<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:05:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:05:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان سے تعاون کیلئے تیار ہیں، آئی ایم ایف سربراہ کی یقین دہانی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1097225/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم عمران خان نے دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کی سائیڈ لائن میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈے سے ملاقات کی۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملاقات سے متعلق پاکستانی حکام نے کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کرسٹین لیگارڈے  نے ’وزیراعظم سے ملاقات کو اچھی اور سود مند‘ قرار دیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088842"&gt;کیا پی ٹی آئی کے پاس آئی ایم ایف ہی آخری آپشن ہے؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرسٹین لیگارڈے  نے کہا کہ ’ملاقات میں آئی ایم ایف کے امدادی پیکج کے تناظر میں حالیہ اقتصادی پیش رفت اور امکات پر بات چیت ہوئی‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/1094580077902348288?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1094580077902348288&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1462998"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات میں زور دیا کہ ’آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرسٹین لیگارڈے  نے کہا کہ پاکستان ’فیصلہ کن پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے لیے مضبوط پیکج‘ سے اپنی معیشت کو بحال کرسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1079474' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c5e5f31446bd.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کرسٹین لیگارڈ نے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی کے بارے میں کہا کہ ’غریبوں کو تحفظ اور  مضبوط گورننس کے ذریعے لوگوں کا معیار زندگی بہتر کیا جاسکتا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزیدپڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091291/"&gt;پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے، وزیر خزانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ برس 20 اکتوبرکو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے لیا جانے والا یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ یہ آئی ایم ایف پروگرام مجموعی طور پر 19 واں جبکہ گزشتہ 30 سالوں کے درمیان یہ 13 واں پروگرام ہے جو انشا اللہ آخری پروگرام ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعدازاں 20 نومبر خبر آئی کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کے حوالے سے کچھ معاملات پر اختلافِ رائے موجود رہا جس میں توانائی کی قیمتوں میں اضافی ٹیکسز اور چینی تعاون کا مکمل اخراج شامل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا تھا کہ ہماری اور آئی ایم ایف کی پوزیشن میں اب بھی فرق موجود ہے تاہم انہوں نے بات چیت کو مثبت اور خلیج کو کم کرنے والی قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087966"&gt;پاکستانی معیشت بیمار ہے، اس کا بائی پاس ہو رہا ہے، وزیر خزانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی عرب کی جانب سے  پاکستان کو 3 ارب ڈالر امداد اور 3 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3 ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ سال نومبر میں دورہِ چین کے بعد وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مزید امداد حاصل ہونے کی توقع ہے البتہ اس کے حجم اور نوعیت کے بارے میں طے کرنا باقی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ گزشتہ دو سالوں میں کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارہ بڑھنے کی وجہ سے معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے، حکام کے مطابق پاکستان کو ان دونوں بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کم از کم 12 ارب ڈالر درکار ہیں اور اس تناظر میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم عمران خان نے دبئی میں ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کی سائیڈ لائن میں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈے سے ملاقات کی۔</strong> </p>

<p>ملاقات سے متعلق پاکستانی حکام نے کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق کرسٹین لیگارڈے  نے ’وزیراعظم سے ملاقات کو اچھی اور سود مند‘ قرار دیا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1088842">کیا پی ٹی آئی کے پاس آئی ایم ایف ہی آخری آپشن ہے؟</a></strong> </p>

<p>کرسٹین لیگارڈے  نے کہا کہ ’ملاقات میں آئی ایم ایف کے امدادی پیکج کے تناظر میں حالیہ اقتصادی پیش رفت اور امکات پر بات چیت ہوئی‘۔ </p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/PTIofficial/status/1094580077902348288?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1094580077902348288&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.dawn.com%2Fnews%2F1462998"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے وزیراعظم سے ملاقات میں زور دیا کہ ’آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے‘۔ </p>

<p>کرسٹین لیگارڈے  نے کہا کہ پاکستان ’فیصلہ کن پالیسیوں اور اقتصادی اصلاحات کے لیے مضبوط پیکج‘ سے اپنی معیشت کو بحال کرسکتا ہے۔ </p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/4  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1079474' ><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c5e5f31446bd.jpg"  alt="" /></a></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کرسٹین لیگارڈ نے پاکستان تحریک انصاف کی پالیسی کے بارے میں کہا کہ ’غریبوں کو تحفظ اور  مضبوط گورننس کے ذریعے لوگوں کا معیار زندگی بہتر کیا جاسکتا ہے‘۔</p>

<p><strong>مزیدپڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091291/">پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام ناگزیر ہے، وزیر خزانہ</a></strong> </p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ برس 20 اکتوبرکو وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا تھا کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے لیا جانے والا یہ آخری آئی ایم ایف پروگرام ہوگا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ یہ آئی ایم ایف پروگرام مجموعی طور پر 19 واں جبکہ گزشتہ 30 سالوں کے درمیان یہ 13 واں پروگرام ہے جو انشا اللہ آخری پروگرام ثابت ہوگا۔</p>

<p>بعدازاں 20 نومبر خبر آئی کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان بیل آؤٹ پیکج کی شرائط کے حوالے سے کچھ معاملات پر اختلافِ رائے موجود رہا جس میں توانائی کی قیمتوں میں اضافی ٹیکسز اور چینی تعاون کا مکمل اخراج شامل ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے بتایا تھا کہ ہماری اور آئی ایم ایف کی پوزیشن میں اب بھی فرق موجود ہے تاہم انہوں نے بات چیت کو مثبت اور خلیج کو کم کرنے والی قرار دیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1087966">پاکستانی معیشت بیمار ہے، اس کا بائی پاس ہو رہا ہے، وزیر خزانہ</a></strong></p>

<p>سعودی عرب کی جانب سے  پاکستان کو 3 ارب ڈالر امداد اور 3 ارب ڈالر کی مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی فراہمی جبکہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے 3 ارب ڈالر امداد کا اعلان کیا جاچکا ہے۔</p>

<p>گزشتہ سال نومبر میں دورہِ چین کے بعد وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مزید امداد حاصل ہونے کی توقع ہے البتہ اس کے حجم اور نوعیت کے بارے میں طے کرنا باقی ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ گزشتہ دو سالوں میں کرنٹ اکاؤنٹ اور مالیاتی خسارہ بڑھنے کی وجہ سے معیشت بحران کا شکار ہوگئی ہے، حکام کے مطابق پاکستان کو ان دونوں بحرانوں سے نمٹنے کے لیے کم از کم 12 ارب ڈالر درکار ہیں اور اس تناظر میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1097225</guid>
      <pubDate>Sun, 10 Feb 2019 22:38:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c60302c942f8.jpg?r=1895858414" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c60302c942f8.jpg?r=390286181"/>
        <media:title>وزیراعظم عمران خان کی آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات— فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
