'دن نیوز' کے سینئر صحافی رضوان الرحمٰن رضی عرف رضی دادا کو ٹویٹر میں عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف ‘ہتک آمیز اور نفرت انگیز’ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کی جانب سے 8 فروری کو درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی کو انکوائری کے لیے ‘طلب’ کیا گیا تھا اور بیان ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی ایف آئی آر اور رضوان رضی کے فیس بک اکاؤنٹ سے جاری بیان میں تضاد پایا جاتا ہے، جہاں ان کے اکاؤنٹ سے ان کے بیٹے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ابھی صبح سویرے میرے باپ کو کچھ لوگ گاڑی میں دھکا مار کر اٹھا لے گئے ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  six-tenths  palm--one-whole  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5eefe7c5e50.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب تحقیقاتی ادارے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ رضوان رضی نے ‘اعتراف’ کیا کہ انہوں نے عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف پوسٹس کی ہیں جس پر وہ ‘بہت شرمندہ ہیں’ اور معذرت بھی کر لی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1041760"&gt;سائبر کرائم بل قومی اسمبلی سے منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی نے وعدہ کیا ہے کہ ‘وہ آئندہ عدلیہ، پاکستان آرمی اور انٹیلی جنس ایجنسیز اور دیگر اداروں کے خلاف اس طرح کی نفرت انگیز اور ہتک آمیز پوسٹس نہیں کریں گے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c5eef06c1cc3.jpg"  alt="فوٹو: نصراللہ ملک ٹویٹر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو: نصراللہ ملک ٹویٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران رضوان رضی کا موبائل ضبط کرکے ڈیٹا کی فرانزک رپورٹ بھی حاصل کرلی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ ‘حکام کی اجازت سے رضوان رضی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحافی رضوان رضی کے خلاف درج ایف آئی آر میں انہیں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 11 اور 20 کی دفعات کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ اس قانون پر بڑی تنقید کی گئی تھی اور اس قانون کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر میں انہیں مزید ایک اور قانون تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی قرار دیا گیا جو ہتک عزت سے متعلق ہے، جس پر 2 سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ رضوان رضی کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو بھی معطل کردیا گیا ہے حالانکہ ان کے بیٹے  نے اٹھائے جانے کی خبر اسی اکاؤنٹ سے دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رضوان رضی کے بیٹے  نے دو ٹویٹس کی تھیں جن میں سے پہلی ٹویٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میرے باپ کو دھکا دے کر گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  six-tenths  palm--one-whole  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5ef00913902.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اپنی دوسری ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘کچھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ میرے والد صاحب کو پہلے کالی گاڑی میں  لے کر گئے اور تھوڑی ہی دور جا کر ایک رینجرز کی گاڑی میں بٹھا دیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی ٹویٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ ‘گارڈ کہتا ہے کہ یہ حرکت اس نے صبح 8 بجے سے مسلسل نوٹس کی جب وہ ڈیوٹی پر آیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  six-tenths  palm--one-whole  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5ef004935d6.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹویٹر میں صحافیوں اور سیاست دانوں سمیت کئی صارفین نے رضوان رضی کو اس طرح اٹھائے جانے کے حوالے سے شدید تنقید کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رضوان رضی کی رہائی کے لیے ٹویٹر میں ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گیا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے نجی چینل 'دن نیوز' کے سینئر صحافی رضوان الرحمٰن رضی عرف رضی دادا کو ٹویٹر میں عدلیہ، حکومتی اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیز کے خلاف ‘ہتک آمیز اور نفرت انگیز’ مواد پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔</p>

<p>ایف آئی اے کی جانب سے 8 فروری کو درج کی گئی ایک ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی کو انکوائری کے لیے ‘طلب’ کیا گیا تھا اور بیان ریکارڈ کیا گیا۔</p>

<p>ایف آئی اے کی جانب سے جاری کی گئی ایف آئی آر اور رضوان رضی کے فیس بک اکاؤنٹ سے جاری بیان میں تضاد پایا جاتا ہے، جہاں ان کے اکاؤنٹ سے ان کے بیٹے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ابھی صبح سویرے میرے باپ کو کچھ لوگ گاڑی میں دھکا مار کر اٹھا لے گئے ہیں’۔</p>

<figure class='media  six-tenths  palm--one-whole  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5eefe7c5e50.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>دوسری جانب تحقیقاتی ادارے کی ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ رضوان رضی نے ‘اعتراف’ کیا کہ انہوں نے عدلیہ اور دیگر ریاستی اداروں کے خلاف پوسٹس کی ہیں جس پر وہ ‘بہت شرمندہ ہیں’ اور معذرت بھی کر لی ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1041760">سائبر کرائم بل قومی اسمبلی سے منظور</a></strong></p>

<p>ایف آئی آر کے مطابق رضوان رضی نے وعدہ کیا ہے کہ ‘وہ آئندہ عدلیہ، پاکستان آرمی اور انٹیلی جنس ایجنسیز اور دیگر اداروں کے خلاف اس طرح کی نفرت انگیز اور ہتک آمیز پوسٹس نہیں کریں گے’۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c5eef06c1cc3.jpg"  alt="فوٹو: نصراللہ ملک ٹویٹر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو: نصراللہ ملک ٹویٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران رضوان رضی کا موبائل ضبط کرکے ڈیٹا کی فرانزک رپورٹ بھی حاصل کرلی گئی ہے۔</p>

<p>مزید کہا گیا ہے کہ ‘حکام کی اجازت سے رضوان رضی کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے’۔</p>

<p>صحافی رضوان رضی کے خلاف درج ایف آئی آر میں انہیں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) 2016 کے سیکشن 11 اور 20 کی دفعات کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ اس قانون پر بڑی تنقید کی گئی تھی اور اس قانون کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔</p>

<p>ایف آئی آر میں انہیں مزید ایک اور قانون تعزیرات پاکستان کی دفعہ 500 کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی قرار دیا گیا جو ہتک عزت سے متعلق ہے، جس پر 2 سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں ہوسکتی ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ رضوان رضی کے ٹویٹر اکاؤنٹ کو بھی معطل کردیا گیا ہے حالانکہ ان کے بیٹے  نے اٹھائے جانے کی خبر اسی اکاؤنٹ سے دی تھی۔</p>

<p>رضوان رضی کے بیٹے  نے دو ٹویٹس کی تھیں جن میں سے پہلی ٹویٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ ’میرے باپ کو دھکا دے کر گاڑی میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔</p>

<figure class='media  six-tenths  palm--one-whole  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5ef00913902.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اپنی دوسری ٹویٹ میں انہوں نے کہا کہ ‘کچھ لوگوں سے بات کرنے کے بعد یہ انکشاف ہوا ہے کہ میرے والد صاحب کو پہلے کالی گاڑی میں  لے کر گئے اور تھوڑی ہی دور جا کر ایک رینجرز کی گاڑی میں بٹھا دیا’۔</p>

<p>اسی ٹویٹ میں انہوں نے مزید کہا کہ ‘گارڈ کہتا ہے کہ یہ حرکت اس نے صبح 8 بجے سے مسلسل نوٹس کی جب وہ ڈیوٹی پر آیا’۔</p>

<figure class='media  six-tenths  palm--one-whole  media--center  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/medium/2019/02/5c5ef004935d6.jpg"  alt="" /></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ٹویٹر میں صحافیوں اور سیاست دانوں سمیت کئی صارفین نے رضوان رضی کو اس طرح اٹھائے جانے کے حوالے سے شدید تنقید کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔</p>

<p>رضوان رضی کی رہائی کے لیے ٹویٹر میں ٹاپ ٹرینڈ بھی بن گیا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1097175</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Feb 2019 13:06:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c5eed591b3ed.jpg?r=1063230518" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c5eed591b3ed.jpg?r=1633413635"/>
        <media:title>ایف آئی اے نے رضوان رضی کے خلاف ایف آئی آر درج کردی—فوٹو: رضوان رضی فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
