<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 17:49:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 17:49:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جعلی ڈگری کے حامل ملازمین کی برطرفی پر پی آئی اے پر سینیٹرز کی تنقید
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1097400/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد: پارلیمانی فورم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) انتظامیہ کی جانب سے جعلی ڈگری کے حامل 7 پائلٹس اور 73 کیبن کریو کو برطرف کیے جانے کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو سروسز سے ہٹانے کے لیے قوانین پر عمل نہیں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1463504/senate-body-slams-pia-for-sacking-employees-with-fake-degrees"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے چیئرمین سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ’اسٹاف کو ان کی سروس سے برطرف کرنا ایک سخت کارروائی ہے، سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری کے حامل افراد کی برطرفی کا حکم نہیں دیا بلکہ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ قانون کے مطابق طریقہ کار پر عمل کریں‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کمیٹی کا اجلاس پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگری کے معاملہ اور عملے کو خاص طور پر نچلے اسٹاف کو اعلیٰ افسران کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے معاملے پر بریفنگ کے لیے منعقد ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093544"&gt;پی آئی اے کے 46 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پی آئی اے انتظامیہ پر زور دیا کہ جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کو برطرف کرنے سے قبل ان حکام کے خلاف بلاتفریق کارروائی کریں جنہوں نے ایسے افراد کی دستاویزات کی تصدیق کیے بغیر انہیں ملازمت دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگری کے حامل اسٹاف کو عہدوں سے برطرف کرنے کے بجائے ان کے خلاف تنزلی یا مراعات روکنے جیسی دیگر تادیبی کارروائی کرنی چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران اجلاس چیئرمین نے کمیٹی کے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ سروسز سے ہٹائے گئے ملازمین اور پی آئی اے یونین کے اراکین کو بلائیں اور اس معاملے پر ان کا نقطہ نظر معلوم کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ان کے جواب میں پی آئی اے کے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک، جنہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہی عہدہ سنبھالا ہے، نے انتظامیہ کی جانب سے لیے گئے سخت اقدام کی کمیٹی کو وضاحت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایئر مارشل ارشد ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ ’جعلی ڈگری کے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور یہ معاملہ زیادہ تر پائلٹس کے ساتھ آیا ہے جو آج جہاز اڑا رہے ہیں، میں نے سپریم کورٹ کو اس معاملے پر بتایا تھا کہ یہ مسافروں کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے، اگر ہم نے میرٹ پر سخت کارروائی نہیں کی تو اس طرح کی شمولیت کا کوئی اختتام نہیں ہوگا‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اسٹاف کا زیادہ تر ریکارڈ جان بوجھ کر خراب کیا گیا، پی آئی اے کی سابق انتظامیہ ضروری طریقہ کار پر عمل درآمد میں ناکام رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089323"&gt;پی آئی اے کو ماہانہ 2 ارب روپے کے آپریشنل خسارے کا سامنا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی ای او کا کہنا تھا کہ کارکردگی کے اہم اشارے ظاہر ہی نہیں کیے گئے جبکہ  تربیت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا اور تربیتی مراکز بھی غیر فعال تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اجلاس کے دوران ایئر مارشل ارشد ملک نے قومی ایئر لائن کے ماضی کے بہترین دور کی بحالی کے لیے اور ادارے سے کرپشن کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ساتھ ہی انہوں نے تاشقند، تہران، دہلی، بمبئی، نیویارک، کوپین ہیگن اور ایمسٹرڈم میں پی آئی اے کی پراپرٹریز کے دوبارہ قبضے کے حصول کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور فلائٹ میں انٹرٹینمنٹ کے موجودہ معاہدے کی بحالی کے بارے میں کی گئی کوششوں سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد: پارلیمانی فورم نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) انتظامیہ کی جانب سے جعلی ڈگری کے حامل 7 پائلٹس اور 73 کیبن کریو کو برطرف کیے جانے کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو سروسز سے ہٹانے کے لیے قوانین پر عمل نہیں کیا گیا۔</strong></p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1463504/senate-body-slams-pia-for-sacking-employees-with-fake-degrees"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کے چیئرمین سینیٹر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ ’اسٹاف کو ان کی سروس سے برطرف کرنا ایک سخت کارروائی ہے، سپریم کورٹ نے جعلی ڈگری کے حامل افراد کی برطرفی کا حکم نہیں دیا بلکہ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ قانون کے مطابق طریقہ کار پر عمل کریں‘۔</p>

<p>اس کمیٹی کا اجلاس پی آئی اے ملازمین کی جعلی ڈگری کے معاملہ اور عملے کو خاص طور پر نچلے اسٹاف کو اعلیٰ افسران کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے معاملے پر بریفنگ کے لیے منعقد ہوا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1093544">پی آئی اے کے 46 ملازمین کی ڈگریاں جعلی ہونے کا انکشاف</a></strong></p>

<p>سینیٹر مشاہد اللہ خان نے پی آئی اے انتظامیہ پر زور دیا کہ جعلی ڈگریوں کے حامل افراد کو برطرف کرنے سے قبل ان حکام کے خلاف بلاتفریق کارروائی کریں جنہوں نے ایسے افراد کی دستاویزات کی تصدیق کیے بغیر انہیں ملازمت دی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ جعلی ڈگری کے حامل اسٹاف کو عہدوں سے برطرف کرنے کے بجائے ان کے خلاف تنزلی یا مراعات روکنے جیسی دیگر تادیبی کارروائی کرنی چاہیے۔</p>

<p>دوران اجلاس چیئرمین نے کمیٹی کے سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ سروسز سے ہٹائے گئے ملازمین اور پی آئی اے یونین کے اراکین کو بلائیں اور اس معاملے پر ان کا نقطہ نظر معلوم کریں۔</p>

<p>تاہم ان کے جواب میں پی آئی اے کے سی ای او ایئر مارشل ارشد ملک، جنہوں نے گزشتہ سال اکتوبر میں ہی عہدہ سنبھالا ہے، نے انتظامیہ کی جانب سے لیے گئے سخت اقدام کی کمیٹی کو وضاحت کی۔</p>

<p>ایئر مارشل ارشد ملک نے کمیٹی کو بتایا کہ ’جعلی ڈگری کے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور یہ معاملہ زیادہ تر پائلٹس کے ساتھ آیا ہے جو آج جہاز اڑا رہے ہیں، میں نے سپریم کورٹ کو اس معاملے پر بتایا تھا کہ یہ مسافروں کی زندگی اور موت کا معاملہ ہے، اگر ہم نے میرٹ پر سخت کارروائی نہیں کی تو اس طرح کی شمولیت کا کوئی اختتام نہیں ہوگا‘۔</p>

<p>انہوں نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اسٹاف کا زیادہ تر ریکارڈ جان بوجھ کر خراب کیا گیا، پی آئی اے کی سابق انتظامیہ ضروری طریقہ کار پر عمل درآمد میں ناکام رہی۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1089323">پی آئی اے کو ماہانہ 2 ارب روپے کے آپریشنل خسارے کا سامنا</a></strong></p>

<p>سی ای او کا کہنا تھا کہ کارکردگی کے اہم اشارے ظاہر ہی نہیں کیے گئے جبکہ  تربیت کا کوئی تعین نہیں کیا گیا اور تربیتی مراکز بھی غیر فعال تھے۔</p>

<p>اجلاس کے دوران ایئر مارشل ارشد ملک نے قومی ایئر لائن کے ماضی کے بہترین دور کی بحالی کے لیے اور ادارے سے کرپشن کی بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بتایا۔</p>

<p>ساتھ ہی انہوں نے تاشقند، تہران، دہلی، بمبئی، نیویارک، کوپین ہیگن اور ایمسٹرڈم میں پی آئی اے کی پراپرٹریز کے دوبارہ قبضے کے حصول کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور فلائٹ میں انٹرٹینمنٹ کے موجودہ معاہدے کی بحالی کے بارے میں کی گئی کوششوں سے آگاہ کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1097400</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Feb 2019 10:13:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمال شاہد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c63a517b6145.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c63a517b6145.jpg"/>
        <media:title>سینیٹرز کے مطابق ایسے افراد کو سروسز سے ہٹانے کے لیے قوانین پر عمل نہیں کیا گیا — فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
