<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:24:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 12:24:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’می ٹو مہم‘ کو دھچکا: ادارے کی سربراہ مستعفی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1097845/</link>
      <description>&lt;p&gt;اکتوبر 2017 میں ہولی وڈ پروڈیوسر 68 سالہ ہاروی وائنسٹن کی جانب سے درجنوں خواتین اور اداکاروں کو کئی سال تک جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انہیں &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066225"&gt;&lt;strong&gt;ریپ کا نشانہ بنانے کی خبریں&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سامنے آنے کے بعد دنیا میں تہلکہ مچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی طور پر ہاروی وائنسٹن پر 30 خواتین و اداکاراؤں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات لگائے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں ان پر الزام لگانے والی خواتین کی تعداد 100 تک پہنچ گئی تھی اور ان کی شکار خواتین میں معروف اداکارائیں بھی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہاروی وائنسٹن کی جانب سے کئی سال تک خواتین کو ہراساں کیے جانے کے بعد ہی سوشل میڈیا پر ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس واقعے کے بعد دیگر خواتین و اداکارائیں بھی سامنے آئیں اور انہوں نے فلم انڈسٹری کے طاقتور مردوں کے خلافات الزامات لگائے۔
ہاروی وائنسٹن کے علاوہ بل کوسبی اورکیون اسپیسی سمیت دیگر اداکاروں پر الزامات لگے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’می ٹو مہم‘ کو دنیا بھر سے حمایت حاصل ہوئی تھی، جس کے بعد اس مہم کو چلانے والی خواتین نے امریکی حکومت کے تعاون سے &lt;a href="https://www.timesupnow.com/"&gt;&lt;strong&gt;’ٹائمز اپ‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نامی ادارہ قائم کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6be9e8ee782.jpg"  alt="لیزا بارڈر نے می ٹو مہم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا&amp;mdash;فوٹو: پریس فورم" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;لیزا بارڈر نے می ٹو مہم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا—فوٹو: پریس فورم&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ادارے کا مقصد جنسی طور پر ہراساں کی گئی خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ ’می ٹو مہم‘ اکتوبر 2017 میں شروع ہوئی تھی، تاہم ’ٹائمز اپ‘ کی تشکیل جنوری 2018 میں کئی گئی تھی اور اس ادارے کی پہلی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) &lt;a href="https://www.instagram.com/lisa_borders/"&gt;&lt;strong&gt;لیزا بارڈر&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو تعینات کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5c6bed3dcdfe0'&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066729"&gt;’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;لیزا بارڈر نے بطور ٹائمز اپ کی سی ای او کئی کارنامے سر انجام دیے، انہوں نے خواتین کو ہراساں کرنے والے طاقتور افراد کو قانون کے کٹہڑے میں لانے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اب انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6bec992c6f9.jpg"  alt="می ٹو کی کامیابی کے بعد ہی ٹائمز اپ کی تشکیل کی گئی تھی&amp;mdash;فوٹو: واشنگٹن ایگزامنر" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;می ٹو کی کامیابی کے بعد ہی ٹائمز اپ کی تشکیل کی گئی تھی—فوٹو: واشنگٹن ایگزامنر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹائمز اپ کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیے گئے ٹوئیٹ میں بتایا گیا کہ 61 سالہ لیزا بارڈر نے ذاتی اور خاندانی وجوہات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h6 id='5c6bed3dce061'&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085821"&gt;می ٹو مہم شروع کرنے والی اداکارہ پر کم عمر لڑکے کا ریپ کرنے کا الزام&lt;/a&gt;&lt;/h6&gt;

&lt;p&gt;اسی ٹوئیٹ میں لیزا بارڈر اور ادارے کی جانب سے جاری بیان بھی جاری کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹائمز اپ نے بھی ان کے مستعفیٰ ہونے کی تصدیق کردی ہے، ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کی جگہ اداکارہ ربیکا گولڈمین عارضی طور پر سی ای او کا عہدہ سنبھالیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیزا بارڈر ٹائمز اپ کی سی ای او بننے سے قبل بھی امریکا کی متعدد تنظیموں کی سربراہ رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ ویمن نیشنل باسک بال ایسوسی ایشن کی صدر اور ملٹی نیشنل مشروب کمپنی کوکا کی گلوبل افیئر کمیونٹی کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/TIMESUPNOW/status/1097624450902548480"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;
            &lt;script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'&gt;&lt;/script&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اکتوبر 2017 میں ہولی وڈ پروڈیوسر 68 سالہ ہاروی وائنسٹن کی جانب سے درجنوں خواتین اور اداکاروں کو کئی سال تک جنسی طور پر ہراساں کرنے اور انہیں <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066225"><strong>ریپ کا نشانہ بنانے کی خبریں</strong></a> سامنے آنے کے بعد دنیا میں تہلکہ مچ گیا تھا۔</p>

<p>ابتدائی طور پر ہاروی وائنسٹن پر 30 خواتین و اداکاراؤں نے جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ریپ کے الزامات لگائے تھے۔</p>

<p>بعد ازاں ان پر الزام لگانے والی خواتین کی تعداد 100 تک پہنچ گئی تھی اور ان کی شکار خواتین میں معروف اداکارائیں بھی تھیں۔</p>

<p>ہاروی وائنسٹن کی جانب سے کئی سال تک خواتین کو ہراساں کیے جانے کے بعد ہی سوشل میڈیا پر ’می ٹو مہم‘ کا آغاز ہوا تھا۔</p>

<p>اس واقعے کے بعد دیگر خواتین و اداکارائیں بھی سامنے آئیں اور انہوں نے فلم انڈسٹری کے طاقتور مردوں کے خلافات الزامات لگائے۔
ہاروی وائنسٹن کے علاوہ بل کوسبی اورکیون اسپیسی سمیت دیگر اداکاروں پر الزامات لگے تھے۔</p>

<p>’می ٹو مہم‘ کو دنیا بھر سے حمایت حاصل ہوئی تھی، جس کے بعد اس مہم کو چلانے والی خواتین نے امریکی حکومت کے تعاون سے <a href="https://www.timesupnow.com/"><strong>’ٹائمز اپ‘</strong></a> نامی ادارہ قائم کیا تھا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6be9e8ee782.jpg"  alt="لیزا بارڈر نے می ٹو مہم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا&mdash;فوٹو: پریس فورم" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">لیزا بارڈر نے می ٹو مہم کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا—فوٹو: پریس فورم</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس ادارے کا مقصد جنسی طور پر ہراساں کی گئی خواتین کو قانونی مدد فراہم کرنا تھا۔</p>

<p>اگرچہ ’می ٹو مہم‘ اکتوبر 2017 میں شروع ہوئی تھی، تاہم ’ٹائمز اپ‘ کی تشکیل جنوری 2018 میں کئی گئی تھی اور اس ادارے کی پہلی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) <a href="https://www.instagram.com/lisa_borders/"><strong>لیزا بارڈر</strong></a> کو تعینات کیا گیا تھا۔</p>

<h6 id='5c6bed3dcdfe0'>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1066729">’می ٹو‘: جنسی طور پر ہراساں ہونے والی خواتین کی مہم نے دنیا کو ہلا دیا</a></h6>

<p>لیزا بارڈر نے بطور ٹائمز اپ کی سی ای او کئی کارنامے سر انجام دیے، انہوں نے خواتین کو ہراساں کرنے والے طاقتور افراد کو قانون کے کٹہڑے میں لانے کے لیے اقدامات بھی اٹھائے۔</p>

<p>تاہم اب انہوں نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c6bec992c6f9.jpg"  alt="می ٹو کی کامیابی کے بعد ہی ٹائمز اپ کی تشکیل کی گئی تھی&mdash;فوٹو: واشنگٹن ایگزامنر" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">می ٹو کی کامیابی کے بعد ہی ٹائمز اپ کی تشکیل کی گئی تھی—فوٹو: واشنگٹن ایگزامنر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ٹائمز اپ کے ٹوئٹر ہینڈل سے شیئر کیے گئے ٹوئیٹ میں بتایا گیا کہ 61 سالہ لیزا بارڈر نے ذاتی اور خاندانی وجوہات کے باعث عہدے سے استعفیٰ دیا۔</p>

<h6 id='5c6bed3dce061'>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1085821">می ٹو مہم شروع کرنے والی اداکارہ پر کم عمر لڑکے کا ریپ کرنے کا الزام</a></h6>

<p>اسی ٹوئیٹ میں لیزا بارڈر اور ادارے کی جانب سے جاری بیان بھی جاری کیا گیا۔</p>

<p>ٹائمز اپ نے بھی ان کے مستعفیٰ ہونے کی تصدیق کردی ہے، ساتھ ہی کہا ہے کہ ان کی جگہ اداکارہ ربیکا گولڈمین عارضی طور پر سی ای او کا عہدہ سنبھالیں گی۔</p>

<p>لیزا بارڈر ٹائمز اپ کی سی ای او بننے سے قبل بھی امریکا کی متعدد تنظیموں کی سربراہ رہ چکی ہیں۔</p>

<p>وہ ویمن نیشنل باسک بال ایسوسی ایشن کی صدر اور ملٹی نیشنل مشروب کمپنی کوکا کی گلوبل افیئر کمیونٹی کی نائب صدر بھی رہ چکی ہیں۔</p>

<figure class='media  issue1144 w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/TIMESUPNOW/status/1097624450902548480"></a>
            </blockquote>
            <script src='https://platform.twitter.com/widgets.js'></script></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1097845</guid>
      <pubDate>Tue, 19 Feb 2019 16:49:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c6be9a27f4ae.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c6be9a27f4ae.jpg"/>
        <media:title>لیزا بارڈر نے ذاتی وجوہات کی وجہ سے استعفیٰ دیا—فوٹو: گلیمرس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
