<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 13:21:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 13:21:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فنڈز جمع کرنے کا مقصد ڈیم کی تعمیر نہیں آگہی تھی، سابق چیف جسٹس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1098090/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور لٹریری فیسٹول (ایل ایل ایف) میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو پاکستان کے آبی مسائل پر گفتگو کے لیے دعوت دی گئی تھی جہاں انہوں نے کہا کہ ‘اپنے ملک کے پانی کے لیے میں ہر طرح کی تنقید برداشت کرنے کو تیار ہوں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الحمرا آرٹس کونسل کے پرہجوم ہال نمبر ایک میں کئی افراد سابق چیف جسٹس کو دیکھنے کے لیے آئے تھے جہاں ہر بات پر تالیاں بجتی تھیں اور جاتے وقت ان کے چاہنے والوں نے انہیں گھیر لیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا کہ ‘ڈیم بنانے کے لیے دیے گئے حکم پر میں تنقید سننے کو تیار ہوں کہ آیا یہ سپریم کورٹ اور میری طرف سے برا قدم تھا یا پاکستان کے عوام کے مستقبل کے لیے اچھا قدم تھا’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/zaczPlPvrFA?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں سال جنوری میں سابق چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے عدلیہ کے تجاوز پر یہ سوال اور سابق چیف جسٹس پر تنقید کی جاتی تھی یہاں تک پینل کی نظامت کرنے والی رینا سعید خان نے بھی آبی مسائل پر تبادلہ خیال کے دوران سوالات کو محدود رکھنے کی درخواست کی لیکن یہ ناممکن تھا کہ سیشن میں ساست نہ ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092913"&gt;میرے جانے کے بعد ڈیم تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے، چیف جسٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک مداح نے مائیک ہاتھ میں لے کر سابق جسٹس کی تعریفوں کے پل باندھے اور کہا کہ ‘کسی سیاست دان یا لیڈر نے ڈیم کا معاملہ کیوں نہیں اٹھایا، انہوں نے آپ کا انتظار کیوں کیا، کیا وہ بھی وہی درد محسوس کرتے ہیں جو آپ کرتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اس مقصد کو جاری رکھیں گے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق چیف جسٹس نے ان کی تعریف پر شکریہ ادا کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c7016f1e5df0.jpg"  alt="سابق چیف جسٹس کو ان کے مداحوں نے گھیر لیا&amp;mdash;وٹو:شاہ بانو علی خان/ڈان ڈاٹ کام" /&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سابق چیف جسٹس کو ان کے مداحوں نے گھیر لیا—وٹو:شاہ بانو علی خان/ڈان ڈاٹ کام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے ہدف کے حوالے سے تخمینے پر کی گئی بات سے متعلق سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ‘ہم نہیں سمجھتے تھے کہ یہ رقم منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کافی ہوگی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095068"&gt;ڈیم فنڈ کی مہم میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، چیف جسٹس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا کہ ‘ہم آگاہی پھیلانا چاہتے تھے اور لوگوں کو اس کی اہمیت سمجھانا چاہتے تھے، اگر ان عطیات کے ذریعے ہم 15 ارب روپے جمع کرپائے تو پھر یہ ایک کامیابی ہوگی’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘اس رقم کو کبھی بھی 100 فیصد تعمیر میں استعمال کرنے کا ارادہ نہیں کیا گیا تھا تاہم اس کے ذریعے یہ ایک مہم بن گئی’ اور جب کانفرنس میں ڈیم فنڈ کا یہ خیال پیش کیا گیا تو تو لوگ پرجوش تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سیشن کے آغاز میں سابق جسٹس نے ڈیم فنڈ کے خیال اور اس پر عمل در آمد کا دفاع کرتے ہوئے ایک تقریر کی اور کہا کہ ‘لوگ میرے پاس اپنی تمام پنشن عطیہ کرنے کے لیے آتے تھے، چھوٹے بچے میرے پاس آئے، ایک جذبہ تھا، مجھے یقین ہے کہ یہ جاری رہے گا، ہم نے تجویز دی ہے کہ کس طرح اس فنڈ کو بلز اور بونڈز وغیرہ کے ذریعے بڑھایا جاسکتا ہے’۔    &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ براہ راست زندہ رہنے کے حق سے منسلک ہے، آئین کہتا ہے کہ اگر بنیادی حق کا سوال ہوتو پھر سپریم کورٹ کو عوامی املاک کے تحفظ کے لیے مداخلت کا حق حاصل ہے، اسی شق کے تحت میں نے زندہ رہنے کے بنیادی حق کے لیے حکومت کو احکامات جاری کیے’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091820"&gt;’پانی کا بحران حل نہیں ہوا تو لوگ ملک سےہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینل میں شامل ٹیکنوکریٹ شمس الملک کی عدم حاضری پر ان کی جگہ آنے والے احمد رشید بھٹی نے ثاقب نثار کی ڈھیروں تعریف کے ساتھ کہا کہ ‘آبی وسائل میں 40 سالہ سروس میں ہم نے پاکستان کے لوگوں کو پانی کے مسائل اور بڑھتےہوئے بحران سے آگاہ کرنے کے لیے بہت سارے سمینارز کروائے، ہم کامیاب نہیں ہوئے اس لیے میں ثاقب نثار کی تعریف کروں گا کیونکہ میں جو برسوں میں نہیں کرسکا تھا سابق چیف جسٹس نے چند ماہ میں کیا’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آبی ماہر اور پالیسی ساز ارم ستار بھی پینل میں شامل تھیں جنہوں نے ڈھانچے کی تعمیر کے علاوہ پانی کے تحفظ کے دیگر پہلووں پر بھی روشنی ڈالی۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آخر میں احمد رشید بھٹی نے جسٹس (ر) ثاقب نثار کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لیے صرف پاکستانی ماہرین کی شراکت کے حوالے سے دلچسپ بات کی اور کہا کہ ‘آپ نے کہا کہ کوئی غیرملکی ماہر شامل نہ ہولیکن ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں یہ مسئلہ وزنی ہو اور اس مہارت کے مقابلے میں پیسوں کی بچت بہت تھوڑی ہے’۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور لٹریری فیسٹول (ایل ایل ایف) میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو پاکستان کے آبی مسائل پر گفتگو کے لیے دعوت دی گئی تھی جہاں انہوں نے کہا کہ ‘اپنے ملک کے پانی کے لیے میں ہر طرح کی تنقید برداشت کرنے کو تیار ہوں’۔</p>

<p>الحمرا آرٹس کونسل کے پرہجوم ہال نمبر ایک میں کئی افراد سابق چیف جسٹس کو دیکھنے کے لیے آئے تھے جہاں ہر بات پر تالیاں بجتی تھیں اور جاتے وقت ان کے چاہنے والوں نے انہیں گھیر لیا تھا۔</p>

<p>جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا کہ ‘ڈیم بنانے کے لیے دیے گئے حکم پر میں تنقید سننے کو تیار ہوں کہ آیا یہ سپریم کورٹ اور میری طرف سے برا قدم تھا یا پاکستان کے عوام کے مستقبل کے لیے اچھا قدم تھا’۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-4/5 w-full  media--center   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/zaczPlPvrFA?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>رواں سال جنوری میں سابق چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے عدلیہ کے تجاوز پر یہ سوال اور سابق چیف جسٹس پر تنقید کی جاتی تھی یہاں تک پینل کی نظامت کرنے والی رینا سعید خان نے بھی آبی مسائل پر تبادلہ خیال کے دوران سوالات کو محدود رکھنے کی درخواست کی لیکن یہ ناممکن تھا کہ سیشن میں ساست نہ ہو۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1092913">میرے جانے کے بعد ڈیم تحریک کو بند نہ ہونے دیا جائے، چیف جسٹس</a></strong></p>

<p>آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک مداح نے مائیک ہاتھ میں لے کر سابق جسٹس کی تعریفوں کے پل باندھے اور کہا کہ ‘کسی سیاست دان یا لیڈر نے ڈیم کا معاملہ کیوں نہیں اٹھایا، انہوں نے آپ کا انتظار کیوں کیا، کیا وہ بھی وہی درد محسوس کرتے ہیں جو آپ کرتے ہیں اور مجھے امید ہے کہ آپ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اس مقصد کو جاری رکھیں گے’۔</p>

<p>سابق چیف جسٹس نے ان کی تعریف پر شکریہ ادا کیا۔</p>

<figure class='media  issue1144 sm:w-1/3 w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/02/5c7016f1e5df0.jpg"  alt="سابق چیف جسٹس کو ان کے مداحوں نے گھیر لیا&mdash;وٹو:شاہ بانو علی خان/ڈان ڈاٹ کام" /></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سابق چیف جسٹس کو ان کے مداحوں نے گھیر لیا—وٹو:شاہ بانو علی خان/ڈان ڈاٹ کام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>حکومت کی جانب سے ہدف کے حوالے سے تخمینے پر کی گئی بات سے متعلق سابق چیف جسٹس نے کہا کہ ‘ہم نہیں سمجھتے تھے کہ یہ رقم منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے کافی ہوگی’۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1095068">ڈیم فنڈ کی مہم میں میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، چیف جسٹس</a></strong></p>

<p>جسٹس (ر) ثاقب نثار نے کہا کہ ‘ہم آگاہی پھیلانا چاہتے تھے اور لوگوں کو اس کی اہمیت سمجھانا چاہتے تھے، اگر ان عطیات کے ذریعے ہم 15 ارب روپے جمع کرپائے تو پھر یہ ایک کامیابی ہوگی’۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘اس رقم کو کبھی بھی 100 فیصد تعمیر میں استعمال کرنے کا ارادہ نہیں کیا گیا تھا تاہم اس کے ذریعے یہ ایک مہم بن گئی’ اور جب کانفرنس میں ڈیم فنڈ کا یہ خیال پیش کیا گیا تو تو لوگ پرجوش تھے۔</p>

<p>سیشن کے آغاز میں سابق جسٹس نے ڈیم فنڈ کے خیال اور اس پر عمل در آمد کا دفاع کرتے ہوئے ایک تقریر کی اور کہا کہ ‘لوگ میرے پاس اپنی تمام پنشن عطیہ کرنے کے لیے آتے تھے، چھوٹے بچے میرے پاس آئے، ایک جذبہ تھا، مجھے یقین ہے کہ یہ جاری رہے گا، ہم نے تجویز دی ہے کہ کس طرح اس فنڈ کو بلز اور بونڈز وغیرہ کے ذریعے بڑھایا جاسکتا ہے’۔    </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ براہ راست زندہ رہنے کے حق سے منسلک ہے، آئین کہتا ہے کہ اگر بنیادی حق کا سوال ہوتو پھر سپریم کورٹ کو عوامی املاک کے تحفظ کے لیے مداخلت کا حق حاصل ہے، اسی شق کے تحت میں نے زندہ رہنے کے بنیادی حق کے لیے حکومت کو احکامات جاری کیے’۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1091820">’پانی کا بحران حل نہیں ہوا تو لوگ ملک سےہجرت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے‘</a></strong></p>

<p>پینل میں شامل ٹیکنوکریٹ شمس الملک کی عدم حاضری پر ان کی جگہ آنے والے احمد رشید بھٹی نے ثاقب نثار کی ڈھیروں تعریف کے ساتھ کہا کہ ‘آبی وسائل میں 40 سالہ سروس میں ہم نے پاکستان کے لوگوں کو پانی کے مسائل اور بڑھتےہوئے بحران سے آگاہ کرنے کے لیے بہت سارے سمینارز کروائے، ہم کامیاب نہیں ہوئے اس لیے میں ثاقب نثار کی تعریف کروں گا کیونکہ میں جو برسوں میں نہیں کرسکا تھا سابق چیف جسٹس نے چند ماہ میں کیا’۔</p>

<p>آبی ماہر اور پالیسی ساز ارم ستار بھی پینل میں شامل تھیں جنہوں نے ڈھانچے کی تعمیر کے علاوہ پانی کے تحفظ کے دیگر پہلووں پر بھی روشنی ڈالی۔  </p>

<p>آخر میں احمد رشید بھٹی نے جسٹس (ر) ثاقب نثار کی جانب سے ڈیم کی تعمیر کے لیے صرف پاکستانی ماہرین کی شراکت کے حوالے سے دلچسپ بات کی اور کہا کہ ‘آپ نے کہا کہ کوئی غیرملکی ماہر شامل نہ ہولیکن ہم چاہتے ہیں کہ دنیا میں یہ مسئلہ وزنی ہو اور اس مہارت کے مقابلے میں پیسوں کی بچت بہت تھوڑی ہے’۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1098090</guid>
      <pubDate>Sat, 23 Feb 2019 01:43:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عاتکہ رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2019/02/5c705bce8e866.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2019/02/5c705bce8e866.jpg"/>
        <media:title>سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے لاہور لٹریری فیسٹول میں گفتگو کی—فوٹو:شاہ بانو علی خان/ڈان ڈاٹ کام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
